Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیلی وزیر اتمار بن گویر کے تازہ اشتعال انگیز بیان پر ایران کا سخت رد عمل

Updated: August 17, 2026, 4:55 PM IST | Tal Aviv

اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف مزید ہلاکت خیز کارروائیوں اور بڑے پیمانے پر بے دخلی کی حمایت کرتے ہوئے ایک بار پھر اشتعال انگیز بیان دیا ہے۔ ان کے تازہ بیان پر ایران سمیت مختلف حلقوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

Ben Gvir. Photo: INN.
اتمار بن گویر۔ تصویر: آئی این این

اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے فلسطینیوں کی نسل کشی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک اور چونکا دینے والا بیان دیا ہے۔ ایک پوڈکاسٹ میں انہوں نے کہا کہ اسرائیلی افواج کو چاہئےکہ وہ ’’ہر رات غزہ میں ۳۰؍ یا۴۰؍ افراد کو ہلاک کریں ‘‘ اور ’’اس وقت خطرہ بننے والے افراد‘‘ تک محدود نہ رہیں۔ انہوں نے پوری غزہ پٹی میں یہودی بستیاں تعمیر کرنے کی حمایت کی اور فلسطینی آبادی کو غزہ سے مستقل طور پر منصوبہ بند طریقے سے بڑے پیمانے پر دوسرے ممالک منتقل کرنے کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’دہشت گردوں ‘‘ کو ہجرت کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے بلکہ انہیں ’’ایک ایک کرکے‘‘ ہلاک کیا جانا چاہئے۔ بن گویر نے یہ تبصرے روم براسلاوسکی کے پوڈکاسٹ میں کیے، جو غزہ میں قید رہنے والا ایک سابق اسرائیلی یرغمالی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بورڈ آف پیس اسرائیل کو غزہ امن منصوبہ قبول کرنے پر مجبور کرے، حماس کا مطالبہ

بن گویر کے انتہائی اشتعال انگیز بیانات کی طویل فہرست
یہ بیانات بن گویر کے انتہائی متنازع اور اشتعال انگیز بیانات کے طویل سلسلے کی تازہ کڑی ہیں۔ بن گویر وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی اتحادی حکومت میں شامل ہیں اور اسرائیل کی پولیس اور جیل خدمات کے ذمہ دار ہیں۔ جولائی۲۰۲۶ءمیں وہ آبادکاروں کی ایک مارچ میں شریک ہوئے اور کہا: ’’پوری غزہ میں یہودی بستیاں ہوں گی۔ اور ہم ہجرت کی حوصلہ افزائی کریں گے، اور ضرورت کے مطابق انہیں ان کے ممالک بھیج دیں گے۔ اور ہم اپنے گھر واپس آ رہے ہیں۔ غزہ ہمارا ہے۔ ‘‘ اگست۲۰۲۵ء میں مسجد اقصیٰ کے احاطے کے دورے کے دوران بن گویر نے غزہ پر مکمل فوجی قبضے اور اس کے الحاق کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے اس علاقے پر اسرائیلی خودمختاری بڑھانے کی حمایت کرتے ہوئے اس کی فلسطینی آبادی کو واضح طور پر بے دخل کرنے کی وکالت بھی کی تھی۔ اس سے قبل۲۰۲۳ء میں بھی بن گویر نے فوجی کارروائیوں میں کن لوگوں کو نشانہ بنایا جانا چاہئے، اس حوالے سے وسیع پیمانے پر سخت زبان استعمال کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا: ’’جب ہم کہتے ہیں کہ حماس کو تباہ کیا جانا چاہئے، تو اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ جشن منانے والے، حمایت کرنے والے اور مٹھائیاں تقسیم کرنے والے لوگ بھی اس میں شامل ہیں —وہ سب دہشت گرد ہیں اور انہیں بھی تباہ کر دینا چاہئے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: مکہ معاہدہ سے ٹرمپ ’بہت خوش‘، ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کو مبارکباد دی

ایران نے بن گویر کے بیانات کی مذمت کی ہے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ اس طرح کے بیانات کو مستقبل میں احتساب اور قانونی کارروائی کیلئے دستاویزی شکل میں محفوظ کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا: ’’یہ صہیونی مجرم بیک وقت فلسطینیوں کو بے دخل کرنے اور پوری غزہ میں بستیاں تعمیر کرنے کی بات کر رہا ہے۔ ان اعترافات کو محفوظ اور ریکارڈ کیا جانا چاہئے تاکہ حساب اور ان مجرموں کے خلاف مقدمے کا دن آنے پر انہیں پیش کیا جا سکے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK