• Wed, 28 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی سینیٹر نے ۹؍امریکی مسلمانوں کے قتل پر اسرائیل کی جوابدہی کا مطالبہ کیا

Updated: October 28, 2026, 1:07 PM IST | Agency | Washington

کرس وان ہولن نے ۲۰۲۲ء سے اب تک مغربی کنارے میں ہلاک ہونے والے ۹؍امریکی شہریوں کیلئے انصاف کے مطالبے کااعادہ کیا۔

US Senator Chris Van Hollen. Photo: INN
امریکی سینیٹر کرس وان ہولن۔ تصویر: آئی این این

سینیٹر کرس وان ہولن کا اسرائیل کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے ۹؍ امریکی شہریوں کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا۔امریکی سینیٹر کرس وان ہولن نے ۲۰۲۲ء سے اب تک مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے نو امریکی شہریوں کے لیے جوابدہی اور انصاف کے اپنے مطالبے کو ایک بار پھر دوہرایا ہے۔اپنے ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کیے گئے ایک ویڈیو میں سینیٹ کے فلور پر تقریر کرتے ہوئے وان ہولن نے کہا کہ میں اپنے ساتھیوں کو ان نو امریکی شہریوں کے بارے میں بتانے کے لیے چند منٹ لینا چاہتا ہوں جنہیں پچھلے چار سالوں کے دوران اسرائیلی آباد کاروں یا اسرائیلی سیکورٹی فورسز نے ہلاک کیا ہے۔ ہلاک ہونےمیں عمر اسد (عمر ۷۸؍ سال)،الجزیرہ کی صحافی شیریں ابو عاقلہ (عمر ۵۱؍ سال)،توفیق عبدالجبار (عمر ۱۷؍ سال)،محمد خضور (عمر ۱۷؍ سال)،ترک-امریکی کارکن عائشہ نور ایزگی ایگی (عمر ۲۶؍ سال)،عامر ربیع (عمر ۱۴؍ سال)،سیف مصلط (عمر ۲۰؍ سال)، خمیس عیاد (عمر ۴۰؍ سال)،نصر اللہ ابو صیام (عمر ۱۹؍ سال) ہیں۔ سینیٹر وان ہولن نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے جنوری ۲۰۲۲ء میں عمر اسد کو ایک چوکی پر روکا اور انہیں گاڑی سے باہر گھسیٹا۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: ٹرمپ کی حمایت کے باوجود سٹہ بازار میں نیتن یاہو کی شکست کی پیش گوئی

 انہوں نے ان کے ہاتھ پیٹھ پیچھے باندھ دیے، ان کا منہ بند کر دیا، ان کی آنکھوں پر پٹی باندھی اور انہیں باہر زمین پر پڑا چھوڑ دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمر اسد کی موت شدید ذہنی دباؤ کے باعث دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔مئی ۲۰۲۲ء میں جنین پناہ گزین کیمپ کے قریب اسرائیلی فورسز نے شیریں ابو عاقلہ کے سر میں گولی مار کر انہیں ہلاک کر دیا تھا۔ وان ہولن نے کہاکہ جب انہیں ہلاک کیا گیا، تو انہوں نے ایک چمکدار نیلے رنگ کی جیکٹ پہن رکھی تھی، جس سے واضح طور پر ان کی شناخت ایک صحافی کے طور پر ہو رہی تھی۔انہوں نے بتایا کہ سیئٹل میں پرورش پانے والی عائشہ نور ایزگی ایگی کو ستمبر۲۰۲۴ءمیں ایک اسرائیلی فوجی نے تقریباً ۲۰۰؍ میٹر کے فاصلے سے سر میں گولی ماری تھی۔ انہوں نے یہ بھی شامل کیا کہ عامر ربیع کو دو مختلف ہتھیاروں سے ۱۱؍ بار گولی ماری گئی۔وان ہولن نے اسرائیل کے لیے امریکی سفیر مائیک ہکابی کے بیان کا بھی حوالہ دیا، جنہوں نے سیف مصلط کے قتل کو ایک مجرمانہ اور دہشت گردانہ کارروائی قرار دیا تھا۔وان ہولن نے سوال اٹھایاکہ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس کی جوابدہی ہونی چاہیےتو پھر اب تک کوئی جوابدہی کیوں نہیں ہوئی؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK