بدھ کی صبح وڈالا میں واقع مہندرا کمپنی کے کاروں کے سروس سینٹر میں اندوہناک حادثہ پیش آیا جس میں ملازمین کی لاپروائی سے یہاں کام کرنے والے شخص کی کار کی ٹکر سے موت ہوگئی۔اس حادثہ میں جان گنوانے والے شخص کا نام ساجد علی مختار علی شیخ (۳۴) ہے جو سیوڑی کے آزاد نگر میں ہاشمیہ مسجد کے قریب رہائش پزیر تھا۔
ساجد علی مختار علی شیخ۔ تصویر: آئی این این
بدھ کی صبح وڈالا میں واقع مہندرا کمپنی کے کاروں کے سروس سینٹر میں اندوہناک حادثہ پیش آیا جس میں ملازمین کی لاپروائی سے یہاں کام کرنے والے شخص کی کار کی ٹکر سے موت ہوگئی۔اس حادثہ میں جان گنوانے والے شخص کا نام ساجد علی مختار علی شیخ (۳۴) ہے جو سیوڑی کے آزاد نگر میں ہاشمیہ مسجد کے قریب رہائش پزیر تھا۔ ساجد نے اسی سال جنوری میں ’۳؍ ایم بھاویکا انٹرپرائزز‘ میں ملازمت حاصل کی تھی۔ اس کمپنی کے مالک شیلارکا نے مہندرا کمپنی سے وابستہ ’اَرنو آٹو موبائل پرائیویٹ لمیٹڈ‘ سے معاہدہ کیا تھا جس کے تحت ساجد شیخ اور اس کے ۳؍ ساتھی ملازمین کو ارنو کمپنی کے وڈالا میں واقع سروس سینٹر پر موٹر کاروں کی پالش کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی جس کی وجہ سے ان چاروں افراد کو اسی جگہ کام کرنا ہوتا تھا۔ یہاں گاڑیوں پر مختلف مراحل میں کام ہوتا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: پیاز کی بڑھتی قیمتوں سےصارفین کی آنکھوں میں آنسو
متوفی ساجد شیخ کے چھوٹے بھائی رمضان علی نے پولیس میں درج شکایت میں کہا ہے کہ اسے مہندرا کمپنی کے منیجر ستیش سپکال نے حادثہ کی تفصیل اس طرح بتائی ہے کہ بدھ ۸؍ ستمبر کو صبح تقریباً ساڑھے ۱۱؍ بجے ساجد اور اس کا ساتھی منظور گاڑی دھونے کے حصہ میں دیوار سے ٹیک لگا ئے بیٹھے تھے۔ اس وقت ان کا ۱۷؍ سالہ ساتھی ایک ایس یو وی کار میں بیٹھ کر اندرونی حصہ کا کام کررہا تھا لیکن اس نے گاڑی کو چالو چھوڑ دیا اور گاڑی سے نکل کر باہر آگیا۔ گاڑی چالو ہونے کی وجہ سےوہ اچانک چل پڑی اور سامنے بیٹھے ساجد کو اس زور سے ٹکر ماری کہ وہ جس دیوار سے ٹیک لگاکر وہ بیٹھا تھا ،اس میں دراڑ پڑ گئی اور ساجد شدید زخمی ہوگیا۔ اس حادثہ میں منظور بھی معمولی زخمی ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایپ ٹیکسیوں کے ڈرائیوروں کے ڈومیسائل اور مراٹھی کے دستاویز طلب
ساجد شیخ کو فوری طور پر کے ای ایم اسپتال لے جایا گیا جہاں اسے وینٹیلیٹر پر رکھا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاکر ا نتقال کرگیا۔
وڈالا پولیس نے رمضان شیخ کی شکایت پر ایک نابالغ لڑکے سمیت ساجد کے ساتھی ملازم منوج شیوریکر، سپر وائزر جعفر شیخ اور نابالغ لڑکے کو بڑی ذمہ داری سونپنے والے سپرشائن کمپنی کے ٹھیکیدار محمد گڈو خان کے خلاف کیس درج کرلیا ہے۔ رمضان نے مہندرا اور ارنو کمپنی کےدیگرعہدیداروں کو بھی اس حادثہ کا ذمہ دار قرار دیا ہے لیکن فی الحال ان میں سے کسی کا نام ایف آئی آر میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔
ساجد شیخ کے پسماندگان میں والدین اور ۲۹؍ سالہ اہلیہ فریدہ ہے۔ ان کے ۳؍ بھائی بھی ہیں جو اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔