Updated: September 07, 2026, 8:02 PM IST
| Tel Aviv
اسرائیل میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کے رکن پارلیمنٹ گیلاد کاریو نے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے ’’اسرائیلی معاشرے کی بقا کی ضرورت‘‘ قرار دیا ہے۔ کاریو نے نیتن یاہو پر ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے واقعات سے متعلق اسرائیلی فوج کی تحقیقات سے نمٹنے سے گریز کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے قومی سلامتی کے معاملے میں بار بار اسرائیل کو ’’ترک‘‘ کیا اور ’’مکمل نااہلی‘‘ کا مظاہرہ کیا۔
اسرائیل میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کے رکن پارلیمنٹ گیلاد کاریو۔ تصویر: آئی این این
اسرائیلی اپوزیشن رکن گیلاد کاریو نے سنیچر کو ایکس پر جاری بیان میں وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو کی وزارت عظمیٰ سے علیحدگی ’’اسرائیلی معاشرے کی بقا کی ضرورت‘‘ ہے۔ کاریو نے خاص طور پر ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو حماس کے حملے سے متعلق اسرائیلی فوج کی جاری تحقیقات پر نیتن یاہو کے ردعمل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق جس طرح نیتن یاہو نے ۷؍ اکتوبر کے بعد غزہ کے قریب واقع کِبّوتز کا کئی ماہ تک دورہ نہیں کیا، اسی طرح وہ فوجی تحقیقات میں سامنے آنے والے واقعات سے بھی نمٹنے سے گریز کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ نیتن یاہو نے اسرائیل کی سلامتی کو بار بار ’’ترک‘‘ کیا اور قومی سلامتی کے انتظام میں ’’مکمل نااہلی‘‘ کا مظاہرہ کیا۔ کاریو نے کہا کہ ایسے شخص کو اسرائیل اور اس کے بچوں کے مستقبل سے متعلق فیصلے کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: کروشیا: ہزاروں ٹن کوڑاکرکٹ ہٹانے میں تاخیر پر حکومت کے خلاف زبردست احتجاج
۷؍ اکتوبر کے حملے سے متعلق احتساب کا معاملہ اسرائیل کی داخلی سیاست میں مسلسل تنازع کا باعث بنا ہوا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں اور اسرائیلی معاشرے کے مختلف حلقے واقعے سے پہلے اور اس کے دوران ہونے والی ناکامیوں کی تحقیقات کے لیے باقاعدہ ریاستی تحقیقاتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں، تاہم نیتن یاہو کی حکومت نے اس طریقۂ کار کی مخالفت کرتے ہوئے سیاسی طور پر مقرر کردہ تحقیقاتی نظام کی حمایت کی ہے۔ اسرائیلی کنیسٹ کے انتخابات ۲۷؍ اکتوبر کو ہونے والے ہیں، جس کے باعث نیتن یاہو کی حکومت پر سیاسی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔ حالیہ رپورٹوں کے مطابق نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ کو رائے عامہ کے جائزوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: انڈونیشیا: آتش فشاں کی راکھ سے۵؍ ہوائی اڈے متاثر آپریشن معطل، سیکڑوں پروازیں منسوخ
۷؍ اکتوبر کے واقعات سے متعلق فوجی تحقیقات کے معاملے میں اسرائیلی کنیسٹ کی ایک ذیلی کمیٹی بھی فوج کی داخلی تحقیقات کا جائزہ لے رہی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان واقعات کی ذمہ داری اور سلامتی سے متعلق ناکامیوں کا سوال اب بھی اسرائیلی سیاسی نظام کے ایجنڈے میں نمایاں ہے۔ اس سے قبل ایک غیر سرکاری اسرائیلی سول تحقیقاتی کمیٹی نے بھی 7 اکتوبر کی ناکامیوں میں نیتن یاہو اور دیگر سیاسی و سکیورٹی عہدیداروں کی ذمہ داری پر سوال اٹھائے تھے۔ تاہم یہ سرکاری ریاستی تحقیقاتی کمیشن کی حتمی رپورٹ نہیں تھی۔