• Mon, 05 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سوشل میڈیا پر نیا وائرل رجحان: تصاویر سے نیتن یاہو کو ’’ہٹانے‘‘ کی مہم

Updated: January 03, 2026, 10:02 PM IST | Tel Aviv

ایکس پر ایک نیا وائرل رجحان سامنے آیا ہے جہاں صارفین مصنوعی ذہانت کی مدد سے اسرائیلی وزیرِاعظم بنجامن نیتن یاہو کو تصاویر سے حذف کر رہے ہیں۔ یہ رجحان سیاسی احتجاج، ڈجیٹل ایکٹوازم اور اظہارِ رائے کی حدود پر ایک نئی عالمی بحث کو جنم دے رہا ہے۔

Israeli Prime Minister Netanyahu. Photo: X
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو۔ تصویر:ایکس

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک نیا اور متنازع رجحان تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جس میں صارفین اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو کو مختلف تصاویر سے مصنوعی ذہانت کی مدد سے حذف کر رہے ہیں۔ ان تصاویر کو ایڈٹ کرنے کیلئے صارفین ایسے جملے یا کمانڈز استعمال کر رہے ہیں جیسےremove the war criminal یا remove the baby killer، جس کے بعد نیتن یاہو تصویر سے غائب ہوجاتے ہیں۔ یہ رجحان محض ایک تکنیکی تجربہ نہیں بلکہ ایک واضح سیاسی احتجاج اور ڈجیٹل علامتی مزاحمت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ صارفین ان ایڈیٹ شدہ تصاویر کو اس وضاحت کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں کہ یہ اقدام اسرائیل اور غزہ جنگ کے تناظر میں ان کے غم، غصے اور احتجاج کا اظہار ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ تصاویر ہزاروں لائکس، ری پوسٹس اور تبصروں کے ساتھ سوشل میڈیا پر پھیل گئیں۔

اے آئی، سیاست اور ڈجیٹل احتجاج
ماہرین کے مطابق یہ رجحان اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح جدید اے آئی ٹولز اور سوشل میڈیا سیاسی بیانیے کو نئی شکل دے رہے ہیں۔ پہلے جہاں احتجاج نعروں، مظاہروں اور تحریری پوسٹس تک محدود تھا، اب تصویری علامتوں کے ذریعے طاقتور پیغامات دیے جا رہے ہیں۔ کسی سیاسی لیڈر کو تصویر سے مٹا دینا دراصل اس کی اخلاقی اور علامتی حیثیت کو مسترد کرنے کے مترادف سمجھا جا رہا ہے۔
کئی صارفین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان روایتی میڈیا کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہے کیونکہ ایک تصویر ہزار الفاظ کے برابر سمجھی جاتی ہے۔ ان کے مطابق، نیتن یاہو کو تصاویر سے حذف کرنا اس احساس کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ عالمی ضمیر میں اپنی جگہ کھو چکے ہیں۔

سوشل میڈیا پر تقسیم شدہ ردِعمل
اس رجحان پر ردِعمل شدید طور پر منقسم ہے۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نفرت یا تشدد نہیں بلکہ ایک علامتی احتجاج ہے، جو جنگ اور انسانی جانوں کے ضیاع کے خلاف آواز بلند کرتا ہے۔ ان کے مطابق، جب طاقتور ریاستی بیانیے کمزور آوازوں کو دبا دیں تو ایسے ڈجیٹل احتجاج ناگزیر ہو جاتے ہیں۔
دوسری جانب ناقدین اس رجحان کو خطرناک قرار دے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اے آئی کے ذریعے کسی سیاسی لیڈر کو اس طرح حذف کرنا سنجیدہ سیاسی مکالمے کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور پیچیدہ عالمی تنازعات کو سادہ اور جذباتی نعروں میں بدل دیتا ہے۔ بعض ناقدین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اس طرح کے رجحانات مستقبل میں غلط معلومات اور ڈجیٹل ہیرا پھیری کو فروغ دے سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی ۱۹؍ حقوقِ انسانی تنظیموں کی اپنی ہی حکومت کے فیصلے پر شدید تنقیدیں

اظہارِ رائے اور پلیٹ فارم کی ذمہ داری
یہ رجحان ایک بار پھر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی مواد پر نگرانی اور اظہارِ رائے کی آزادی کے سوال کو سامنے لے آیا ہے۔ ناقدین پوچھ رہے ہیں کہ آیا ایکس کو ایسے مواد پر پابندی لگانی چاہئےیا اسے سیاسی اظہار کے دائرے میں رہنے دینا چاہئے۔ خاص طور پر اسرائیل غزہ تنازع سے متعلق مواد پہلے ہی عالمی سطح پر حساس اور متنازع سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے وقت میں اے آئی ٹیکنالوجی اور سیاسی اظہار کے درمیان یہ کشمکش مزید بڑھے گی۔ سوال یہ نہیں کہ لوگ اے آئی استعمال کریں گے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کے اخلاقی، سماجی اور سیاسی اثرات کو کیسے سنبھالا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK