• Sun, 04 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل کی ۱۹؍ حقوقِ انسانی تنظیموں کی اپنی ہی حکومت کے فیصلے پر شدید تنقیدیں

Updated: January 03, 2026, 2:14 PM IST | Tel Aviv

۱۹؍ اسرائیلی انسانی حقوق گروپوں نے حکومت کے فیصلے کی شدید مذمت کی ہے، جس کے تحت ۳۷؍ بین الاقوامی انسانی امدادی تنظیموں کا رجسٹریشن منسوخ کیا جا رہا ہے۔ ان گروپوں نے کہا ہے کہ یہ قدم انسانی امداد، بنیادی خدمات اور متاثرین کی مدد میں رکاوٹ ڈالے گا اور حکومت سے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

Hollywood actress Angelina Jolie talking to aid workers. Photo: X
ہالی ووڈ اداکارہ انجلینا جولی امدادی اداروں کے ملازمین سے بات کر تے ہوئے۔تصویر: ایکس

۱۹؍ اسرائیلی انسانی حقوق کے گروپوں نے حکومتی فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے، جس کے تحت غزہ پٹی اور مقبوضہ مغربی کنارے میں کام کرنے والی بین الاقوامی انسانی امدادی تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کی جا رہی ہے۔ یہ بات گروپوں نے مشترکہ بیان میں کہی، جس میں انہوں نے حکومت کی اس پالیسی کو انسانیت اور بین الاقوامی انسانی قانون کے اصولوں کے خلاف قرار دیا ہے۔ یا درہے کہ منگل کو اسرائیلی حکومت نے متعدد بین الاقوامی تنظیموں کو باضابطہ نوٹس بھیجنا شروع کر دیا ہے جس میں کہا گیا کہ ان کے لائسنس جنوری ۲۰۲۶ء سے منسوخ ہو جائیں گے اور انہیں اپنی سرگرمیاں مارچ تک مکمل طور بند کر دینی ہوں گی۔ اس فیصلے کے تحت کم از کم ۳۷؍ بین الاقوامی انسانی امدادی تنظیمیں متاثر ہوں گی۔

یہ بھی پڑھئے: نیویارک: میئر ظہران ممدانی کے فیصلے پر اسرائیلی وزارتِ خارجہ کی تنقید

غزہ اور مغربی کنارے میں کام کرنے والی امدادی تنظیمیں مختلف نوعیت کی لازمی خدمات فراہم کرتی ہیں، جن میں خوراک، ادویات، پناہ گاہیں، حفظان صحت کے آلات اور دیگر بنیادی امداد شامل ہے۔ انسانی حقوق گروپوں نے کہا ہے کہ ان تنظیموں پر پابندی لگانے سے زندگی بچانے والی امداد معطل یا تاخیر کا شکار ہو جائے گی اور لاکھوں عام لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حقوقِ انسانی کے گروپوں، جن میں معروف تنظیمیں جیسے ’عدالہ‘ (Adalah) اور ’بی تسلیم‘ (B’Tselem) شامل ہیں، نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ انسانی امداد کی اصولی بنیادوں کو نقصان پہنچاتا، کارکنان اور کمیونٹیز کیلئے خطرہ پیدا کرتا، اور موثر امداد کی فراہمی کو کمزور کرتا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ غزہ میں اکتوبر ۲۰۲۳ء سے انسانی رسائی پہلے ہی سخت محدود ہے اور یہ نئی پابندیاں اسے اور بھی بری طرح متاثر کریں گی۔ انہوں نے حکومت سے فوری طور پر رجسٹریشن منسوخی کے عمل کو روکنے، انسانی حقوق اور امداد کے کام میں رکاوٹیں دور کرنے، اور بین الاقوامی تنظیموں کو محفوظ اور موثر طریقے سے کام کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھئے: اقوامِ متحدہ میں صومالیہ کے سفیر کی اسرائیل پر تنقید

دوسری جانب، اسرائیلی حکومت کا موقف ہے کہ ان نئی احتیاطی قواعد و ضوابط کا مقصد سیکوریٹی خدشات کو دور کرنا ہے، اور یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ کچھ تنظیموں نے اپنے اہلکاروں کی تفصیلات فراہم نہ کرنے کی وجہ سے قواعد کی پابندی نہیں کی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ دہشت گرد عناصر کے ممکنہ استعمال کو روکنے کیلئے یہ اقدامات ضروری سمجھتی ہے، اگرچہ امدادی گروپوں نے اپنی بے گناہی اور کام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل کا یہ قدم بین الاقوامی تنقید کا نشانہ بھی بنا ہوا ہے۔ کئی ممالک اور بین الاقوامی اداروں نے کہا ہے کہ امدادی تنظیموں کی کارروائیاں روکا جانا غیر انسانی صورتحال کو مزید خراب کر دے گا، خاص طور پر غزہ میں جہاں لاکھوں لوگوں کو خوراک، پانی، پناہ اور طبی سہولیات کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
امریکی اور یورپی ممالک نے بھی انتباہ کیا ہے کہ ان قوانین سے امدادی خدمات میں خلل پڑ سکتا ہے اور ضروری طبی اور انسانی امداد تک رسائی میں مشکلات پیدا ہوں گی۔ تنظیمیں، جیسے ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز اور آکسفیم، نے واضح کیا ہے کہ یہ پابندیاں ان کے کارکنان اور مدد کے عمل کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔ گزشتہ برس سے غزہ کی صورتِ حال ایک طویل انسانی بحران میں تبدیل ہو چکی ہے، جہاں جنگ، ناکافی وسائل اور بنیادی سہولیات کی کمی نے عام شہریوں کو شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے بارہا کہا ہے کہ انسانی امداد کی خدمات کی روک تھام خطے میں بحران کی شدت کو بڑھا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسٹاک ہوم: نئے سال کی تقریبات منسوخ، غزہ سے اظہار یکجہتی کیلئے مظاہرہ

حقوقِ انسانی گروپوں کا موقف ہے کہ کسی بھی حکومت کا فرض ہوتا ہے کہ وہ غیر جانبدار اور مؤثر انسانی امداد کی سہولت فراہم کرنے والی تنظیموں کو کام کرنے کی آزادی دے، تاکہ متاثرہ عوام کو بروقت مدد مل سکے۔ وہ کہتے ہیں کہ موجودہ پابندیاں بین الاقوامی انسانی قانون کے اصولوں کے منافی ہیں اور ان کے نتیجے میں شہری عمداً یا غیر ارادی طور پر نقصان اٹھا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی حقوق کے گروپوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی مخالفت سنے، انسانی امدادی تنظیموں کی رجسٹریشن کو بحال کرے، اور انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے تعاون کو فروغ دے۔ ان تنظیموں کے مطابق، اگر امدادی کام معطل ہوگیا تو شدید انسانی نقصان اور مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK