نیدرلینڈز میں دو مسلمان خواتین پر پولیس تشدد کے خلاف احتجاج کیا گیا، گردش کررہی ایک ویڈیو میں ایک پولیس افسر کو ایک خاتون کو ڈنڈا مارتے ، جبکہ دوسری خاتون کے پیٹ پر لات مارتے دیکھا گیا ، جس کے سبب عوام میں شدید ناراضگی ہے۔
EPAPER
Updated: January 30, 2026, 9:40 PM IST | Amsterdam
نیدرلینڈز میں دو مسلمان خواتین پر پولیس تشدد کے خلاف احتجاج کیا گیا، گردش کررہی ایک ویڈیو میں ایک پولیس افسر کو ایک خاتون کو ڈنڈا مارتے ، جبکہ دوسری خاتون کے پیٹ پر لات مارتے دیکھا گیا ، جس کے سبب عوام میں شدید ناراضگی ہے۔
نیدرلینڈز کے یوٹریچٹ میں جمعرات کے روز دو مسلمان خواتین کے خلاف پولیس افسر کے تشدد کے بعد نسلی تشدد کے خلاف احتجاج کیا گیا۔وہاں کے وریڈنبرگ چوک میں پیر کو یوٹریچٹ میں پیش آنے والے واقعے کے خلاف لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہوا ۔ احتجاج کرنے والوں نے پولیس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے، ان کا استدلال تھا کہ نسلی تشدد منظم اور بار بار ہوتا ہے۔ریلی میں ڈچ پولیس سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ متاثرین اور عوام سے معافی مانگیں اور یقینی بنائیں کہ ایسے واقعات دوبارہ نہیں ہوں گے۔انہوں نے خاطی افسر کے معطلی کا مطالبہ کیا اور’’نو جسٹس، نو پیس،‘‘’’نسلی پولیس کا انکار‘‘ اور’’فاشسٹ پولیس دہشت کو روکو،‘‘جیسے نعرے لگائے۔بعد ازاں ہجوم نے یوٹریچٹ میں پیرڈنویلڈ پولیس اسٹیشن کی طرف مارچ کیا۔
Utrecht, Netherlands 🇳🇱
— Muslim IT Cell (@Muslim_ITCell) January 29, 2026
First they detained a Muslim woman.
Then silence was enforced with violence.
A woman who dared to protest the detention was allegedly brutally attacked by a security guard at Utrecht train station. #MuslimWomen pic.twitter.com/IO6pAhvy6w
واضح رہے کہ یہ مظاہرہ اس وقت ہوا جب سوشل میڈیا پر ویڈیو فوٹیج وائرل ہوئی جس میں یوٹریچٹ میں ہوگ کیتھرائن شاپنگ مال کے سامنے ایک پولیس افسر کو دو خواتین کے ساتھ مارپیٹ کرتے دکھایا گیا۔پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دستیاب تمام ویڈیو فوٹیج کا جائزہ لیا جائے گا، اور مزید کہا کہ ایک خاتون کو افسر کی توہین کے شبے میں حراست میں لیا گیا تھا۔علاوہ ازیں، ڈچ پبلک براڈکاسٹر این او ایس نے بدھ کو رپورٹ دیا کہ ایک پولیس ترجمان نے کہا کہ فوٹیج نے خاص طور پر نسل پرستی کے حوالے سے شدید خدشات اور سوالات پیدا کیے ہیں۔، خواتین کی وکیل انیس بومنجل نے این او ایس کو بتایا کہمتاثرین میں سے ایک نے کہا کہ افسر نے کئی نسل پرستانہ تبصرے کیے، جن میں آپ اس ملک سے تعلق نہیں رکھتیں شامل ہے۔بومنجل نے کہا کہ خواتین کو اس واقعے سے چوٹیں آئیں اوران کا علاج جاری ہے۔