Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران نے امریکی پابندیوں کے باوجود ہندوستان پر چابہار میں سرمایہ کاری جاری رکھنے کیلئے زور دیا

Updated: May 16, 2026, 3:59 PM IST | New Delhi

بریفنگ کے دوران، عراقچی نے ایران-امریکہ-اسرائیل تنازع کے بعد مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان ہندوستان کے سفارتی نقطہِ نظر کی بھی تعریف کی اور نئی دہلی سے علاقائی استحکام کو فروغ دینے میں بڑا کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔

Abbas Araghchi. Photo: X
سید عباس عراقچی۔ تصویر: ایکس

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ہندوستان پر زور دیا ہے کہ وہ امریکی پابندیوں کے باوجود اسٹریٹجک لحاظ سے اہم چابہار بندرگاہ میں اپنی سرمایہ کاری جاری رکھے۔ انہوں نے اس منصوبے کو ہندوستان کو وسطی ایشیا، قفقاز اور یورپ سے جوڑنے والا ”سنہری دروازہ“ قرار دیا۔ برکس (BRICS) ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیرِ خارجہ نے بندرگاہ کی ترقی میں ہندوستان کے کردار کی ستائش کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی دہلی پابندیوں سے متعلقہ پیچیدگیوں کے باوجود اپنی شمولیت برقرار رکھے گا۔

عراقچی نے کہا کہ ”چابہار بندرگاہ ایران اور ہندوستان کے درمیان تعاون کی ایک علامت ہے لیکن امریکی پابندیوں کی وجہ سے اس کی ترقی کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔ ہمیں بہت خوشی ہے کہ اس بندرگاہ کی ترقی میں ہندوستانیوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔“ اس منصوبے کو اسٹریٹجک طور پر اہم قرار دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ”یہ بندرگاہ ہندوستان کیلئے وسطی ایشیا، قفقاز اور یورپ تک رسائی کیلئے سنہری دروازے کی طرح ہوگی اور یورپ، وسطی ایشیا کے باشندوں اور دوسروں کیلئے بحرِ ہند تک رسائی کا ذریعہ بنے گی۔“

یہ بھی پڑھئے: عراقچی کا برکس سمٹ سے امریکہ کو پیغام: ’لڑنے کیلئے تیار ہیں لیکن سفارت کاری کا دفاع کریں گے‘

عراقچی نے امید ظاہر کی کہ ”ہندوستانی چابہار بندرگاہ میں اپنا کام جاری رکھیں گے تاکہ یہ ہندوستان اور آس پاس کے دیگر ممالک کے مفادات کی خدمت کیلئے مکمل طور پر تیار ہوسکے۔“ بریفنگ کے دوران، عراقچی نے ایران-امریکہ-اسرائیل تنازع کے بعد مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان ہندوستان کے سفارتی نقطہِ نظر کی بھی تعریف کی اور نئی دہلی سے علاقائی استحکام کو فروغ دینے میں بڑا کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔

ایرانی وزیر کے یہ تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب چابہار بندرگاہ سے متعلق امریکی پابندیوں کی چھوٹ کی مدت ۲۶ اپریل کو ختم ہوچکی ہے۔ اس چھوٹ نے ہندوستان کو ایران پر عائد امریکی پابندیوں کے باوجود اس ایرانی بندرگاہ پر ترقیاتی کام جاری رکھنے کی اجازت دی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی بحران سے نمٹنے کیلئے ہندوستان کی برکس ممالک سے متحدہ قدم اٹھانے کی اپیل

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب واقع چابہار بندرگاہ کو ہندوستان کیلئے اسٹریٹجک لحاظ سے اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ پاکستان سے گزرے بغیر افغانستان اور وسطی ایشیا تک براہِ راست تجارتی رسائی فراہم کرتی ہے۔ مئی ۲۰۲۴ء میں، ہندوستان نے بندرگاہ پر شاہد بہشتی ٹرمینل چلانے کیلئے ایران کے ساتھ ۱۰ سالہ معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ اس معاہدے کے تحت، ہندوستان نے اپنی وسیع تر علاقائی روابط کی حکمتِ عملی کے حصے کے طور پر ٹرمینل کا آپریشنل کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ ہندوستان اس منصوبے کو ’انٹرنیشنل نارتھ-ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور‘ کا ایک اہم حصہ سمجھتا ہے جس کا مقصد وسطی ایشیا اور یورپ کے ساتھ تجارتی روابط کو بہتر بنانا ہے۔ اس بندرگاہ کو گوادر بندرگاہ اور خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے مقابلے میں اسٹریٹجک توازن کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK