• Mon, 05 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دنیا کے ۸؍ ممالک میں نئے سال کا جشن منانے کے حیران کن اور پُراسرار طریقے

Updated: January 03, 2026, 12:10 PM IST | Mumbai

ہر ملک اور قوم اپنے انداز میں نئے سال کا جشن مناتی ہے۔ لیکن دنیا کے بعض علاقے اور قومیں ایسی ہیں جو نئے سال کا جشن مختلف اور پراسرار انداز میں مناتے ہیں۔ جانئے ایسے ہی ۸؍ ممالک کے بارے میں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

علامتی بربادی سے لے کر غیر متوقع گلیوں کی تقریبات تک، دنیا بھر میں نئے سال کا استقبال کرنے کے ۸ پُراسرار اور منفرد طریقے رائج ہیں۔

(۱) ایکواڈور: مجسمے جلانا
ایکواڈور میں نئے سال کی شام لوگ گزشتہ سال کو آتشی الوداع کہتے ہیں۔ اس موقع پر پرانے کپڑوں، بھوسے اور اخبار سے بنائے گئے پتلے، جنہیں بُجُوکا کہا جاتا ہے، جلائے جاتے ہیں۔ دن بھر لوگ سیاست دانوں، مشہور شخصیات یا عام افراد کے ایسے پتلے تیار کرتے ہیں جنہیں وہ گزشتہ سال کیلئے بدقسمتی یا نحوست کی علامت سمجھتے ہیں۔ جیسے ہی گھڑی بارہ بجاتی ہے، لوگ سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور گزشتہ سال کی بری یادوں کو الوداع کہنے کیلئے یہ پتلے اور کبھی کبھار پرانی تصویریں جلا کر جشن مناتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ مرد نقلی بال، خواتین کے کپڑے اور اونچی ایڑی کی چپل پہن کر جلتے ہوئے مجسمے کی ’’بیوہ‘‘ بن کر رقص کرتے ہیں اور راہگیروں سے پیسے مانگتے ہیں۔ یہ تہوار مقامی ثقافت اور اسٹریٹ تھیٹر کا ایک ناقابلِ فراموش حصہ سمجھا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ۲۰۲۵ء میں بالی ووڈ کی شاندار واپسی: باکس آفس پر واضح برتری

(۲) ڈنمارک: برتن توڑنا
سوچیں کہ آپ صبح نیند سے جاگیں اور اپنے دروازے کے سامنے ٹوٹے ہوئے برتنوں کا ڈھیر دیکھیں، یہ منظر بظاہر خوفناک لگ سکتا ہے، مگر ڈنمارک میں اسے خوش آئند سمجھا جاتا ہے۔ نئے سال کی شام دوست اور رشتہ دار ایک دوسرے کے دروازوں کے سامنے برتن توڑتے ہیں۔ لوگ پورا سال سستے اور غیر ضروری برتن جمع کرتے رہتے ہیں تاکہ انہیں اس موقع پر توڑا جا سکے، اور یہ کچرا فوراً صاف بھی نہیں کیا جاتا۔ جس کے دروازے پر جتنا زیادہ ٹوٹا ہوا سامان ہو، اسے اتنا ہی خوش نصیب سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ مضبوط دوستیوں اور آنے والے سال میں خوش قسمتی کی علامت مانا جاتا ہے۔ یہ شور بھرا اور حیران کن جشن ثابت کرتا ہے کہ بعض اوقات برتن توڑنا بھی محبت کے اظہار کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے۔

(۳) اٹلی: پرانی چیزیں باہر پھینکنا
اٹلی میں نئے سال کا جشن ’’آؤٹ ود دی اولڈ‘‘ یعنی پرانی چیزوں سے نجات کی روایت کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ خاص طور پر نیپلز جیسے شہروں میں لوگ نئے آغاز کی علامت کے طور پر گھروں کی پرانی چیزیں باہر پھینکتے ہیں۔ اکثر ۳۱؍ دسمبر کو لوگ چھوٹی، نرم اور ہلکی چیزیں ہی باہر پھینکتے ہیں تاکہ کسی کو نقصان نہ پہنچے۔ اس کے باوجود، ان دنوں گلیوں میں چلتے ہوئے کھڑکیوں پر نظر رکھنا عقلمندی سمجھا جاتا ہے۔

(۴) کیوبا: پانی باہر پھینکنا
کیوبا میں لوگ پانی پھینک کر نئے سال کا استقبال کرتے ہیں۔ نئے سال کی شام گھروں کے دروازوں یا کھڑکیوں سے پانی باہر پھینکا جاتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اس عمل سے گزشتہ سال کی بری یادیں دھل جاتی ہیں اور نیا سال صاف اور خوشگوار آغاز کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔ یہ روایت کیوبا کے مختلف شہروں میں عام ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ کے بچوں کی تکالیف نے جیکی چین کو آبدیدہ کردیا، ننھے فلسطینی بچے کی مختصر کلپ نے گہرا اثر ڈالا

(۵) برازیل: لہروں میں چھلانگ لگانا
برازیل میں نئے سال کی رات لوگ سمندر کی لہروں میں چھلانگ لگا کر جشن مناتے ہیں۔ آدھی رات کے وقت سفید لباس پہن کر لوگ سمندر کی سات لہروں میں باری باری چھلانگ لگاتے ہیں، جو ہفتے کے سات دنوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔ اس روایت کی جڑیں افریقی برازیلی مذہب ’’کینڈومبلے‘‘ سے جڑی ہیں۔ ہر چھلانگ ایک خواہش یا مقصد کی علامت ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ لوگ سمندر کی دیوی ’’ایمانجا‘‘ کو خوش کرنے کیلئے پھول، زیورات اور موم بتیاں ساحل پر رکھتے ہیں یا چھوٹی کشتیوں میں بہا دیتے ہیں۔ ایک اہم اصول یہ ہے کہ پانی سے باہر آتے وقت پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا جاتاکیونکہ اسے بدقسمتی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

(۶) رومانیہ: بھالوؤں کے ساتھ رقص
رومانیہ میں نئے سال کا جشن بھالو جیسی پوشاک پہن کر منایا جاتا ہے۔ لوگ بڑے اور ملائم لباس پہن کر سڑکوں پر پریڈ کرتے ہیں اور ایک گھر سے دوسرے گھر جاتے ہیں۔ بھالو کا رقص بری روحوں کو دور کرنے اور آنے والے سال میں خوش قسمتی لانے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اکثر اس پریڈ میں بکری یا گھوڑے جیسے دیگر جانوروں کی نمائندگی بھی کی جاتی ہے۔ بعض دیہی علاقوں میں چرواہے اپنے جانوروں سے باتیں کرتے ہیں کیونکہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس سے نئے سال میں خوشحالی آتی ہے۔ یہ ایک ڈرامائی اور یادگار تہوار ہے۔

(۷) کولمبیا: خالی سوٹ کیس
کولمبیا میں نئے سال کی شام سفری خوابوں کے اظہار کا وقت سمجھی جاتی ہے، اور اس کیلئے جہاز کے ٹکٹ کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ آدھی رات کو لوگ اپنے خالی سوٹ کیس اٹھا کر سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ نیا سال سفر اور مہم جوئی سے بھرپور ہوگا۔ کچھ لوگ اس روایت کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور زیادہ چکر لگانے کیلئے دوڑ بھی لگاتے ہیں، یہ مانتے ہوئے کہ جتنا زیادہ چلیں گے اتنی ہی زیادہ چھٹیاں ملیں گی۔ یہ ایک مزاحیہ اور دلچسپ روایت ہے جو لاطینی امریکہ میں خاصی مقبول ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کپل شرما کی ’’کس کس کو پیار کروں ۲ ‘‘ ۹؍ جنوری کو دوبارہ ریلیز ہوگی

(۸) جرمنی: سیسہ انڈیلنا
نئے سال کی عجیب روایات کا ذکر ہو تو جرمنی کی ’’بلیجی گیسن‘‘ روایت نمایاں نظر آتی ہے۔ اس میں لوگ دھات کے چھوٹے ٹکڑوں کو پگھلا کر ٹھنڈے پانی میں انڈیلتے ہیں، جہاں وہ فوراً سخت ہو کر مختلف عجیب شکلیں اختیار کر لیتے ہیں۔ ان شکلوں کی تشریح مستقبل کی پیش گوئی کے طور پر کی جاتی ہے۔ دل جیسی شکل محبت، تاج دولت اور گیند خوش قسمتی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ چونکہ سیسہ صحت کیلئے مضر ہے، اس لئے اب اس کی جگہ ٹن یا موم کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ روایت آج بھی جرمنی اور جرمن بولنے والے ممالک میں مقبول ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK