جیکی چین نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اس بات کو محسوس کریں کہ کس طرح مسلسل بمباری کے سائے میں رہنے والے بچوں سے ان کی عام سی امیدیں اور مستقبل چھین لیا جاتا ہے۔
EPAPER
Updated: January 01, 2026, 9:02 PM IST | Hong Kong
جیکی چین نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اس بات کو محسوس کریں کہ کس طرح مسلسل بمباری کے سائے میں رہنے والے بچوں سے ان کی عام سی امیدیں اور مستقبل چھین لیا جاتا ہے۔
ہالی ووڈ کے معروف اداکار اور مارشل آرٹس کے مایہ ناز آئیکون جیکی چین کو ایک ننھے فلسطینی بچے کی ویڈیو کلپ نے آبدیدہ کردیا۔ انہوں نے اس ویڈیو کلپ کا حوالہ دیتے ہوئے غزہ کے بچوں کی حالتِ زار پر جذباتی انداز میں گفتگو کی۔ جیکی چین نے ایک پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح ایک ننھے فلسطینی بچے پر مشتمل ایک مختصر کلپ نے ان پر گہرا اثر ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ ”میں نے حال ہی میں ایک ویڈیو دیکھی۔ جیسے ہی اس چھوٹے بچے نے بولنا شروع کیا، میں رونے لگا۔ اس ویڈیو میں بچے سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ بڑا ہو کر کیا بننا چاہتا ہے۔“ جیکی چین نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ اس بچے کا جواب نہایت سادہ مگر دل دہلا دینے والا تھا: ’یہاں بچے بڑے نہیں ہوتے۔‘
Jackie Chan spoke about a video he watched of a Palestinian child who said they don’t grow up because “the Israeli army could kill them at any moment.”
— Suppressed News. (@SuppressedNws1) January 1, 2026
He said it moved him so deeply that he broke down in tears.
The second shows the Palestinian child that Jackie mentioned. pic.twitter.com/BhDN3a9lfv
اداکار نے کہا کہ ان الفاظ نے ان کے دل پر گہرا اثر کیا، صرف اس لئے نہیں کہ کیا کہا گیا تھا، بلکہ اس لئے بھی کہ وہ کس طرح کہا گیا تھا۔ جیکی چین نے نوٹ کیا کہ ”جب اس بچے نے یہ بات کہی تو اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا۔“ اداکار نے اس ذہنی صدمے اور بے حسی کی طرف اشارہ کیا جس کا سامنا غزہ کے بچے اتنی چھوٹی عمر میں کررہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”آپ اسے دیکھ سکتے ہیں، غزہ کے بچوں پر ہر روز بمباری کی جاتی ہے۔“ واضح رہے کہ غزہ میں اکتوبر سے نافذ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے فلسطینی شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں میں سیکڑوں فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں جن میں بچے بھی شامل ہیں۔
جیکی چین نے بوڑھا ہونے یا عمر پانے کے تصور پر غور کرتے ہوئے اسے ایک ایسی نعمت قرار دیا جس سے جنگ زدہ علاقوں کے بہت سے بچے محروم کر دیئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”بوڑھا ہونا ایک برکت ہے۔“ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اس بات کو محسوس کریں کہ کس طرح مسلسل بمباری کے سائے میں رہنے والے بچوں سے ان کی عام سی امیدیں اور مستقبل چھین لیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ، فرانس، کنیڈا کا غزہ کی صورتحال پراظہار تشویش،پابندی ہٹانے کا مطالبہ
جیکی چین کے یہ تبصرے غزہ میں جاری انسانی تباہی کے دوران سامنے آئے ہیں، جہاں اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک ۷۱ ہزار سے زائد فلسطینی، اسرائیل کی وحشیانہ جنگی کارروائیوں میں شہید ہوچکے ہیں۔ مہلوکین کی بڑی تعداد خواتین اور بچوں پر مشتمل ہے۔ اسرائیلی حملوں میں ایک لاکھ ۷۱ ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ محصور علاقے میں پورے کے پورے محلے ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں، اسکول اور اسپتال تباہ اور مسمار ہو گئے ہیں اور فلسطینیوں کو خوراک، پانی اور طبی دیکھ بھال جیسی بنیادی ضروریات کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔