Updated: May 12, 2026, 5:16 PM IST
| Washington/Tehran/Abu Dhabi
سی این این نے گمنام ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش اور ان کے بقول ایرانی قیادت کے اندر پائے جانے والے اختلافات پر مایوس ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پینٹاگون اور انتظامیہ کے کچھ حکام ٹرمپ پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ایران کی مذاکراتی پوزیشن کو کمزور کرنے کیلئے حملوں کی اجازت دیں۔
ٹرمپ اور قالیباف۔ تصویر: ایکس
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بیان دیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ”اپنی آخری سانسیں گن رہی ہے۔“ انہوں نے خبردار کیا کہ واشنگٹن اب بھی اس تنازع میں ”مکمل فتح“ کا خواہاں ہے۔ پیر کو وہائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے، ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کو انتہائی نازک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ”میں کہوں گا کہ یہ اس وقت کمزور ترین حالت میں ہے؛ یہ لائف سپورٹ پر ہے۔“
ٹرمپ نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ وہ آپریشن فریڈم کو دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ اس بارے میں ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ امریکی بحری فوج کی نگرانی میں آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں اور تجارتی بحری جہازوں کو نکالنے کیلئے یہ آپریشن پہلی بار ۶ مئی کو شروع کیا گیا تھا لیکن دو دن سے بھی کم وقت میں اسے روک دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ کے بعد دنیا کی بڑی ٹیک کمپنیوں کی مارکیٹ ویلیو ۱۸ء۴؍ کھرب ڈالر بڑھی
امریکہ نے اس سے قبل تنازع میں نرمی کیلئے ایران کو شرائط کی ایک فہرست پیش کی تھی، جس کا زیادہ تر محور تہران کی اپنے جوہری پروگرام کو وسعت دینے کی صلاحیت کو محدود کرنا تھا۔ ایران نے بعد میں جوابی تجاویز پیش کیں جنہیں ٹرمپ نے ”مکمل طور پر ناقابل قبول“ قرار دے کر مسترد کر دیا۔ ٹرمپ نے زور دیا کہ ”ہمیں مکمل فتح حاصل ہوگی۔“
مزید مذاکرات کے بارے میں پوچھے جانے پر، ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی قیادت ”اعتدال پسندوں“ اور ”پاگلوں“ کے درمیان تقسیم ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”پاگل آخر تک لڑنا چاہتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں، یہ ایک بہت ہی مختصر لڑائی ہوگی۔“
یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز پر نئے ایرانی قواعد اور ٹول ٹیکس نافذ، آمدورفت کیلئے اجازت لازمی
ٹرمپ دوبارہ فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں
سی این این نے گمنام ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش اور ان کے بقول ایرانی قیادت کے اندر پائے جانے والے اختلافات پر مایوس ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پینٹاگون اور انتظامیہ کے کچھ حکام ٹرمپ پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ایران کی مذاکراتی پوزیشن کو کمزور کرنے کیلئے حملوں کی اجازت دیں، جبکہ دیگر حکام سفارتی رابطوں پر زور دے رہے ہیں۔
سی این این نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے پیر کو اپنی قومی سلامتی کی ٹیم سے ملاقات کی تاکہ ایران کے حوالے سے ممکنہ آپشنز پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ منگل کی سہ پہر ٹرمپ کے دورہ چین پر روانہ ہونے سے قبل فوجی آپریشن دوبارہ شروع کرنے کے بارے میں کسی فیصلے کی توقع نہیں ہے۔ سی این این کے مطابق، علاقائی حکام نے بتایا کہ پاکستان اور دیگر ممالک نے تہران کو پیغامات پہنچائے ہیں جن میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ سفارتی تصفیے کا آخری موقع ہو سکتا ہے۔ مبینہ طور پر ایرانی حکام نے مثبت جواب نہیں دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ایرانی سفارت خانے کی وہائٹ ہاؤس پر تنقید، کیرولین لیویٹ کی پوسٹ پر سخت ردعمل
ایران امریکہ کو ’سبق سکھانے‘ کیلئے تیار
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا کہ ایران کی مسلح افواج جوابی کارروائی کیلئے تیار ہیں۔ قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ”ہماری مسلح افواج کسی بھی جارحیت کا جواب دینے اور سبق سکھانے کیلئے تیار ہیں۔“ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تہران کی ۱۴ نکاتی تجویز میں بیان کردہ حقوق کو تسلیم کرنے کے علاوہ ”کوئی متبادل“ نہیں ہے۔
یو اے ای نے خفیہ طور پر ایران پر خفیہ حملے کئے: رپورٹ
دی وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے جاری جنگ کے دوران خفیہ طور پر ایران پر حملے کئے تھے۔ اخبار کے مطابق، گمنام ذرائع نے بتایا کہ ایک ہدف ایران کے لاوان جزیرے (Lavan Island) پر واقع ریفائنری تھی، جسے اپریل کے اوائل میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں وہاں شدید آگ لگ گئی اور تنصیب کو بند کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج کو فوری مزید سپاہیوں کی ضرورت، چیف آف اسٹاف ایال ضمیر کا اعتراف
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے یو اے ای اور کویت پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے جوابی کارروائی کی۔ اس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران نے یو اے ای کے خلاف ۲۸۰۰ سے زیادہ میزائل اور ڈرون حملے کئے ہیں۔
یو اے ای کی وزارتِ خارجہ نے ان الزامات پر براہِ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ لیکن وزارت نے اپنے ایک پرانے بیان کا حوالہ دیا جس میں معاندانہ کارروائیوں کا جواب دینے کے ابوظہبی کے حق پر زور دیا گیا تھا۔