Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیویارک: میئر ظہران ممدانی نے کہا کہ یہ شہر تارکینِ وطن نے تعمیر کیا ہے

Updated: July 04, 2026, 6:05 PM IST | New York

نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے امریکی یومِ آزادی کی تقریبات کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے امیگریشن کے مسئلے پر سخت مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا نام لیے بغیر ان کی امیگریشن پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ امریکہ اور خصوصاً نیویارک شہر کی ترقی میں تارکینِ وطن کا بنیادی کردار رہا ہے۔ ممدانی نے مذہبی اور نسلی تنوع کو امریکہ کی طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حب الوطنی کا مطلب خامیوں سے انکار نہیں بلکہ بہتر مستقبل کے لیے آواز اٹھانا ہے۔

Zohran Mamdani. Photo: X
ظہران ممدانی۔ تصویر: ایکس

نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے امریکی یومِ آزادی سے قبل اپنے خطاب میں امیگریشن، قومی شناخت اور امریکی اقدار پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ نیویارک شہر کی تعمیر اور ترقی میں تارکینِ وطن نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا نام لیے بغیر ان کی امیگریشن پالیسیوں اور تارکینِ وطن سے متعلق بیانیے پر تنقید کی۔ شہر کے پہلے مسلمان، جنوبی ایشیائی اور افریقی نژاد میئر ممدانی نے کہا کہ امریکہ کی تاریخ ان لوگوں نے لکھی ہے جنہیں مختلف ادوار میں غیر معمولی یا غیر مطلوب قرار دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ستم ظریفی یہ ہے کہ امریکہ کی کہانی اکثر ان لوگوں نے لکھی ہے جنہیں دوسروں نے طاقت، اثر و رسوخ اور دولت کے باوجود غیر معمولی سمجھا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: فرانس: شدید گرمی سے جنگلات میں آتشزدگی، ۹۰۰؍ ایکڑ اراضی خاکستر

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ مختلف نسلوں سے یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ دنیا امریکہ کو اپنے بہترین لوگ نہیں بھیجتی، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’دنیا نے ہمارے ساحلوں پر پیوریٹن، سکھ، کوئیکرز، مسلمان اور یہودی بھیجے، جنہیں صرف اس لیے اپنے وطن چھوڑنے پڑے کہ وہ مختلف انداز میں عبادت کرتے تھے یا مختلف عقائد رکھتے تھے۔‘‘ ظہران ممدانی، جن کے والدین کا تعلق ہندوستان اور یوگنڈا سے ہے، سات برس کی عمر میں اپنے خاندان کے ساتھ کمپالا سے نیویارک منتقل ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں ان طاقتور حلقوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو، ان کے بقول، امریکہ کو صرف چند مخصوص طبقات کا ملک سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض لوگوں کی نظر میں امریکہ ایسا ملک ہے جہاں صرف چند افراد ہی آزادی کے مستحق ہیں، جبکہ باقی لوگوں کو کمتر سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے ززید کہا کہ ’’وہ کہتے ہیں کہ امریکہ صرف ان لوگوں کا ہے جن کا لہجہ درست ہو یا جن کی جلد کا رنگ ان کی پسند کے مطابق ہو۔ باقی سب کو صرف یہ شکر گزار ہونا چاہیے کہ انہیں یہاں رہنے کی اجازت ملی۔‘‘ اگرچہ ممدانی نے اپنے خطاب میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا نام نہیں لیا، تاہم ان کے بیانات کو ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسیوں پر واضح تنقید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ٹرمپ اپنی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز کے بعد سے غیر قانونی امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات کر رہے ہیں اور متعدد مواقع پر تارکینِ وطن کو جرائم اور گینگ سرگرمیوں سے جوڑتے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے خود کو اسرائیلی تاریخ کا بہترین صدر قرار دیا

امریکی یومِ آزادی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے ممدانی نے کہا کہ امریکہ اپنی ۲۵۰؍ ویں سالگرہ کی جانب بڑھ رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ کئی تضادات بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم دنیا کے سب سے امیر ملک کو دیکھتے ہیں جہاں بچے بھوکے سوتے ہیں، جبکہ دنیا کا پہلا کھرب پتی مزید دولت کا خواہاں ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ جنگوں اور مالیاتی امداد پر خرچ کیا جا رہا ہے، جبکہ عوامی مسائل اب بھی موجود ہیں۔ ممدانی کے مطابق حب الوطنی کا مطلب یہ نہیں کہ ملک کی خامیوں سے انکار کیا جائے، بلکہ اصل حب الوطنی اختلافِ رائے کا حق استعمال کرنے اور بہتر معاشرے کے لیے آواز بلند کرنے میں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یورپی اداروں کے اسرائیل سے اربوں یورو کے معاہدوں کا انکشاف

انہوں نے کہا کہ ’’حب الوطنی ہر اس اختلاف کی علامت ہے جو ملک کو بہتر بنانے کے لیے کیا جائے۔ ہم اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں، اسی لیے اسے بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں، نہ کہ اسے چھوڑ دیتے ہیں۔‘‘ انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ امریکہ کی بنیاد جن جمہوری اصولوں پر رکھی گئی تھی، وہ کسی بھی آمرانہ رجحان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، بشرطیکہ عوام ان اصولوں کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر کھڑے ہوں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK