امریکی حکام کے حوالے سے نیویارک ٹائمز نے خبر دی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا منصوبہ ایران پر حملے کے بعد جب سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو شہید کر دیا گیا ، سخت گیر سابق صدر محمود احمدی نژاد کو صدر بنانے کا تھا۔
EPAPER
Updated: May 20, 2026, 8:01 PM IST | Washington
امریکی حکام کے حوالے سے نیویارک ٹائمز نے خبر دی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا منصوبہ ایران پر حملے کے بعد جب سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو شہید کر دیا گیا ، سخت گیر سابق صدر محمود احمدی نژاد کو صدر بنانے کا تھا۔
امریکی حکام کے حوالے سے نیویارک ٹائمز نے خبر دی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا منصوبہ ایران پر حملے کے بعد جب سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو شہید کر دیا گیا ، سخت گیر سابق صدر محمود احمدی نژاد کو صدر بنانے کا تھا۔امریکی حکام نے ٹائمز کو بتایا کہ یہ ’’جری‘‘ منصوبہ اسرائیلیوں نے امریکی حکومت کی منظوری سے تیار کیا تھا تاکہ تہران کی قیادت کو تبدیل کیا جا سکے، جیسا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جنگ کے ابتدائی دنوں میں تجویز کیا تھا کہ بہتر ہوگا اگر ایران کا اقتدار ملک کے اندر سے کوئی شخص‘‘ سنبھال لے۔ٹائمز کے مطابق، وہ شخص ’’محمود احمدی نژاد‘‘ تھے، جو ایران کے سابق صدر ہیں اور اپنے سخت گیر، اسرائیل مخالف اور امریکہ مخالف خیالات کے لیے جانے جاتے ہیں۔ مبینہ طور پر ان سے نئی حکومت کی تبدیلی کے بارے میں مشورہ لیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: کیوبا نے امریکی پابندیوں کو ’’نسل کشی کا محاصرہ‘‘ قرار دیا
بعد ازاں ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ احمدی نژاد کو کس طرح شامل کیا گیا، لیکن وہ غیر معمولی انتخاب تھے کیونکہ وہ۲۰۰۵ء تا ۲۰۱۳ء کے اپنے دور صدارت میں اسرائیل کا نام و نشان نقشہ سے مٹانے کے بیانات کے لیے جانے جاتے تھے۔ وہ ایران کے جوہری پروگرام کے مضبوط حامی، امریکہ کے شدید ناقد اور اندرونی اختلاف رائے کو طاقت کے ذریعے کچلنے والے کے طور پر بھی جانے جاتے تھے۔تاہم حکام کے مطابق، یہ ابتدائی منصوبہ اس وقت ناکام ہو گیا جب احمدی نژاد جنگ کے پہلے دن تہران میں اپنے گھر پر اسرائیلی حملے میں زخمی ہو گئے، جو انہیں نظر بندی سے آزاد کرانے کے لیے کیا گیا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ فضائی حملے کے ناکام ہونے کے بعد احمدی نژاد اور امریکی حکام دونوں حکومتی تبدیلی کے منصوبے سے مایوس ہو گئے۔ جبکہ ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ احمدی نژاد، جو ابتدا میں دھماکے سے بچ گئے تھے، تب سے عوامی طور پر نظر نہیں آئے اور امریکہ کو ان کے موجودہ ٹھکانے یا طبی حالت کا علم نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملہ، ۳۰۰؍ کارکن حراست میں لینے کا دعویٰ
ٹائمز کے مطابق، احمدی نژاد کو ایران کا نیا لیڈربنانے کا تازہ انکشاف کردہ امریکی-اسرائیلی منصوبہ اسرائیل کی طرف سے ایران کی مذہبی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے تیار کردہ ایک کثیر المرحلہ منصوبے کا حصہ تھا اور اس نے اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ کس طرح ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نہ صرف یہ غلط اندازہ لگا کر جنگ میں کود گئے کہ وہ کتنی جلدی اپنے مقاصد حاصل کر لیں گے، بلکہ کسی حد تک ایران میں قیادت کی تبدیلی کے ایک پرخطر منصوبے پر جوئے بازی کر رہے تھے جسے ٹرمپ کے کچھ معاونین بھی ناقابل عمل سمجھتے تھے۔دریں اثناء وائٹ ہاؤس نے حکومتی تبدیلی کے منصوبے میں احمدی نژاد کے کردار کے بارے میں ٹائمز کے استفسار کا جواب نہیں دیا، لیکن ایران پر جنگ کے لیے امریکی ہدایات کا ایک بیان جاری کیا۔