Updated: June 24, 2026, 7:36 PM IST
| New York
نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی کی حمایت یافتہ امیدواروں نے ڈیموکریٹک پرائمری انتخابات میں اہم کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے پارٹی کی روایتی قیادت کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔ دو موجودہ امریکی نمائندے اپنے مضبوط انتخابی حلقوں میں شکست کھا گئے جبکہ متعدد ترقی پسند اور ڈیموکریٹک سوشلسٹ امیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔
ڈاریا لیزا اویلا شیویلئر ظہران ممدانی کے ساتھ۔ تصویر: ایکس
امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر نظریاتی کشمکش ایک بار پھر نمایاں ہو گئی ہے، جہاں نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی کی حمایت یافتہ امیدواروں نے حالیہ ڈیموکریٹک پرائمری انتخابات میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے پارٹی کی روایتی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ دھڑے کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔ نتائج کے مطابق، نیویارک کے ۱۳؍ ویں کانگریشنل ضلع میں ڈاریا لیزا اویلا شیویلئر نے پانچ مرتبہ منتخب ہونے والے موجودہ رکن کانگریس ایڈرایانو اسپیلٹ کو شکست دے دی۔ اسی طرح نیویارک کے ۱۰؍ ویں ضلع میں سابق سٹی کمپٹرولر بریڈ لینڈر نے دو مدتوں سے منتخب رکن کانگریس ڈین گولڈ مین کو ہرا دیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق دونوں شکست خوردہ امیدواروں کو اسرائیل نواز لابی امریکن اسرائیل پبلک افیئرس کمیٹی کی حمایت حاصل تھی، جس کے باعث ان نتائج کو ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اسرائیل پالیسی پر جاری بحث کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: لیری دی کیٹ، وزرائے اعظم کے استعفوں سے بیزار
اسی دوران نیویارک کے ساتویں ضلع میں ریاستی اسمبلی کی رکن کلیر والڈیز نے بروکلین بورو کے صدر انتونیو رےنوسو کو شکست دے کر ایک اور اہم کامیابی حاصل کی۔ دوسری جانب ریپبلکن سیاست میں بھی اہم پیش رفت دیکھنے میں آئی، جہاں صدر ڈونال، ٹرمپ کے حمایت یافتہ ایلن ولسن نے جنوبی کیرولینا کے گورنر کے لیے ریپبلکن پرائمری میں کامیابی حاصل کی۔ اس کامیابی کے ساتھ ٹرمپ نے پرائمری انتخابات میں اپنی حمایت یافتہ امیدواروں کے حوالے سے مضبوط ریکارڈ برقرار رکھا، اگرچہ آئیووا اور جارجیا میں ان کے حمایت یافتہ امیدوار کامیاب نہ ہو سکے۔ حالیہ برسوں میں امریکہ کے کئی بڑے شہروں میں ترقی پسند اور ڈیموکریٹک سوشلسٹ سیاستدانوں کے ابھار کا رجحان مزید مضبوط ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ نومبر ۲۰۲۵ء میں ظہران ممدانی نیویارک سٹی کے میئر منتخب ہوئے تھے، جبکہ کیٹی ولسن سیئٹل کی میئر منتخب ہوئیں۔
اسی ماہ کے آغاز میں نتیا رمن لاس اینجلس کے میئر کے انتخاب میں نمایاں برتری حاصل کرنے میں کامیاب رہیں جبکہ جینیز جارج واشنگٹن ڈی سی کے میئر کے انتخاب میں مضبوط امیدوار کے طور پر ابھریں۔ حالیہ انتخابی مہم کے دوران ممدانی نے پارٹی کی روایتی قیادت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈیموکریٹک اسٹیبلشمنٹ ماضی کی سیاست میں پھنسی ہوئی ہے اور مستقبل کے تقاضوں کو سمجھنے میں ناکام ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’سچ کہوں تو، یہ جنوبی کیرولینا اور نیو ہیمپشائر میں ہار جائے گا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’۴؍ماہ کی جنگ سے مشرق وسطیٰ کے حالات میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں آئی ‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ ۲۷۰؍ الیکٹورل ووٹوں سے کم ہو جائے گا، کیونکہ ماضی کی پارٹی وہ نہیں ہوگی جو ہمیں مستقبل میں لے جائے گی۔‘‘ تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ نتائج پارٹی کے روایتی لیڈروں، خصوصاً کیتھی ہوچل اور حکیم جیفریز کے لیے ایک واضح سیاسی چیلنج ہیں، کیونکہ ان کے حمایت یافتہ متعدد امیدوار پرائمری انتخابات میں کامیاب نہ ہو سکے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ انتخابات دراصل ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر دو مختلف دھڑوں کے درمیان مقابلے کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک طرف ترقی پسند، ارب پتی مخالف اور اسرائیل کی پالیسیوں کے ناقد امیدوار ہیں، جبکہ دوسری جانب پارٹی کی روایتی قیادت اور بڑے مالیاتی و سیاسی عطیہ دہندگان کی حمایت یافتہ قوتیں موجود ہیں۔ حالیہ نتائج سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی نظریاتی طور پر پہلے سے زیادہ منقسم ہو رہی ہے، اور آنے والے انتخابات میں ترقی پسند اور اسٹیبلشمنٹ دھڑوں کے درمیان کشمکش امریکی سیاست کا ایک اہم موضوع بن سکتی ہے۔