Updated: June 24, 2026, 8:40 PM IST
| Paris
فرانس اس وقت ۱۹۴۷ء کے بعد کی شدید ترین گرمی کی لہر کی زد میں ہے، جس کے باعث ملک کے نصف سے زیادہ حصے میں اعلیٰ ترین موسمی انتباہ جاری کر دیا گیا ہے۔ پیرس سمیت کئی شہروں میں درجہ حرارت خطرناک سطح تک پہنچنے کے بعد ایفل ٹاور اور لوور میوزیم جیسے بڑے سیاحتی مقامات نے اپنے اوقات کار محدود کر دیے ہیں، جبکہ مونٹ سینٹ مشیل نے سیاحوں کو دورے ملتوی کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
پیرس میں واقع ایفل ٹاور۔ تصویر: آئی این این
فرانس ان دنوں ایک غیر معمولی اور ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر کا سامنا کر رہا ہے جسے ۱۹۴۷ء کے بعد ملک کی شدید ترین گرمی قرار دیا جا رہا ہے۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور خطرناک موسمی حالات کے باعث ملک کے نصف سے زیادہ حصے میں اعلیٰ ترین موسمی انتباہ نافذ کر دیا گیا ہے، جبکہ پیرس کے کئی مشہور سیاحتی مقامات کو اپنے اوقات کار محدود کرنے یا قبل از وقت بند کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ شدید گرمی کے باعث ہزاروں سیاحوں کی تعطیلات متاثر ہوئی ہیں۔ پیرس کی سڑکوں، میٹرو اسٹیشنوں اور بغیر ایئر کنڈیشننگ والی رہائش گاہوں میں شدید حبس اور گرمی نے حالات کو مزید دشوار بنا دیا ہے۔ بہت سے سیاح، جو شہر کی سیر، دریا کے کنارے کشتیوں کے سفر یا گائیڈڈ ٹورز کا منصوبہ بنا کر آئے تھے، انہیں اپنے پروگرام منسوخ کرنا پڑے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ یورپ کی رضامندی کے بغیر ایران پر سے پابندی نہیں ہٹائی جا سکتی‘‘
کئی سیاحوں نے گرمی سے بچنے کے لیے ایئر کنڈیشنڈ ہوٹلوں، عجائب گھروں اور تاریخی گرجا گھروں کا رخ کیا جبکہ بعض خاندانوں کو اپنی طویل منصوبہ بند تعطیلات کا شیڈول مکمل طور پر تبدیل کرنا پڑا۔ پیرس کی سب سے معروف علامت ایفل ٹاور، منگل کی شام ۴؍ بجے بند کر دی گئی۔ انتظامیہ نے عندیہ دیا ہے کہ بدھ کو بھی اس کے اوقات کار محدود رہ سکتے ہیں۔ عام حالات میں سیاحتی سیزن کے دوران یہ یادگار آدھی رات کے بعد تک کھلی رہتی ہے۔ دوسری جانب لوور میوزیم، جو دنیا کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا عجائب گھر ہے، نے اعلان کیا کہ وہ بدھ سے سنیچر تک روزانہ دو گھنٹے پہلے، یعنی شام ۴؍ بجے بند ہو جائے گا۔ میوزیم انتظامیہ کے مطابق تاریخی عمارت ’’موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر موزوں نہیں‘‘ ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لوور حالیہ برسوں میں پانی کے رساؤ، دیکھ بھال کے مسائل اور ایک ہائی پروفائل زیورات کی چوری جیسے چیلنجز کا بھی سامنا کر چکا ہے۔
ادھر فرانس کے مشہور تاریخی اور مذہبی مقام Mont-Saint-Michel نے سیاحوں کو خبردار کیا ہے کہ ریڈ الرٹ کے دوران اپنے دورے ملتوی کر دیں تاکہ کسی بھی ممکنہ طبی یا حفاظتی خطرے سے بچا جا سکے۔ ماہرین موسمیات کے مطابق اس شدید گرمی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ سب سے اہم وجہ ایک غیر معمولی فضائی نظام ہے جسے ’’اومیگا بلاک‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس نظام میں دو کم دباؤ والے علاقوں کے درمیان ایک مضبوط ہائی پریشر زون قائم ہو جاتا ہے، جس سے جیٹ اسٹریم یونانی حرف ’’Ω‘‘ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں فرانس کے اوپر ایک ’’ہیٹ ڈوم‘‘ یا گرمی کا گنبد بن جاتا ہے جو گرم ہوا کو علاقے میں پھنسائے رکھتا ہے اور درجہ حرارت کو مسلسل بڑھاتا رہتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز: تجارتی جہازوں کی آمدورفت جنگ سے قبل سطح کے۲۰؍ فیصد زیادہ پربحال
ماہرین کے مطابق اسی موسمی ترتیب کے باعث شمالی افریقہ سے آنے والی گرم اور خشک صحرائی ہوائیں بحیرہ روم عبور کر کے براہِ راست فرانس تک پہنچ رہی ہیں، جس سے گرمی کی شدت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ پیرس میں صورتحال کو مزید سنگین بنانے والا ایک اور عنصر ’’اربن ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ‘‘ ہے۔ شہر کی گھنی پتھریلی عمارتیں، اسفالٹ کی سڑکیں اور محدود سبزہ دن بھر سورج کی حرارت جذب کرتے ہیں اور رات کے وقت اسے خارج کرتے رہتے ہیں، جس سے درجہ حرارت میں خاطر خواہ کمی نہیں آ پاتی۔ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ وسیع تر تناظر میں یورپ دنیا کے اوسط درجہ حرارت کے مقابلے میں دو گنا سے زیادہ رفتار سے گرم ہو رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث خطے میں گرمی کی لہریں نہ صرف زیادہ بار آ رہی ہیں بلکہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدید اور طویل بھی ہو رہی ہیں۔ شدید گرمی کے باعث فرانسیسی حکام شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز، پانی کا زیادہ استعمال، دھوپ میں کم وقت گزارنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین کر رہے ہیں، جبکہ آنے والے دنوں میں درجہ حرارت میں مزید اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔