Updated: April 03, 2026, 8:01 PM IST
| Mumbai
ماہرین اقتصادیات نے جمعہ کو کہا کہ عالمی جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے درمیان، ریزرو بینک آ ف انڈیا( آر بی آئی ) کی اگلے ہفتے ہونے والی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کی میٹنگ میں اس بار ریپو ریٹ یا پالیسی کے ریٹ میں کسی بھی تبدیلی کی توقع نہیں ہے۔
آر بی آئی آفس: تصویر:آئی این این
ماہرین اقتصادیات نے جمعہ کو کہا کہ عالمی جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے درمیان، ریزرو بینک آ ف انڈیا( آر بی آئی ) کی اگلے ہفتے ہونے والی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کی میٹنگ میں اس بار ریپو ریٹ یا پالیسی کے رویے میں کسی بھی تبدیلی کی توقع نہیں ہے۔ اس کی وجہ موجودہ عالمی تناؤ اور غیر یقینی صورتحال ہے۔
ماہرین کے مطابق، اس بار آر بی آئی کا رویہ محتاط رہے گا اور موجودہ غیر یقینی صورتحال میں سب سے زیادہ توجہ جی ڈی پی اور مہنگائی کے تخمینوں پر ہوگی، جو موجودہ حالات میں بہت اہم ہیں۔بینک آف بروڈا (بی او بی ) کے چیف اکنامسٹ مدن سبنس نے کہاکہ ’’ہم لیکویڈیٹی یا کرنسی مینجمنٹ کے حوالے سے کسی نئے اقدام کی توقع نہیں کر رہے ہیں، کیونکہ آر بی آئی ضرورت پڑنے پر پہلے بھی ایسے اقدامات اٹھاتا رہا ہے۔‘‘
تین دن کی یہ پالیسی میٹنگ ۶؍اپریل سے۸؍ اپریل تک ہوگی۔ یہ میٹنگ ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب مغربی ایشیا میں جاری تنازع کی وجہ سے توانائی کا بحران بڑھ گیا ہے اور مارچ میں برینٹ کروڈ کی اوسط قیمت تقریباً ۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔ بینک کے مطابق، اگر مہنگائی ۶؍ فیصد کی اوپری حد کو پار کر جاتی ہے، تو سال کے آخر تک سود کی شرحوں میں اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:آسٹریلیا کی خواتین ٹیم نے ون ڈے سیریز میں ویسٹ انڈیز کو کلین سویپ کیا
رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ ’’جنگ کا اثر اقتصادی ترقی اور مہنگائی پر اگلے ۳۔۴؍ مہینوں میں واضح ہوگا۔ اس کے بعدآر بی آئی سود کی شرحوں کی سمت پر فیصلہ کرے گا۔ ایچ ایس بی سی گلوبل انویسٹمنٹ ریسرچ کے مطابق اس بارایم پی سی کی میٹنگ مکمل طور پر تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے سے پیدا شدہ تشویش کو دور کرنے کے لیے کمیونیکیشن پر مرکوز ہوگی۔ ایچ ایس بی سی کے اقتصادی ماہرین کا کہنا ہےکہ ’’ہم توقع کرتے ہیں کہ آر بی آئی مختلف ممکنہ حالات، حساسیت اور اپنی ردعمل کی حکمت عملی کے عمومی اصولوں کی رہنمائی پیش کرے گا۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود قریبی مستقبل میں سود کی شرحوں میں اضافہ کے امکانات کم ہیں، کیونکہ آر بی آئی ایک سال آگے کی مہنگائی کو زیادہ اہمیت دیتا ہے، جو فی الحال کم دکھائی دے سکتی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:پرینیتی چوپڑہ نے راگھو چڈھا کی حمایت کی
ماہرین کا ماننا ہے کہ اب سود کی شرحوں میں کمی کا دور ختم ہو چکا ہے اورآر بی آئی طویل عرصے تک شرحیں مستحکم رکھ سکتا ہے۔حال ہی میں ۲۷؍ مارچ کو آر بی آئی نے بینکوں کے غیر ملکی کرنسی پوزیشن سے متعلق قواعد کو سخت کیا تھا، جس کی وجہ سے یہ قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں کہ روپے کو مستحکم رکھنے کے لیے سود کی شرح میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ تاہم ایچ ایس بی سی کا کہنا ہے کہ سود کی شرح بڑھانے کے امکانات اب بھی کافی کم ہیں۔