Inquilab Logo Happiest Places to Work

منتقلی کی پالیسی کیخلاف نرسوں کا احتجاج، تبادلے کے احکامات واپس لینے کا مطالبہ

Updated: May 22, 2026, 4:01 PM IST | Mumbai

مہاراشٹر گورنمنٹ نرسیز فیڈریشن نےاس اقدام سے خاندانوں، بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داریوں اور سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کی دیکھ بھال کی خدمات کے بری طرح متاثر ہونے کا انتباہ دیا۔

protest against the transfer policy. Photo: INN
منتقلی کی پالیسی کیخلاف احتجاج کا ایک منظر۔ تصویر: آئی این این

ممبئی سمیت ریاست بھر کی نرسوں نے نرسنگ عملہ کیلئے ریاستی حکومت کی انتظامی منتقلی کی پالیسی کے خلاف جمعرات کو احتجاجی مظاہرے کئے۔ ساتھ ہی اس اقدام سے خاندانوں، بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داریوں اور سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کی دیکھ بھال کی خدمات کے بری طرح متاثر ہونے کا انتباہ دیا ۔واضح رہے کہ بدھ کو شہر ومضافات کے بڑے سرکاری اسپتالوں کے علاوہ اورنگ آباد کے سرکاری میڈیکل کالج اور اسپتال ، جسے گھاٹی اور ساسون جنرل اسپتال کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، میں نرسوں نے ڈائریکٹوریٹ آف میڈیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (ڈی ا یم ای آر) کے ذریعہ جاری کردہ تبادلے کے احکامات کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ۔

یہ بھی پڑھئے : دیونار منڈی میں ۹۲۲۱۳؍ بکروں کی آمد، ۱۴۶۳۵؍ فروخت ہوئے

یہ مظاہرے مہاراشٹر گورنمنٹ نرسیز فیڈریشن کے بینر تلے منعقد کئے گئے تھے جس میں حکومت پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ تبادلہ کے عمل کو نافذ کر رہی ہے جس سے نرسوں میں بڑے پیمانے پر بے چینی اور ذہنی تناؤ پایا جا رہاہے ۔ فیڈریشن کے مطابق، ڈی ایم آرآئی نے گروپ ’سی ‘کے تکنیکی اور غیر تکنیکی عملہ کے انتظامی تبادلوں کا آغاز کیا ہے، خاص طور پر نرسنگ پرسنل اس میں شامل ہیں ۔ احتجاج کرنے والی نرسوں نے دلیل دی ہے کہ تبادلوں سے ان کی ذاتی اور خاندانی زندگی بری طرح متاثر ہوگی، خاص طور پر خواتین ملازمین جو بچوں کی دیکھ بھال اور خاندان کے بزرگ افراد کی دیکھ ریکھ کی ذمہ دار ہیں ۔
 

یہ بھی پڑھئے : اسمارٹ واچ صحیح ڈھنگ سے کام نہ کرنے پر عازمین کی شدید برہمی

احتجاج کے دوران گھاٹی اسپتال عملہ کے رکن مکرند نے کہا کہ ’’ نرسیں اس اقدام کی سختی سے مخالفت کر رہی ہیں کیونکہ اسپتال پہلے سے ہی اندرونی منتقلی کے نظام پر عمل کرتے ہیں جس میں ہر دو سے تین سال بعد وقتاً فوقتاً وارڈ تبدیل ہوتے ہیں۔ حکومت نے نرسوں کے تبادلے کا عمل شروع کرنے کا حکم جاری کیا ہے ۔ ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ ہم پہلے ہی ہر دو سے تین سال بعد اندرونی منتقلی اور وارڈ کی تبدیلیوں سے گزرتے ہیں۔ یہ تبادلے مالی ذمہ داریوں یا ادائیگی کے نظام سے منسلک نہیں ہیں۔ زیادہ تر نرسیں خواتین ہیں اور اس طرح کی منتقلی ان کے خاندانوں کو پریشان کرے گی ۔ اس لئے اس فیصلہ کی مخالفت کی جارہی ہے۔‘‘فیڈریشن کی صدر اندومتی نے کہا کہ’’ اس فیصلے سے پیشہ ورانہ اور گھریلو ذمہ داریاں نبھانے والی خواتین نرسوں کیلئے شدید مشکلات پیدا ہوں گی۔ نرسنگ کا یہ پیشہ زیادہ تر خواتین پر مشتمل ہے۔ اگر کسی خاتون کا تبادلہ ہو جاتا ہے تو اس کے گھر والے پریشان ہو جاتے ہیں۔ عملہ کے بہت سے اراکین میں ۲؍ سے ۳؍ سال کے چھوٹے بچے ہوتے ہیں اور وہ بوڑھے والدین اور سسرال کا بھی خیال رکھتے ہیں۔ خواتین کی منتقلی سے بہت زیادہ مسائل پیدا ہوتے ہیں۔‘‘

فیڈریشن نے یہ بھی سوال کیا کہ ’’نرسوں کو انتظامی ٹرانسفر رولز کے تحت کیوں لایا جا رہا ہے؟ جبکہ ان کی بنیادی ذمہ داری انتظامیہ کے بجائے مریضوں کی دیکھ بھال ہے ۔‘‘ تنظیم نے یہ بھی کہا ہےکہ’’ اسپتال کے پاس پہلے سے ہی ایک موثر داخلی منتقلی کا طریقہ کار موجود ہے ،چنانچہ ریاست بھر میں منتقلی کی نئی پالیسی غیر منصفانہ ہے۔‘‘
دوسرے سرکاری اسپتالوں سے بھی احتجاج کی اطلاع ملی، جہاں نرسیں بڑی تعداد میں جمع ہوئیں ۔ انہوں نے پلے کارڈ اُٹھا رکھے تھے اور منتقلی کے عمل کے خلاف نعرے لگارہی تھیں۔ عو امی صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں عملہ کی پالیسیوں، ملازمین کی بہبود اور سرکاری اسپتالوں کے کام کاج پر بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان اس احتجاج نے حکومت پر دباؤ بڑھایا ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK