لکھیم پور کھیری تشدد کیس میںپولیس نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اس معاملے کی چارج شیٹ میں مذکورہ افراد کا نام شامل نہیں ہے۔
EPAPER
Updated: July 17, 2026, 10:18 AM IST | New Delhi
لکھیم پور کھیری تشدد کیس میںپولیس نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اس معاملے کی چارج شیٹ میں مذکورہ افراد کا نام شامل نہیں ہے۔
۲۰۲۱ء کے لکھیم پور کھیری تشدد معاملے میں گواہوں کو مبینہ طور پر دھمکانے سے متعلق مقدمہ کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کو اتر پردیش پولیس نے اطلاع دی کہ تحقیقات میں آشیش مشرا اور اس کے والد، سابق مرکزی وزیر اجے مشرا ٹینی کے ملوث ہونے کا کوئی قابل اعتبار ثبوت نہیں ملا ہے۔آشیش مشرا کی ضمانت سے متعلق عرضی پر سماعت کے دوران ان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ گواہوں کو دھمکانے کے معاملے میں چارج شیٹ داخل کی جا چکی ہے، تاہم اس میں نہ تو آشیش مشرا کا نام شامل ہے اور نہ ہی اجے مشرا ٹینی کا۔ سپریم کورٹ نے اس بیان کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا یا ہے۔ریاستی حکومت کی جانب سے داخل کردہ اسٹیٹس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گواہوں کو دھمکانے سے متعلق درج ایف آئی آر کی تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں اور دورانِ تفتیش آشیش مشرا کے خلاف کوئی ایسا ثبوت سامنے نہیں آیا جس کی بنیاد پر ان کے خلاف فرد جرم عائد کی جا سکے ۔ اس مقدمے میں صرف امن دیپ سنگھ کے خلاف چارج شیٹ داخل کر دی گئی ہے جس کا متعلقہ عدالت نے نوٹس بھی لے لیا ہے۔اسٹیٹس رپورٹ کے مطابق اجے مشرا، آشیش مشرا اور دیگر افراد کے مبینہ کردار کی بھی تحقیقات کی گئی تھیں لیکن ان کے خلاف شواہد دستیاب نہیں ہو سکے۔ سپریم کورٹ نے شکایت کنندہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ ریاستی حکومت کی اسٹیٹس رپورٹ کے جواب میں دو ہفتوں کے اندر اضافی حلف نامہ داخل کرے۔واضح رہے کہ گواہوں کو دھمکانے کے الزامات کے سلسلے میں اتر پردیش پولیس نے گزشتہ برس اکتوبر میں مقدمہ درج کیا تھا۔ یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی تھی جب سپریم کورٹ نے شکایت کنندہ بلجندر سنگھ کی شکایت پر مناسب کارروائی نہ ہونے پر پولیس کی سرزنش کی تھی۔واضح رہےکہ یہ کیس کسانوںکے ا حتجاج کے دوران ان پر گاڑی چڑھا دینے کے معاملے سے جڑا ہے جس میںمتعدد کسانوںکی موت ہوگئی تھی۔