پولیس نے ایس آئی ٹی تشکیل دی، سماجی تنظیموں نے خاک چھانی مگر اب تک بچے کا کوئی سراغ نہیں مل سکا، ماں کا رو رو کر برا حال
EPAPER
Updated: April 26, 2026, 12:55 AM IST | Dhule
پولیس نے ایس آئی ٹی تشکیل دی، سماجی تنظیموں نے خاک چھانی مگر اب تک بچے کا کوئی سراغ نہیں مل سکا، ماں کا رو رو کر برا حال
دھولیہ شہر کے مولوی گنج علاقے کی ایک گلی سے ۶؍ سالہ محمد عمر حافظ سلمان ۲۴؍ جنوری ۲۰۲۴ء کی دوپہر اچانک گم ہوگیا تھا۔اس سانحہ کو ۳؍ ماہ گزر گئے لیکن محمد عمر کا اب تک کوئی سراغ نہیں لگا۔ سماجی، سیاسی تنظیموں کی مسلسل تحریکوں کے سبب ضلع ایس پی شری کانت دھیورے نے بچے کی تلاش کیلئے ایس آئی ٹی تشکیل دی لیکن اب تک اس کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔
نمائندۂ انقلاب نے محمد عمر کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ ۳؍ ماہ سے بیٹے کی جدائی کے غم سے بے حال عالیہ پروین اپنے لخت جگر کی موبائل میں تصویر دکھا کر زار و قطار رونے لگیں۔میرا بیٹا کہاں ہے؟ کس حال میں ہے؟ اللّہ کے واسطے کوئی میرے بیٹے کو مجھ سے ملا دو‘‘ عالیہ پروین بیٹے کی جدائی کے غم بس روئے جا رہی ہیں۔محمد عمر کے بڑے ابو نعمان انصاری نے انقلاب کو بتایا کہ اہل خانہ کے علاوہ ملی و سماجی تنظیموں نے محمد عمر کو تلاش کرنے کی بھر پور کوشش کی۔ ضلع ایس پی سے کئی بار ملاقات بھی کی ۔پولیس اب تک ہمیں صرف بھروسہ ہی دیتی آرہی ہےکہ بچے کی تلاش جاری ہے۔پولیس کا یہ جملہ سنتے سنتے ۳؍ مہینے کا عرصہ گزر گیا۔
معلوم ہوکہ محمد عمر کی تلاش کیلئے ضلع پولیس کو مجلس اتحاد المسلمین کے کارپوریٹروں نے کئی بار میمورنڈم دیا۔ اس بابت کارپوریٹر جاوید بلڈر بتاتے ہیں کہ ضلع ایس پی شری کانت دھیورے نے ایس آئی ٹی تشکیل دی ہے لیکن ہمیں افسوس ہے کہ ایس آئی ٹی کی کارروائی برائے نام ہے۔ حتیٰ کہ ضلع ایس پی شری کانت دھیورے کا تبادلہ ہوگیا ہے۔نئے ایس پی کے چارج لیتے ہی ہم ان سے ملاقات کرکے دوبارہ محمد عمر کی تلاش کیلئے جدوجہد شروع کریں گے۔محمد عمر کی گمشدگی پر تحریک چلانے والے اشفاق دھوبی سر نے انقلاب کو بتایا کہ ہم نے۱۳؍ فروری ۲۰۲۶ء کومولوی گنج علاقے سے ایک بڑی ریلی نکالنے کی کوشش کی لیکن ضلع ایس پی نے ناموافق حالات کا جواز پیش کرکے اسکی اجازت نہیں دی۔ البتہ انہوں نے ایس آئی ٹی تشکیل دی لیکن ایس آئی ٹی محمد عمر کو تلاش کرنے میں ہنوز ناکام ہے۔
محمد عمر کے ایک قریبی رشتہ دار نے پولیس کی سست روی کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ ان ۳؍ مہینوں میں پولیس نے بڑے بڑے معاملات ۲۴؍ گھنٹوں میں حل کئے۔ ۴؍ یا ۵؍ گمشدہ بچوں کو تلاش کرلیا۔قتل اور ڈکیتی کے معاملے حل کر لئے لیکن ۶؍ سالہ بچے کو اب تک نہیں ڈھونڈ پائی ہے ۔معلوم ہوکہ پولیس نے محمد عمر کی تلاش کیلئے مولوی گنج علاقے میں ڈاگ اسکواڈ، اور ڈرون کیمرے سب استعمال کئے۔سی سی ٹی وی فوٹیج کھنگال لئے۔سماجی تنظیموں نےمحمد عمر کو تلاش کرنے والے کو ڈیڑھ لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان کیا لیکن کچھ حاصل نہیں ہوا۔اس بابت ایس آئی ٹی ٹیم میں شامل مچھلی بازار پولیس کے پی آئی نیروتی اور چالیس گاوں پولیس کے پی آئی گھوسر سے اس نمائندہ نے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن دونوں ہی افسران سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ محمد عمر کی گم شدگی کے دن سے مولوی گنج علاقے کا ایک نوجوان انصاری محمد وکیل اپنے واٹس ایپ اسٹیٹس پر ہر روز محمد عمر کی تصویر لگاتاہے اور بچے کو تلاش کرنے کی اپیل کے اسٹیٹس رکھتا ہے۔ اس امید پر کہ شاید کوئی اسے دیکھے اور گم شدہ بچے کا پتہ بتا دے۔