الہ آباد ہائی کورٹ کا ایک اور اہم فیصلہ،عدالت نےڈی ایم کے گاڑی ضبط کرنےکے حکم کو منسوخ کر دیا اور جرمانہ بھی لگایااور ایک ہفتے میں ادائیگی نہ کرنے پر سود کا انتباہ بھی دیا۔
EPAPER
Updated: November 04, 2026, 12:30 PM IST | Inquilab News Network | Luckhnow
الہ آباد ہائی کورٹ کا ایک اور اہم فیصلہ،عدالت نےڈی ایم کے گاڑی ضبط کرنےکے حکم کو منسوخ کر دیا اور جرمانہ بھی لگایااور ایک ہفتے میں ادائیگی نہ کرنے پر سود کا انتباہ بھی دیا۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے گایوںکی ضبطی کے ایک اہم معاملے میں فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اتر پردیش کی حدود کے اندر گائے، بیل اور دیگر مویشیوں کو ایک مقام سے دوسرے مقام پر لے جانے کیلئے کسی پرمٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ محض اس بنیاد پر کہ گاڑی کسی سرحدی ضلع میں پکڑی گئی ہے، یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ مویشیوں کو ذبح کرنے کیلئے دوسرے صوبے میں اسمگل کیا جا رہا تھا۔عدالت نے مرزا پور انتظامیہ کی جانب سے مہندرا بولیرو پک اَپ ضبط کرنے کے حکم کو مکمل طور پر من مانا قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا۔ ساتھ ہی گاڑی کے مالک کی روزی روٹی چھیننے اور ذہنی اذیت پہنچانے کے معاملے میں ریاستی حکومت کو معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
یہ فیصلہ جسٹس سندیپ جین نے نثار شاہ کی عرضی پر اُن کے وکیل وپن کمار سنگھ اور سرکاری وکیل کے دلائل سننے کے بعد سنایا۔ معاملے کے مطابق ۵؍ فروری ۲۰۲۵ء کو مرزا پور ضلع کے لال گنج تھانے کی پولیس نے عرضی گزار کی مہندرا بولیرو پک اَپ کو روک لیا تھا۔ گاڑی میں۸؍ بیل، ایک گائے اور ایک بچھڑا تھا۔پولیس نے دعویٰ کیا کہ ان مویشیوں کو ذبح کرنے کے مقصد سے بہار لے جایا جا رہا تھا۔ اس معاملے میں اتر پردیش ’گائے کے ذبیحہ اور جانوروں پر ظلم کی روک تھام کے قانون‘ کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔اس کے بعد ضلع مجسٹریٹ مرزا پور نے ۱۹؍ مئی ۲۰۲۵ء کو گاڑی کو ریاست کے حق میں ضبط کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ اس حکم کے خلاف دائر نظرثانی کی درخواست کو کمشنر وندھیاچل ڈویژن نے بھی خارج کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: یمن کے شہری جنگ کی سفاکانہ قیمت ادا کررہے ہیں،۳؍ لاکھ بے گھر: اقوام متحدہ
عرضی گزار کے وکیل وپن کمار سنگھ نے عدالت میں دلیل دی کہ مذکورہ گاڑی ان کے موکل کی روزی روٹی کا واحد ذریعہ تھی۔ پولیس نے رشوت نہ دینے پر بدنیتی کے تحت کارروائی کرتے ہوئے گاڑی ضبط کی تھی۔ وکیل نے یہ بھی کہا کہ گاڑی سے نہ تو کوئی گائے کا گوشت برآمد ہوا تھا اور نہ ہی کوئی زخمی مویشی ملا تھا۔ عدالت نے کہا کہ صرف اس وجہ سے کہ مرزا پور ضلع بہار کی سرحد سے متصل ہے، یہ قیاس نہیں کیا جا سکتا کہ مویشیوں کو ذبح کرنے کیلئے ہی بہار لے جایا جا رہا تھا۔ ریکارڈ پر ایسا کوئی ثبوت یا گواہ موجود نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ مویشیوں کی منزل اتر پردیش سے باہر کوئی دوسری ریاست تھی۔
ہائی کورٹ نےمتعلقہ قوانین اور سابقہ عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پرمٹ کی ضرورت صرف اسی وقت ہوتی ہے جب مویشیوں کو اتر پردیش کی حدود سے باہر کسی دوسری ریاست میں لے جایا جا رہا ہو۔ عدالت نے واضح کیا کہ ریاست کے اندر مویشیوں کی نقل و حمل پر نہ تو ایسی کوئی قانونی پابندی ہے اور نہ ہی اس کیلئے پرمٹ لازمی ہے۔ وہیں، سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے بھی کیس ڈائری کی بنیاد پر تسلیم کیا کہ ویٹرنری افسر کی جانچ میں تمام مویشی صحت مند پائے گئے تھے۔ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آئین کے آرٹیکل ۲۱؍ کے تحت ہر شہری کے حقِ زندگی اور روزگار کا تحفظ حاصل ہے۔ہائی کورٹ نے ضلع مجسٹریٹ مرزا پور کے ضبطی کے حکم اور کمشنر کے نظرثانی کے حکم کو منسوخ کرتے ہوئے ہدایات جاری کیں کہ ضبط کی گئی گاڑی کو فوری طور پر اور زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے کے اندر اس کے مالک کے حوالے کیا جائے۔
عدالتی فیصلے کے اہم نکات
۵؍ فروری ۲۰۲۵ء سے گاڑی کی واپسی تک مالک کو ۲۵؍ ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے معاوضہ ادا کیا جائے کیونکہ متاثرہ کے روزی روٹی کے حق کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔
غیر ضروری مقدمہ بازی اور ذہنی اذیت کے ازالے کیلئے مزید۲۵؍ ہزار روپے یکمشت ادا کئے جائیں۔
مقررہ مدت میں ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں ۸؍ فیصد سالانہ سود بھی ادا کرنا ہوگا۔
گاڑی کی غیر قانونی ضبطی کے ذمہ دار افسران کی شناخت کیلئے حکومت محکمہ جاتی انکوائری کرا سکتی ہے اور ان افسران سے معاوضے کی رقم وصول کر سکتی ہے۔