شمالی کوریا کےلیڈر کِم جونگ اُن نے ایک بار پھر مکمل انتخابی کامیابی حاصل کر لی ہے، جہاں ان کی حکمران جماعت ورکرز پارٹی آف کوریا اور اسکے اتحادی گروپوں نے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں۹۹ء۹۳؍ فیصد ووٹ حاصل کیے۔
EPAPER
Updated: March 20, 2026, 10:36 AM IST | Pyongyang
شمالی کوریا کےلیڈر کِم جونگ اُن نے ایک بار پھر مکمل انتخابی کامیابی حاصل کر لی ہے، جہاں ان کی حکمران جماعت ورکرز پارٹی آف کوریا اور اسکے اتحادی گروپوں نے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں۹۹ء۹۳؍ فیصد ووٹ حاصل کیے۔
شمالی کوریا کےلیڈر کِم جونگ اُن نے ایک بار پھر مکمل انتخابی کامیابی حاصل کر لی ہے، جہاں ان کی حکمران جماعت ورکرز پارٹی آف کوریا اور اسکے اتحادی گروپوں نے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں ۹۳ء۹۹؍ فیصد ووٹ حاصل کیے۔۱۵؍ مارچ کو منعقد ہ اس انتخاب میں۱۵؍ویں سپریم پیپلز اسمبلی کے اراکین کا انتخاب کیا گیا۔ سرکاری میڈیا ادارے کورین سینٹرل نیوز ایجنسی کے مطابق حکومتی حمایت یافتہ امیدواروں نے تمام نشستیں جیت لیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ۹۳ء۹۹؍ فیصد عوام نے کم جونگ اُن کی جماعت کے حق میں ووٹ دیا۔ تاہم سرکاری میڈیا نے ووٹوں کی شرح۹۹ء۹۷؍ فیصد بتائی، جبکہ ووٹر ٹرن آؤٹ حیران کن طور پر۹۹ء۹۹؍ فیصد رہا۔ رجسٹرڈ ووٹرز میں سے تقریباً ۰۰۳۷ء۰؍فیصد افراد ووٹ ڈالنے سے قاصر رہے کیونکہ وہ بیرونِ ملک تھے، جبکہ نہایت قلیل تعداد، تقریباً ۰۰۰۰۳ء۰؍ فیصد، نے ووٹ ڈالنے سے گریز کیا، جیسا کہ میڈیا نے دعویٰ کیا۔بیلٹ پیپر پر کوئی اپوزیشن امیدوار موجود نہیں تھا۔ ہر حلقے میں ووٹرز کو صرف ایک پہلے سے منظور شدہ امیدوار دیا گیا، جسے وہ یا تو قبول کر سکتے تھے یا مسترد۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ باقی ۰۷ء۰؍ فیصد ووٹ کسی مخالف جماعت یا لیڈر کو نہیں ملے، بلکہ یہ وہ ووٹرز تھے جنہوں نے سرکاری امیدوار کے خلاف ’’نہیں‘‘ کا ووٹ دیا۔ملک کے انتخابی قوانین کے مطابق مجموعی طور پر۶۸۷؍ نمائندے سپریم پیپلز اسمبلی کے لیے منتخب کیے گئے۔ہر حلقے میں صرف ایک ہی امیدوار ہوتا ہے، جسے حکمران نظام، جس کی قیادت کم جونگ کرتے ہیں، پہلے ہی منظور کر چکا ہوتا ہے۔ ووٹرز کے پاس صرف دو ہی آپشن ہوتے ہیں: امیدوار کو منظور کرنا یا مسترد کرنا۔