Updated: May 20, 2026, 8:01 PM IST
| Oslo/New Delhi
نارویجین اخبار ’آفتن پوستن‘ میں شائع ہونے والا مودی کا متنازع کارٹون دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا جہاں کئی صارفین نے روزنامے پر ہندوستان اور ہندوستانیوں سے جڑے نوآبادیاتی دور کے دقیانوسی تصورات کا استعمال کرکے ہندوستان کو بدنام کرنے کا الزام لگایا۔
وزیر اعظم مودی۔ تصویر: آئی این این
ناروے کے معروف اخبار ’آفتن پوستن‘ (Aftenposten) میں شائع ہونے والے ایک کارٹون میں وزیراعظم نریندر مودی کو ”سپیرے“ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ مودی کے دورہ ناروے کے بعد سامنے آنے والے اس متنازع کارٹون نے سوشل میڈیا پر ہندوستانی صارفین کی جانب سے شدید ردِعمل کو جنم دیا ہے۔ ’آفتن پوستن‘ میں مودی کے متنازع کارٹون کو ایک مضمون کے ساتھ شائع کیا گیا جس کی سرخی کا ترجمہ ”ایک چالاک اور تھوڑا پریشان کن آدمی“ ہے۔ اس تصویر میں مودی کو ایک سپیرے کے طور پر دکھایا گیا ہے اور پٹرول پمپ کے نوزل پائپ کو سانپ کے روپ میں پیش کیا گیا ہے۔
یہ کارٹون دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا جہاں کئی صارفین نے نارویجین روزنامے پر ہندوستان اور ہندوستانیوں سے جڑے نوآبادیاتی دور کے دقیانوسی تصورات کا استعمال کرکے ہندوستان کو بدنام کرنے کا الزام لگایا۔ ’سپیرے‘ کے اس خاکے کو نسل پرستانہ اور غیر ملکیوں سے نفرت پر مبنی دقیانوسی تصور کے طور پر تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اسے تاریخی طور پر مغربی میڈیا اور عوامی ثقافت کے کچھ حصوں میں ہندوستان کو ایک عجیب و غریب اور پسماندہ انداز میں پیش کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ یہ تنازع مودی کے دورہ ناروے کے بعد سامنے آیا، جہاں پریس کی آزادی اور میڈیا کے ساتھ روابط پر ہونے والی بحثیں پہلے ہی شہ سرخیوں میں ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نارویجین صحافی ہیلے لینگ کا دعویٰ؛ مودی سے سوالات کرنےکے بعد فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس معطل ہوگئے
ہندوستانی سوشل میڈیا صارفین نارویجین اخبار پر برہم
سوشل میڈیا پر متعدد ہندوستانی صارفین نے متنازع کارٹون شائع کرنے پر نارویجین روزنامے پر تنقید کی اور اس خاکے کو ہندوستان اور اس کے کروڑوں شہریوں کیلئے توہین آمیز اور متعصبانہ قرار دیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ یہ خاکہ ”نسل پرستانہ“ اور ”تذلیل آمیز“ ہے۔ انہوں نے مغربی میڈیا پر الزام لگایا کہ وہ ”ہندوستان کی ترقی اور کامیابی کو ہضم“ کرنے سے قاصر ہے۔
ایک پوسٹ میں، نارویجین پریس جسے ”دنیا کا آزاد ترین پریس“ کہا جاتا ہے، پر سوال اٹھاتے ہوئے دلیل دی گئی کہ اگر کسی ہندوستانی یا ایشیائی ادارے نے کسی مغربی لیڈر کا نوآبادیاتی دقیانوسی تصورات پر مبنی ایسا خاکہ بنایا ہوتا تو ردِعمل بالکل مختلف ہوتا۔ صارف نے مزید لکھا، ”۱۴۰ کروڑ لوگوں کے ذریعے جمہوری طور پر منتخب وزیرِ اعظم کی بے عزتی کرنا اور پریس کی آزادی کے پیچھے چھپنا کوئی صحافتی برتری نہیں ہے۔“ ایک اور پوسٹ میں اس کارٹون کو مغربی میڈیا کی ”حقارت آمیز نوآبادیاتی ذہنیت“ کا ثبوت قرار دیا گیا اور ہندوستانیوں کے خلاف ”سپیرا والے فرسودہ تصور“ کے استعمال پر تنقید کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: ناروے: پریس کو مودی سےسوالات کرنے کا موقع نہیں ملا، وزارتِ خارجہ کی نارویجین صحافی کے ساتھ تلخ کلامی
اس تنازع نے ۲۰۲۲ء کے ایک ایسے ہی واقعے کی یادیں بھی تازہ کر دیں جب ہسپانوی اخبار ’لا وانگوارڈیا‘ (La Vanguardia) کو ہندوستان کی معاشی ترقی پر رپورٹنگ کے دوران سپیرے کا خاکہ شائع کرنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
خبر لکھے جانے تک، `آفتن پوستن` نے کارٹون پر ہونے والی تنقید کا عوامی سطح پر کوئی جواب نہیں دیا ہے۔