عمارت کی چوتھی منزل اور پانچویں منزل کے ٹیریس کو کمرشیل زمرے میں شامل کردیا گیا ۔ ٹرسٹیان نےاسے من مانی اورغلط طریقے سے بھیجا گیا نوٹس قرار دیا اوروکیل کے ذریعے جواب بھی دیا۔
EPAPER
Updated: February 12, 2026, 10:02 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
عمارت کی چوتھی منزل اور پانچویں منزل کے ٹیریس کو کمرشیل زمرے میں شامل کردیا گیا ۔ ٹرسٹیان نےاسے من مانی اورغلط طریقے سے بھیجا گیا نوٹس قرار دیا اوروکیل کے ذریعے جواب بھی دیا۔
مینارہ مسجد ٹرسٹ کو پراپرٹی ٹیکس کا بقایا ۶۹؍لاکھ ۹۴؍ہزار۲۷۳؍ روپے فوری طور پر ادا کرنے کا بی ایم سی ’بی وارڈ‘کی جانب سے نوٹس دیا گیا ہے، بصورت دیگر کارروائی کا انتباہ دیا گیا ہے۔اتنی خطیر رقم ادا کرنے کا نوٹس ملنےکےبعد سے ٹرسٹیان حیران ہیں کہ آخر بی ایم سی کی جانب سے ایسانوٹس کس بنیاد پر اورکیوں جاری کیا گیا ہے ؟
بی ایم سی کی نوٹس میںکیا لکھا گیا ہے؟
بی ایم سی کی جانب سے جاری کردہ نوٹس میں یہ حوالہ دیا گیاہے کہ میمن واڑہ بی وارڈ میں واقع جائیداد کا پراپرٹی ٹیکس (سیکشن ۲۰۲ ؍کے تحت عائد جرمانے کے ساتھ) ۶۹۹۴۲۷۳؍ روپے باقی ہے ،اسے بلا تاخیر ادا کیا جائے ، عدم ادائیگی کی صورت میں ریکوری کی کارروائی کے لئے تجویز کیا جارہاہے۔مینارہ مسجد ٹرسٹ کو انتباہ دیتے ہوئے نوٹس میں آگے لکھا گیا ہےکہ یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ آپ آج تک جرمانے کے ساتھ پچھلا بقایا پراپرٹی ٹیکس ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔اس لئے آپ سے درخواست ہے کہ مذکورہ بقایا واجبات جرمانے کے ساتھ ادا کریں۔ نوٹس جاری کئے جانے کی تاریخ سے ۲۱؍دنوں کے اندر جائزہ لینے اور ’بی وارڈ‘ کی جانب سےذیل میں دی گئی ریکوری کی کارروائی شروع کی جائے گی۔ اسی طرح ممبئی میونسپل کارپوریشن(ایم ایم سی) ایکٹ۱۸۸۸ کی دفعہ ۲۰۲؍ کے تحت ہر ماہ بقایا رقم پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ دفعہ ۲۰۳؍کے تحت غیر منقولہ جائیداد کا اٹیچمنٹ ،دفعہ ۲۰۴؍ کے تحت ڈیفالٹر کا سامان جہاں بھی پایا جائے ضبط کیا جا سکتا ہے، دفعہ ۲۰۵؍ انوینٹری اور فروخت کرنے کا نوٹس، دفعہ ۲۰۶؍کے تحت عوامی نیلامی کا اعلان۔ اسی طرح ایم ایم سی ایکٹ ۱۸۸۸کے سیکشن ۲۱۱؍ اور۲۱۲؍ کی طرف بھی توجہ دلائی جاتی ہے کہ برائے مہربانی پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کے لئے، دفتر کی جانب سے ریکوری کی کارروائی شروع کرنے پر پانی کا کنکشن کا منقطع کردیا جائے گا، لہٰذا، آپ سے درخواست کی جاتی ہے کہ مزیدکارروائی سے بچنے کے لئے مذکورہ بالا پراپرٹی ٹیکس بلا تاخیرادا کریں۔
ٹرسٹ کا جواب ،اسے زیادتی قرار دیا
بی ایم سی کی جانب سے مینارہ مسجد ٹرسٹ کو جاری کردہ نوٹس کی ٹرسٹی عبدالوہاب مرچنٹ نے توثیق کی اوربتایا کہ ’’ دراصل یہ مینارہ مسجد سے متصل اس عمارت کا معاملہ ہےجس میںدارالعلوم محمدیہ چلایا جارہا ہے ۔اُن کے مطابق بی ایم سی کی جانب سے نوٹس میںسب سے حیران کن یہ ہے کہ عمارت کی چوتھی منزل اور پانچویں منزل کے ٹیریس کومن مانے طریقے سے کمرشیل زمرے میں شامل کردیا گیا ہےاوراس پر بھی بغیر کسی پیشگی اطلاع کے گزشتہ چند برس میں۲۰۰؍ گنا سے زائد ٹیکس بڑھادیا گیا ہے۔سوال یہ ہے کہ وہاں ادارہ چلتا ہے، طلبہ زیرتعلیم ہیں، پھر اسے کمرشیل زمرے میں شامل کرنے کا کیا جواز ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:یوپی اسمبلی میں بجٹ پیش، اپوزیشن نے ناکام قرار دیا
عبدالوہاب مرچنٹ نے یہ بھی بتایا کہ ’’ٹرسٹ کی جانب سے ا س معاملے میں متعدد مرتبہ بی ایم سی کوخطوط لکھے گئے ہیں، ان خطوط کی نقول ٹرسٹ کے پاس موجود ہیںکہ جس طرح دیگر اداروں کے لئے رعایتی ٹیکس کا ضابطہ ہے، اس کے مطابق یہاںبھی نافذکیا جائے تو مینارہ مسجد ٹرسٹ اپنی دیگر پراپرٹیز کی طرح اس عمارت کا بھی ٹیکس بلا تاخیر ادا کردے گا۔‘‘
انہوں نے مزیدبتایا کہ ’’بی ایم سی کے نوٹس کاوکیل کے ذریعے جواب دے دیا گیا ہے۔ اسی تعلق سے بدھ ۱۱؍فروری کو دارالعلوم محمدیہ کے ناظم اعلیٰ مولانا سید خالد اشرف اور عبدالوہاب مرچنٹ نے مقامی رکن اسمبلی امین پٹیل سے ملاقات کی اورانہیں مسئلے سے آگاہ کرایا تو وہ بھی حیرت زدہ رہ گئے اور انہوں نے اپنی جانب سےجوائنٹ میونسپل کمشنر وشواس شنکروار کو تفصیلی مکتوب روانہ کیا اوراس تعلق میٹنگ کرکے مسئلے حل کرنے کی سفارش کی ۔‘‘