نیٹ-یوجی امتحان اور پیپر لیک کے حوالے سے جاری تنازع کے دوران ایک اور بڑی خبر سامنے آ ئی ہے۔۲۱؍ جون کو دوبارہ ہونے والے نیٹ امتحان کے مبینہ پیپر لیک کا دعویٰ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔
EPAPER
Updated: June 05, 2026, 11:29 AM IST | New Delhi
نیٹ-یوجی امتحان اور پیپر لیک کے حوالے سے جاری تنازع کے دوران ایک اور بڑی خبر سامنے آ ئی ہے۔۲۱؍ جون کو دوبارہ ہونے والے نیٹ امتحان کے مبینہ پیپر لیک کا دعویٰ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔
نیٹ-یوجی امتحان اور پیپر لیک کے حوالے سے جاری تنازع کے دوران ایک اور بڑی خبر سامنے آ ئی ہے۔۲۱؍ جون کو دوبارہ ہونے والے نیٹ امتحان کے مبینہ پیپر لیک کا دعویٰ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ ’ایکس‘ پر کئے گئے ایک دعوے کے مطابق ٹیلی گرام پر کچھ مشتبہ گروپس کے ذریعہ ۲۱؍ جون کے امتحان کے سوالنامے فروخت کرنے کا دھندا چلایا جا رہا ہے جس کےلئےامید واروں سے ۳۵؍ ہزار روپے ایڈوانس کی مانگ کی جا رہی ہے۔ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) اس خبر سے حیران ہے اور اس نے معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اسے محکمہ سائبر کرائم کو سونپ دیا ہے۔
نیوز پورٹل ’آج تک‘ کی خبر کے مطابق یہ پورا معاملہ ’ایکس‘ صارف پرنس شریواستو کے ذریعہ سامنے لایا گیا ہے۔اس نے اسکرین شاٹ اور لنکس شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ٹیلی گرام پر ’پروف‘، ’پرائیویٹ گروپ‘ اور ’پرائیویٹ مافیا‘ نام سے ۳؍گروپ ہیں۔ ان تینوں گروپوں کو کسی ایک ہی شخص کے ذریعہ آپریٹ کیا جا رہا ہے جسکے تقریباً ۳؍ ہزار سے زیادہ ممبرس ہیں۔امیدواروں کو جھانسے میں لینے کیلئے ان گروپس میں چھپے ہوئے سوالنامے کے بڑے بنڈلوں کی تصاویر پوسٹ کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ۱۴؍ دن بعد معلوم ہوا کہ لڑکی نے نیٹ پیپر کے سبب خود کشی کی تھی
اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ۲۱؍ جون کو ہونے والے ’ری اگزام‘ کے اصل سوالنامے ہیں۔ گروپ کی جانب سے باقاعدہ میسیج پن کیا گیا ہے کہ ’’کل سے ایڈوانس پرائس ۳۵؍ ہزار رہے گا۔‘‘ اس کے ساتھ ہی جلد ہی گروپ میں ۱۰؍ سوال مفت میں حل کرانے کا جھانسہ بھی دیا جا رہا ہے۔صارف کی جانب سے وزارت تعلیم، این ٹی اے اور سائبر دوست کو ٹیگ کئے جانے کے بعد نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی فوری طور پر حرکت میں آگئی ہے۔ این ٹی اے کے سرکاری ’ایکس‘ ہینڈل سے جواب دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ محکمہ نے اس پورے معاملے کو نوٹس میں لے لیا ہے۔ سیکوریٹی اور شفافیت کے مد نظر ان سبھی مشتبہ ٹیلی گرام لنکس اور دعوئوں کو آگے کی قانونی کارروائی کے لئے فوری طور پر محکمہ سائبر کرائم کو بھیج دیا گیا ہے۔دوسری جانب اس معاملے پر سوشل میڈیا کے دیگر ماہرین اور طلبا کا کہنا ہے کہ امتحان کے تناؤ کا سامنا کر رہے امیدواروں کو ٹھگنے کے لیے یہ ایک ’فرضی آن لائن فراڈ‘ ہے۔ تصاویر میں نظر آ رہے سوالناموں کے بنڈل پرانے برسوں کے یا کسی دوسرے امتحان کے بھی ہو سکتے ہیں جس کی تصدیق سائبر جانچ کے بعد ہی ہوگی۔ این ٹی اے اور وزارت تعلیم نے امیدواروں کو سخت ہدایت دی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر چل رہی کسی بھی گمراہ کن باتوں یا دعوئوں پر بھروسہ نہ کریں اور صرف سرکاری ویب سائٹ سے ہی معلومات کی تصدیق کریں۔غور طلب ہے کہ ۳؍مئی کو منعقد ہوئے نیٹ امتحان میں پیپر لیک کے پختہ ثبوت ملنے اور سی بی آئی جانچ کے درمیان این ٹی اے نے امتحان منسوخ کر دیا تھا۔ اس معاملے میں اب تک ۱۳؍ اہم ملزمین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ اب نیٹ کا دوبارہ ہونے والا امتحان ۲۱؍ جون کو ایک شفٹ میں دوپہر ۲؍ بجے سے شام ۵؍ بجے تک منعقد کیا جائے گا۔ اس امتحان کے ایڈمٹ کارڈ ۱۴؍ جون کو سرکاری ویب سائٹ پر جاری کر دیئے جائیں گے۔