Inquilab Logo Happiest Places to Work

۱۴؍ دن بعد معلوم ہوا کہ لڑکی نے نیٹ پیپر کے سبب خود کشی کی تھی

Updated: June 05, 2026, 10:52 AM IST | Ali Imran | Nagpur

ناگپور کی اسنیہا چترویدی نے ۲۰؍ مئی کو خودکشی کی تھی، اب اس کی کتاب سے سوسائڈ نوٹ ملا ہے جس میں نیٹ پیپر لیک معاملے کا تذکرہ ہے۔

Right: Suicide note, Left: Suicide victim Sneha Chaturvedi. INN
دائیں: سوسائڈ نوٹ ، بائیں: خود کشی کرنے والی اسنیہا چترویدی۔ آئی این این

۱۴؍دن پہلے ناگپور میں خودکشی کرنے والی ۲۰؍ سالہ اسنیہا عرف اکانکشا چترویدی کے اہل خانہ نے الزام لگایا ہے کہ نیٹ پیپر لیک تنازع اور دوبارہ امتحان کروانے کے فیصلے نے اُن کی بیٹی کو انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کیا ہے۔ یہ دعویٰ ایک مبینہ خودکشی نوٹ ملنے کے بعد سامنے آیا ہے جواہل خانہ کے مطابق اسنیہا کی آخری رسومات کے بعد مدھیہ پردیش کے مئوگنج ضلع میں اپنے آبائی گاؤں لوٹنے پر اس کی ایک کتاب کے اندر سے بر آمد ہوا۔ طالبہ اپنے خاندان کے ساتھ ناگپور میں رہ رہی تھی، جہاں اس کے والد باورچی کے طور پر کام کرتے ہیں۔

  اس نےسوسائڈ نوٹ میں لکھا تھا’’ مجھے نیٹ امتحان میں اچھے نمبر ملنے کی  امید تھی، لیکن اب اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ اگر مجھے دوبارہ پیپر دینا پڑا تو میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرپاؤں گی۔ مجھے افسوس ہے، ماں اور پاپا، میں نے سب کچھ گنوا دیا ہے۔‘‘ اسنیہا کے اہل خانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ امتحان منسوخ ہونے پر ڈپریشن میں چلی گئی تھی، حالانکہ گھر والوں کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ نیٹ امتحان منسوخ ہونے کا اس پر اتنا گہرا اثر ہوا ہے۔ اس کے والد کرشن کمار نے کہا، ’’میری بیٹی ہونہار تھی اور ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھتی تھی۔ اپنے محدود وسائل کے باوجود، ہم نے اس کی تعلیم کیلئے لاکھوں کا قرضہ لیا۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ’’ جس لمحے پیپر لیک ہونے اور کینسل ہونے کی خبر آئی، وہ شدید صدمے میں تھی، جذباتی طور پر  اندر سے پوری طرح ٹوٹ چکی تھی۔‘‘ انہوں نے کہا’’ میری ۲۰؍سال کی محنت رائیگاں گئی کیونکہ حکومت امتحان منعقد کروانے میں ناکام رہی۔  میرا ایک چھوٹا بیٹا ہے، جو نویں کلاس میں پڑھ رہا ہے، اسے تعلیمی نظام کی ناکامی سے صدمہ پہنچانے سے بہتر ہے کہ اسے کاشتکاری میں لگا دیا جائے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ۱۷؍ میں سے ۶؍ مقامات پر مہایوتی بلامقابلہ کامیاب

یاد رہے کہ اسنیہا نے ۲۰؍ مئی کو خود کشی کر لی تھی۔ دوپہر کے وقت اس کی ماں نے اسے کھانا کھانے کیلئے کہا تو اس نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ اسے بھوک نہیں لگی ہے۔ پھر وہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔ کافی دیر تک جب وہ باہر نہیں آئی تو دروازہ کھٹکھٹایا گیا لیکن اندر سے کوئی جواب نہیں آیا۔ تب اس کے ۱۲؍ سالہ بھائی نے اوپر چھجے پر چڑھ کر کھڑکی میں جھانکا تو معلوم ہوا کہ اسنیہا نے اپنے دوپٹے کے ذریعے خود کو پھانسی سے لٹکا لیا ہے۔ اس وقت اسے محض خود کشی کا معاملہ قرار دیا گیا تھا لیکن اب جبکہ مبینہ طور پر اسنیہا کا سوسائڈ نوٹ ملا ہے تو کہا جا رہا ہے کہ یہ موت نیٹ پیپر لیک معاملے کے سبب ہوئی۔

  اس خبر کے بعد کانگریس یوتھ صدر گھنگھوریا نے سوگوار خاندان سے ملاقات کی اور انہیں تعلیمی قرض سے نمٹنے میں تعاون کا یقین دلایا۔ انہوں نےاس موت کیلئے حکومت کے ناقص تعلیمی نظام ذمہ دار قرار دیا۔ یاد رہے کہ اس خبر کو کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK