Updated: August 10, 2026, 5:12 PM IST
| New Delhi
ہندوستان میں ایشیائی شیروں کے تحفظ کی کوششوں کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے اور گزشتہ ایک دہائی میں ان کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مرکزی وزیر ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی بھوپیندر یادو نے عالمی یومِ شیر ۲۰۲۶ء کے موقع پر بتایا کہ ملک میں ایشیائی شیروں کی تعداد ۲۰۱۵ء کے ۵۲۳؍ سے بڑھ کر ۲۰۲۵ء میں ۸۹۱؍ ہو گئی ہے۔ انہوں نے اس کامیابی کو جنگلاتی حکام، ماحولیاتی محافظوں اور مقامی برادریوں کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے شیر کے قدرتی مساکن اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔
ہندوستان میں ایشیائی شیروں کی تعداد ۲۰۱۵ء میں ۵۲۳؍ سے بڑھ کر ۲۰۲۵ء میں ۸۹۱؍ ہو گئی ہے۔ مرکزی وزیرِ ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی بھوپیندر یادو نے پیر کو یہ اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ شیروں کی تعداد کا بڑھنا جنگلات کے حکام، ماحولیاتی محافظوں اور مقامی برادریوں کی لگن کا نتیجہ ہے۔ بھوپیندر یادو نے شیروں کے عالمی دن ۲۰۲۶ء کے موقع پر جنگلی حیات اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے تئیں ہندوستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ایشیائی شیروں کے تحفظ میں ملک کی کامیابی جنگلی حیات اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے تئیں ہندوستان کے گہرے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے اس کامیابی کا سہرا جنگلات کے حکام، ماحولیاتی محافظوں ، مقامی برادریوں اور شیروں کے تحفظ کیلئے مسلسل کوششیں کرنے والے تمام لوگوں کے سر باندھا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اپنے قدرتی ورثے کے تحفظ کیلئے پرعزم ہے اور یہ یقینی بنایا جائے گا کہ ایشیائی شیروں کی دہاڑ آنے والی نسلوں تک سنائی دیتی رہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ریزرویشن کیلئے جان دینے اور لینے کوتیار ہوں‘‘
ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیرمملکت کیرتی وردھن سنگھ نے بھی عالمی یومِ شیر کے موقع پر کہا کہ اہم مساکن کی حفاظت، تحفظ کے پروگراموں کو مضبوط کرنے اور انسان و جنگلی حیات کے بقائے باہم کو فروغ دے کر ہندوستان نے دنیا کے سامنے یہ مثال قائم کی ہے کہ ترقی اور فطرت کا تحفظ ساتھ ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ۱۵؍ اگست ۲۰۲۰ء کو شیروں کے طویل مدتی تحفظ کیلئے ’پروجیکٹ لائن‘ کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد ۲۰۲۰ء سے شیروں کے علاقے میں نمایاں توسیع ہوئی ہے۔ یہ علاقہ تقریباً ۳۰؍ ہزار مربع کلومیٹر سے بڑھ کر تقریباً ۳۵؍ ہزار مربع کلومیٹر ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پرشانت کشور اور سونیترا پوار کی ملاقات پرسپریہ سُلےکا ردعمل
’پروجیکٹ لائن‘ کے تحت حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کیلئے جامع اور جغرافیائی سطح پر مرکوز نقطۂ نظر اپنایا گیا ہے۔ اس میں مساکن کی بہتری، بیماریوں کی نگرانی اور ویٹرنری امداد، سائنسی طریقے سے آبادی کی نگرانی، ٹیکنالوجی پر مبنی اقدامات، حیاتیاتی تنوع کا تحفظ، فوائد کی تقسیم اور مقامی برادریوں کی شمولیت پر خصوصی زور دیا جا رہا ہے۔