ایک عالمی پراپرٹی مینجمنٹ فرم نائٹ فرینک کی ایک تحقیق کے مطابق، ہندوستان میں۲۰۳۱ء تک ارب پتی افراد کی تعداد ۲۰۷؍ سے بڑھ کر۳۱۳؍ اور انتہائی زیادہ دولت رکھنے والے افراد کی تعداد ۲۵۲۰۰؍سے زیادہ ہونے کی توقع ہے۔
EPAPER
Updated: April 24, 2026, 7:07 PM IST | Mumbai
ایک عالمی پراپرٹی مینجمنٹ فرم نائٹ فرینک کی ایک تحقیق کے مطابق، ہندوستان میں۲۰۳۱ء تک ارب پتی افراد کی تعداد ۲۰۷؍ سے بڑھ کر۳۱۳؍ اور انتہائی زیادہ دولت رکھنے والے افراد کی تعداد ۲۵۲۰۰؍سے زیادہ ہونے کی توقع ہے۔
ایک عالمی پراپرٹی مینجمنٹ فرم نائٹ فرینک کی ایک تحقیق کے مطابق، ہندوستان میں۲۰۳۱ء تک ارب پتی افراد کی تعداد ۲۰۷؍ سے بڑھ کر۳۱۳؍ اور انتہائی زیادہ دولت رکھنے والے افراد کی تعداد ۲۵۲۰۰؍سے زیادہ ہونے کی توقع ہے۔ تحقیق کے مطابق، اس وقت ہندوستان میں ۲۰۷؍ ارب پتی اور۱۹۸۷۷؍ انتہائی امیر افراد موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:عید۲۰۲۷ء:سلمان خان کی ’’ایس وی سی۶۳‘‘ کا مقابلہ پربھاس کی ’’اسپرٹ‘‘ سے ہوگا
یہ فرم ان افراد کو انتہائی امیر قرار دیتی ہے جن کے پاس۳۰؍ ملین ڈالر (یا ۲۸۳؍ کروڑ روپے) یا اس سے زیادہ مالیت کے اثاثے ہوں۔جمعرات کو شائع ہونے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’تیز رفتار اندرونی دولت کی تخلیق پراپرٹی مارکیٹ کے بالائی حصے کو تبدیل کر رہی ہے، خاص طور پر ممبئی میں۔‘‘ یہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دسمبر میں جاری ہونے والی ۲۰۲۶ء ورلڈ اِن اکوالیٹی رپورٹ کے مطابق ہندوستان دنیا کے سب سے زیادہ غیر مساوی ممالک میں شامل ہے، جہاں سب سے امیرایک فیصد آبادی کے پاس ۴۰؍فیصد دولت موجود ہے۔ورلڈ اِن اکوالیٹی لیب کی اس تحقیق کے مطابق، حالیہ برسوں میں ہندوستان میں عدم مساوات میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آئے۔
یہ بھی پڑھئے:آئی سی سی خواتین چیلنج ٹرافی: نیپال، اٹلی، امریکہ اور روانڈا میں سخت مقابلہ
اس رپورٹ کے مطابق، امیر ترین ۱۰؍ فیصدافراد کے پاس ملک کی تقریباً ۶۵؍فیصد مجموعی دولت موجود ہے۔ یکم اپریل کو غیر منافع بخش تنظیم سینٹر فار فنانشل اکاؤنٹیبلٹی اور ٹیکس دی ٹاپ مہم کی جانب سے جاری کردہ ۲۰۲۶ء ویلتھ ٹریکر انڈیا کے مطابق، ہندوستان کے پانچ امیر ترین خاندانوں کی دولت ۲۰۱۹ء سے ۲۰۲۵ء کے درمیان ۴۰۰؍فیصد تک بڑھ گئی۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ملک کی نچلی ۵۰؍فیصد آبادی کا دولت میں حصہ ۲۰۲۴ء تک ۴ء۶؍فیصد پر جمود کا شکار رہا۔