Inquilab Logo Happiest Places to Work

مسلم اراکین اسمبلی کی تعداد میں کمی ، ۲۸۲؍ ہوگئی

Updated: May 07, 2026, 9:40 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai

۲۰۱۴ء سے ملک میں بی جےپی کے عروج نے ہندوستان کے سیاسی منظرنامے کو بھی بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس کا ایک نمایاں نتیجہ ریاستی اسمبلیوں میں مسلم نمائندگی میں تیزی کے ساتھ کمی کی شکل میں برآمد ہوا ہے۔

Indian Muslim.Photo:INN
ہندوستانی مسلمان۔ تصویر:آئی این این
  ۲۰۱۴ء   سے ملک میں  بی جےپی کے عروج  نے ہندوستان  کے سیاسی منظرنامے کو بھی بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس کا ایک نمایاں نتیجہ ریاستی اسمبلیوں میں مسلم نمائندگی میں تیزی کے ساتھ کمی کی شکل میں برآمد ہوا ہے۔
۲۰۱۳ء میں ملک بھر میں مسلم اراکین اسمبلی کی تعداد۳۳۹؍ تھی جو اب گھٹ کر تقریباً ۲۸۲؍ رہ گئی ہے۔ یہ اعدادوشمار ’انڈین ایکسپریس‘ میں  ذیشان شیخ  نے اپنی ایک رپورٹ میں پیش کئے ہیں۔ان کے تجزیہ کے مطابق  سب سے زیادہ کمی بڑی ریاستوں میں دیکھی گئی۔ اتر پردیش میں مسلم ایم ایل ایز کی تعداد تقریباً نصف ہو کر۶۳؍ سےگھٹ کر ۳۱؍ رہ گئی ہے۔ مغربی بنگال میں یہ تعداد۵۹؍ سے کم ہو کر۳۷؍ ہوگئی ہے۔ اسی طرح بہار ۱۹؍ مسلم رکن اسمبلی تھے ،   گھٹ کر۱۱؍  رہ گئے ہیں۔ راجستھان میں بھی مسلم ایم ایل ایز کی تعداد۱۱؍ سے کم ہو کر۶؍ ہوگئی ہے۔یہ کمی اس لئے زیادہ اہم  ہے کہ ان ریاستوں  میں ملک کی مسلم آبادی کا بڑا حصہ رہتاہے۔ اتر پردیش کی آبادی میں مسلمان ۱۹؍  فیصد ہیں لیکن اسمبلی میں ان کی نمائندگی۸؍ فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے۔ مغربی بنگال میں مسلم آبادی تقریباً ۲۷؍ فیصد ہے مگر اسمبلی میں ان کا حصہ ۱۲ء۶؍ فیصد ہے۔ بہار میں مسلم آبادی تقریباً۱۷؍ فیصد ہے لیکن اسمبلی میںمسلم اراکین صرف ۴ء۵؍ فیصد  ہیں۔ 
 
 
ایسا ہی فرق دیگر ریاستوں میں بھی نظر آتا ہے۔ آسام میں مسلمان آبادی کا ایک تہائی سے زیادہ ہیں، مگر اسمبلی میں ان کی نمائندگی تقریباً ۱۷؍ فیصد ہے۔ مہاراشٹر اور کرناٹک میں مسلم ایم ایل ایز کی تعداد صرف۳؍ سے۴؍ فیصد کے درمیان ہے جبکہ ان ریاستوں میں مسلمانوں کی آبادی  ۱۰؍ فیصد سے زیادہ ہے۔
 
 
  جن ریاستوں میں مسلم نمائندگی نسبتاً بہتر تھی، وہاں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔  کیرالا میں مسلم ایم ایل ایز کی تعداد۳۶؍ سے کم ہو کر۳۴؍ہوگئی ہے جبکہ کرناٹک میں۱۱؍ سے گھٹ کر۹؍ رہ گئی۔ گجرات میں تعداد۲؍ تھی جو اب  ایک ہوگئی ہےجبکہ چھتیس گڑھ اسمبلی میں ایک بھی مسلم ایم ایل اے نہیں ہے۔ اس وقت ۷؍ ریاستوں  اروناچل پردیش، گوا، ہماچل پردیش، میزورم، ناگالینڈ، سکم اور چھتیس گڑھ  میں ایک بھی مسلم ایم ایل اے نہیں  ہے۔تاہم  اس معاملے میں چند استثنیٰ بھی ہیں۔تمل ناڈو میں مسلم اراکین اسمبلی کی تعداد۸؍ سے بڑھ کر۹؍ہوگئی ہے جبکہ مدھیہ پردیش اور میگھالیہ میں بھی معمولی اضافہ ہوا ہے۔ جموںکشمیر میں مسلم ایم ایل ایز کی تعداد سب سے زیادہ  ہے مگر یہاں بھی کمی آئی ہے۔ پہلے ۵۸؍  ایم ایل اے تھے اب ۵۱؍ ہیں۔ مسلم اراکین اسمبلی کی پارٹیوں سے وابستگی  کے لحاظ سے دیکھیں تو  سب سے زیادہ ۶۱؍ ایم ایل اے کانگریس سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے بعد نیشنل کانفرنس کے۳۹، ترنمول کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے۳۴-۳۴؍مسلم ایم ایل  اےہیں۔مسلم اراکین کی اس فہرست میں بی جےپ کے صرف ۲؍ ایم ایل اے ہیں ۔ ایک منی پور سے اچب الدین اور  دوسرے تریپورہ سے تفضل حسین ہیں۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK