Inquilab Logo Happiest Places to Work

الیکشن کمشنر کی تقرری کیخلاف پٹیشن پر سماعت کا آغاز

Updated: May 07, 2026, 10:03 AM IST | Inquilab News Network | New Delhi

پہلے ہی دن سپریم کورٹ کی ۹؍ رکنی بنچ نے کہا کہ قانون سازی رلیمنٹ کااختیار ہے، عدالت حکم نہیں دے سکتی۔

Superem Court.Photo:INN
سپریم کورٹ۔ تصویر:آئی این این
 الیکشن کمشنر کی تقرری کے پینل سے چیف جسٹس کو ہٹا کر وزیراعظم کے تجویز کردہ کابینی وزیر کی شمولیت  کے قانون کو چیلنج کرنےوالے پٹیشن پر عدالت نے بدھ کو سماعت شروع کردی۔   چیف جسٹس  سوریہ کانت کی قیادت والی ۹؍ رکنی بنچ نے پہلے ہی دن کہاکہ  قانون سازی پارلیمنٹ کا اختیار ہے،عدالت اسے  اس کا حکم نہیں دے سکتی۔  عدالت نے واضح کیا کہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنروں کی تقرری کرنےوالی کمیٹی میں  چیف جسٹس آف انڈیا کی شمولیت  اُس وقت تک کیلئے عارضی نظم تھا جب تک کہ عدالت کوئی قانون نہ بنا لے۔ 
واضح رہے کہ  عدالت میں زیر سماعت درخواستوں الیکشن کمشنر کی تقرری کے پینل سے چیف جسٹس کے ہٹائےجانے پر اعتراض کیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں، جن میں این جی او اسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس اور سماجی کارکن جیا ٹھاکر شامل ہیں، نے کہا  ہےکہ۲۰۲۳ء  میں وضع کئے گئے قانون نے حکومت کو چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرس  کی تقرری پر مکمل کنٹرول دے دیا ہے۔
  مذکورہ قانون دسمبر۲۳ء میں متعارف کرایا گیا تھا جو  بظاہر اسی سال مارچ میں آئینی بنچ کے فیصلے کو غیر مؤثر بنانے کیلئے تھا۔ اس فیصلے میں کہا گیا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری ایک کمیٹی کی سفارش پر ہونی چاہیے، جس میں وزیر اعظم، لوک سبھا میں  اپوزیشن لیڈر  یا سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کے لیڈر اور چیف جسٹس آف انڈیا شامل ہوں۔عدالت نے حکم دیا تھا کہ اس کا یہ فیصلہ اُس وقت تک نافذ  رہے گا جب تک’’پارلیمنٹ آئین کے آرٹیکل۳۲۴(۲) کے مطابق‘‘ الیکشن کمشنر کی تقرری کاقانون نہ بنا دے۔ حکومت نے۲۳ء میں نیا  قانون  بنایا جس میں کمیٹی سے چیف جسٹس کو ہٹا کر مرکزی کابینہ کے ایک  وزیر کو شامل کر دیا گیا۔
 
 
 موجودہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اس  قانون کے تحت مقرر ہونے والے پہلے کمشنر ہیں۔  الیکشن کمشنر کی تقرری کے موجودہ طریقہ کار پر اعتراض کرتے ہوئے سینئر وکیل وجے ہنساریا نے کہا کہ آئین سازوں اور خود سپریم کورٹ نے کبھی یہ تصور بھی نہیں کیا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر ’’وزیر اعظم کا آدمی‘‘ بن جائے۔انہوں نے دلیل دی آئین سازوں اور  سپریم کورٹ دونوں نے الیکشن کمشنرس کی تقرری کو پوری طرح عاملہ (حکومت) کے ہاتھ میں چھوڑنے کے خلاف خبردار کیا تھا۔
 
 
انہوں نے مارچ۲۳ء کے آئینی بنچ کے فیصلے (انوپ برنوال بنام یونین آف انڈیا) میں سپریم کورٹ کے مشاہدات کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ادارے میں مطلوب’’مکمل آزادی، غیر جانبداری اور دیانتداری‘‘کیلئے  ضروری ہے کہ تقرریوں پرحکومت کا’’خصوصی کنٹرول‘‘ختم کیا جائے۔سپریم کورٹ کےفیصلے سے پہلے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرز کی تقرری صدر جمہوریہ وزیر اعظم کے مشورے پر کرتے تھے۔ اس فیصلے کے بعد تقرری کا عمل سی بی آئی ڈائریکٹر کی تقرری کے عمل کے برابر ہو گیا تھا۔ جرح کے دوران  جسٹس دیپانکر دتہ نے  سوال کیا کہ ’’کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ پارلیمنٹ کو قانون بنانے کا اختیار نہیں تھا؟ یا کیا سپریم کورٹ  پارلیمنٹ کو ایک خاص طریقے سے قانون بنانے کا حکم دے سکتاہے؟‘‘درخواست گزاروں کی جانب سے پیش ہونے والے ایک اور سینئر وکیل گوپال سنکر نارائنن نے کہا کہ  ان کی جانب قانون کو چیلنج کرنےوالی  پٹیشن  قانون کی آئینی حیثیت پر بھی سوال اٹھاتی ہے جس  نے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری کا کنٹرول دوبارہ ایگزیکٹو کے حوالے کر دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ’’اصل موضوع یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کی تقرریاں ایگزیکٹو کے کنٹرول میں نہیں ہونی چاہئیں۔‘‘ سپریم کورٹ میں جمعرات کو بھی اس پر شنوائی جاری رہے گی۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK