یہ قلعہ رائے گڑھ ضلع کے اہم ترین قلعوں میں شامل ہے، ورندھا گھاٹ کے تجارتی راستوں پر نظر رکھنے کے لیے اسے استعمال کیا جاتاتھا۔
قلعہ سے دور دور تک کا دلکش نظارہ پیش نظر ہے۔تصویر:آئی این این
چندر گڑھ قلعہ، جسے دھولگڑھ بھی کہتے ہیں، مہاراشٹر کے رائے گڑھ ضلع میں واقع ایک پہاڑی قلعہ ہے۔سہیادری کی پہاڑیوں اور کوئنا وائلڈ لائف سینکچوری کے گھنے جنگلات کے بیچ ۲؍ہزار ۳۳۷؍ میٹر بلند یہ قلعہ ورندھا گھاٹ کے تجارتی راستوں پر نظر رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ آج یہ کھنڈر کی شکل میں ہے، لیکن اس کی فصیلیں، پانی کے ٹینک اور مندر اب بھی تاریخ کی کہانی سناتے ہیں۔
محل وقوع
یہ قلعہ رائے گڑھ ضلع کے اہم ترین قلعوں میں سے تھا۔ بھور سے کوکن تک جانے والے ورندھا گھاٹ کے تجارتی راستوں پر نظر رکھنے کے لیے اس قلعہ کا استعمال کیا جاتاتھا۔
تاریخی پس منظر
یہ قلعہ جاولی کے چندراراؤ مورے نے تعمیر کیا تھا اور انہی کے نام پر اسے’چندرگڑھ‘کہا جاتا ہے۔ ۱۵؍ جنوری۱۶۵۶ءکوچھترپتی شیواجی مہاراج نے یہ قلعہ چندر راؤ مورے سے فتح کیا۔ ساتھ ہی کنگوری اور رایری بھی فتح کر لئے تھے۔سمبھاجی مہاراج کے انتقال کےبعد مغل کمانڈر افتخار خان عرف ذوالفقار خان نےاس پر قبضہ کر لیا۔۱۸۱۸ءمیں ایسٹ انڈیا کمپنی کے پاس چلا گیا اور۱۹۴۷ءکے بعد سے ہندوستانی حکومت کی تحویل میں ہے۔
قلعے میں دیکھنے لائق مقامات
اس قلعہ تک جاتے ہوئے ٹریک کے شروع میں موجود مندر کےپاس مقامی لوگوں سے تانا جی مالوسرے کے ہتھیاروں کے بارے میں پوچھیں، وہ آپ کو ایک ’گُپتی‘(خنجر) اور’دنڈپٹی‘ (خصوصی ڈھال) دکھائیں گے جو ایک آم کے درخت کے قریب سے دریافت ہوئے تھے۔ یہ قلعے کی سیاحت کا سب سے انوکھا اور دلچسپ پہلو ہے۔ قلعے پرایک مندر کی باقیات اور شاہی محل کے آثار دیکھنے کو ملتے ہیں۔ دیواروں میں توپوں کے لیے بنائی گئی جھریاں بھی موجود ہیں جہاں سے دشمن کو روکا جاتا اور وادی پر نظر رکھی جاتی تھی۔ قلعے پر تقریباً ۱۴؍پتھروںمیں تراشے گئے پانی کے ذخیرے اور کچھ ٹوٹےپھوٹے تعمیراتی ڈھانچے موجود ہیں۔ان میں سے۵؍سے ۸؍قابلِ ذکر تالاب ہیں۔ قدیم معماروں نے چٹان پر نہیں بلکہ چٹان کے اندر تراش کر یہ قدرتی ذخیرے بنائے۔ یہ ان کی انجینئرنگ کی مہارت کا شاہکار ہے۔ سیاحوں کے تجربات کے مطابق قلعے کی چوٹی سے رائیشور، کمل گڑھ اور مہابلیشور کی پہاڑیوں کا شاندار نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ مانسون میں پہاڑیوں کے درمیان بادل اس طرح بہتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے جیسے آپ بادلوں کے اوپر کھڑے ہیں۔
ٹریکنگ کا تجربہ
ٹریک کا آغاز دھاولے گاؤں سے ہوتا ہے جو پولادپور سے ۲۰؍ تا ۲۵؍کلومیٹر دور ہے۔ راستہ چھوٹے شیلاروادی بستی سے گزرتا ہے۔ دھولے ندی کےکنارے راستہ کھیتوں اور سیڑھی نما کاشتکاری کےقطعوںسے گزرتا ہے۔ راستے میں’کروند‘ (سرخ بیریاں) کی کانٹے دار جھاڑیاں آتی ہیں۔ تقریباً ۱۵؍، ۲۰؍ منٹ کی چڑھائی کے بعد راستہ دائیں مڑتا ہے اور جنگل کے اندر سے اوپر جاتا ہے۔
یہاں کیسے پہنچیں؟
سڑک کےراستے : چندر گڑھ قلعہ رائے گڑھ میں پولادپور تحصیل کےپاس گاؤں دھولے سےٹریک کر کے پہنچا جاتا ہے۔ ممبئی سے یہاں تک کا مجموعی فاصلہ ۲۸۰؍کلومیٹرہے جسےطے کرنے میں ۶؍تا ۷؍گھنٹے لگتے ہیں۔اس کیلئے آپ کو ممبئی پونے ایکسپریس وے پر سفر کرتے ہوئے کھپولی ایگزٹ سے نکلنا ہوگا اور پین،مہاڈ،پولادپور سے دھولے گائوں ہوتے ہوئے قلعہ تک پہنچ سکتے ہیں۔
بس کےذریعہ :ممبئی سینٹرل،دادر یا پریل سےپولاد پور کیلئے ایس ٹی کی بسیں ملتی ہیں۔ پولادپور اتر کر آپ مقامی بس،جیپ یا ٹیکسی کے ذریعہ دھولے گائوں پہنچ سکتے ہیں۔
ریل کےذریعہ :اگر آپ ٹرین کے ذریعہ جانا چاہتے ہیں تو ٹرین سے لوناولا پہنچ کروہاں سے ٹیکسی سے دھولے گائوں پہنچ سکتے ہیں۔