پروگرامنگ لینگویج پی ایچ پی میںخامی کے انکشاف کے بعد قدم اٹھایا گیا، جدید اے آئی ٹول نے انکشاف کیا،۷۰؍فیصد انٹرنیٹ اسی پرچلتا ہے۔
EPAPER
Updated: October 23, 2026, 12:58 PM IST | Agency | Washington
پروگرامنگ لینگویج پی ایچ پی میںخامی کے انکشاف کے بعد قدم اٹھایا گیا، جدید اے آئی ٹول نے انکشاف کیا،۷۰؍فیصد انٹرنیٹ اسی پرچلتا ہے۔
انٹرنیٹ کے بڑے حصےکوچلانے والی پروگرامنگ زبان پی ایچ پی کی ۲؍سنگین سیکورٹی خامیوں کے انکشاف کے بعد مختلف ممالک کی حکومتوں اور سائبر سیکورٹی اداروں نے ویب سائٹس کو فوری حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت دی ہے۔یہ خامیاں پی ایچ پی پروگرامنگ زبان میں دریافت کی گئی ہیں، جبکہ ان کے لیے سیکورٹی اپ ڈیٹ (فکس) بدھ کی سہ پہر جاری کی گئی۔متعددسائبرسیکورٹی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ جو تنظیمیں بروقت حفاظتی اپ ڈیٹ لاگو نہیں کر سکتیں، انھیں عارضی طورپر اپنی ویب سائٹس بندکرنےپر غور کرنا چاہیے۔
اس تناظر میں فن لینڈ کی حکومت، ایڈنبرا سٹی کونسل اور بی بی سی نے اپنی بعض ویب سروسز عارضی طورپرآف لائن کر دی ہیں۔ یہ خامیاں مصنوعی ذہانت کی مدد سے دریافت کی گئیں۔ سائبرسیکوریٹی کمپنی’ وِز ‘کے مطابق یہ اے آئی کی جانب سے اب تک دریافت کی جانے والی ’انتہائی سنگین خامیاں‘ ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت سائبر سیکوریٹی کے شعبے میں تیزی سے تبدیلی لا رہی ہے۔فن لینڈ نے حکومتی عوامی ویب سروسز عارضی طور پر بند کر دی ہیں، جبکہ نیدرلینڈزکی سائبر سیکوریٹی ایجنسی نے بھی اعلان کیا ہے کہ ان خامیوں کے باعث اس کی ویب سائٹ عارضی طورپر آف لائن کر دی گئی ہے۔امریکی نیشنل سیکوریٹی ایجنسی(این ایس اے) نے بھی مشورہ دیا ہے کہ جو ادارے فوری طور پر اپ ڈیٹ نہیں کر سکتے، وہ اپنے سسٹمز عارضی طور پر بند کر دیں۔ ادارے نے کہاکہ یہ خامیاں اکثر سرور کے فائل سسٹم یا ڈاٹا بیس تک براہ راست رسائی کا راستہ فراہم کر سکتی ہیں۔
دوسری جانب وہائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ وفاقی ادارے معروف اے آئی کمپنیوں کے ساتھ مل کر اس مسئلے کے حل کو تیز کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔جاپان کی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی نے بھی عوام اور اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ جانچ کریں کہ آیا ان کی عوامی ویب سائٹس پی ایچ پی پر چل رہی ہیںیا نہیں۔آن لائن انسائیکلوپیڈیا ویکیپیڈیا چلانے والی وکیمیڈیا فاؤنڈیشن نے کہا ہے کہ وہ ان سیکورٹی خامیوں سے نپٹنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:پیلی بھیت کی ووٹر لسٹ میں بے ضابطگی، چارافسران کو ہٹایا گیا
فاؤنڈیشن کے مطابق’’ہم نےاحتیاطی تدبیر کے طور پر متعدد دیگر سسٹمز بھی عارضی طور پر بند کر دیے ہیں، جب تک انھیں محفوظ طریقےسے اپ ڈیٹ نہیں کیا جا سکتا۔‘‘اسی وجہ سے بدھ کے روز بعض صارفین کو ویکیپیڈیا کے کچھ حصوں تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ایڈنبرا سٹی کونسل کی ویب سائٹ بھی متاثر ہوئی، جبکہ بی بی سی کے بعض پروگراموں، جن میں ڈاکٹرہو اور دی ٹریٹرز شامل ہیں، کی ویب سائٹس بھی عارضی طور پر دستیاب نہیں رہیں۔متاثرہ اداروںنے تاحال یہ تصدیق نہیں کی کہ اس کی وجہ براہ راست پی ایچ پی کی خامیاں تھیں یا نہیں۔
دوسری جانب آرٹ پلیٹ فارم ڈیویئنٹ آرٹ سمیت بعض ویب سائٹس نے صرف اتنا کہا ہے کہ وہ ’عارضی دیکھ بھال‘ کے لیے بند ہیں، تاہم اس کی وجہ نہیں بتائی گئی۔
خامیاں کیسے معلوم ہوئیں؟
یہ خامیاں سائبر سیکورٹی کمپنیوں کالیف اور وِزکے ماہرین نے دریافت کیں۔یہ تحقیق اوپن اے آئی کے ’پیچ دی پلانٹ‘ پروگرام کے تحت کی گئی، جس میں ماہرین کو جدید اے آئی ٹولز فراہم کیے گئے تاکہ ویب ڈیولپمنٹ کی زبانوں میں موجودخامیوں کو تلاش اور درست کیا جا سکے۔ اوپن اے آئی نے ایک بلاگ پوسٹ میں اس انکشاف کو حالیہ برسوں کے سب سے اہم سیکورٹی مسائل میں سے ایک قرار دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ خامیاں ایک دہائی سے زائد عرصے تک نظروں سے اوجھل رہیں، تاہم جدید آے آئی ٹولز استعمال کرنے کے چند ہفتوں کے اندر ماہرین انہیں دریافت کرنے میں کامیاب ہو گئے۔وِز کے مطابق پی ایچ پی استعمال کرنے والی ویب سائٹس کی بڑی تعداد اس مسئلے سے متاثر ہو سکتی ہے اور کمپنی کا اندازہ ہے کہ انٹرنیٹ کا تقریباً ۷۰؍ فیصد حصہ کسی نہ کسی شکل میںاس کے دائرۂ اثر میں آتا ہے۔پی ایچ پی فاؤنڈیشن اس مسئلے کی تفصیلات اور مکمل سیکورٹی پیچ رواں ماہ کے آخر میں جاری کرنا چاہتی تھی، تاہم خامیوں کی معلومات منگل کے روز سوشل میڈیا پر لیک ہو گئیں، جس کے بعد فوری حفاظتی اقدامات کرنا ضروری ہو گیا۔