• Thu, 29 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گجرات: گائے ذبح کرنے کے مبینہ جرم میں تین مسلم افراد کو عمر قید

Updated: October 29, 2026, 7:32 PM IST | Gandhinagar

گجرات کے گاندھی نگر کی سیشن کورٹ نے تین مسلم افراد کو گائے ذبح کرنے کے مبینہ جرم میں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ معاملے کی سماعت کے دوران عدالت نےمنوسمرتی اور اور ہندو مذہبی کتابوں کا حوالہ دیا اور ہندو مذہب میں گائے کی اہمیت سے متعلق ہدایات دیتےہوئے یہ فیصلہ سنایا ، جبکہ، گائے کو ذبح کرنے والے تاجروں کے ساتھ ہندوتوا تنظیموں کے اراکین کے ساتھ تشدد کےمعاملے میں نا معلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ڈیکن ہیرالڈ کی بدھ کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، گجرات کے گاندھی نگر کی ایک سیشن عدالت نے ہندو مذہبی کتابوں ویدوںاور منو سمرتی کا حوالہ دیتے ہوئے گائے ذبح کرنے کے الزام میں تین مسلم افراد کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔پیر کو سنائے گئے اپنے فیصلے کے ابتدائی چار صفحات میں، عدالت نے ’’گائے کی اہمیت‘‘ پر تفصیل سے بحث کی۔ قدیم ہندو مذہبی کتابوں کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ گائے کو ’’ کائنات کی ماں کے طور پر محترم مانا جاتا ہے‘‘  اور یہ عقیدہ ہے کہ اس کے اندر ۳۳؍ کروڑ دیوی دیوتا موجود ہیں۔ایڈیشنل سیشن جج بی آر راجپوت نے منو سمرتی کا حوالہ دیتے ہوئے اسے ایک ایسا متن قرار دیا جو گائے کو ’’صرف ایک جانور نہیں بلکہ برابر ی کا درجہ‘‘ دیتا ہے اور اسے دھرم یعنی ہندو مت کا ’’محور‘‘ تسلیم کرتا ہے۔ اخبار کے مطابق، عدالت نے کہا کہ تینوں ملزمان وسیم قریشی، محمد رفیق قریشی اور اشفاق باہیلم یہ جانتے تھے کہ ’’گائے کو ماں کا درجہ حاصل ہے‘‘ ، لیکن اس کے باوجود انہوں نے بے رحمی سےاسے ذبح کیا۔

یہ بھی پڑھئے: اورنگ آباد میں گئو ونش اسمگلنگ کے خلاف دیہی پولیس کی بڑی کارروائی

ڈیکن ہیرالڈ کے مطابق عدالت نے کہا، ’’اگر ایسے ملزمان کو قانون کے مطابق مقررہ سزا نہ دی گئی، تو وقت گزرنے کے ساتھ گائےماتا ناپید ہو جائیں گی۔‘‘ بعد ازاں ان تینوں افراد کو گجرات اینیمل پریزرویشن امینڈمنٹ ایکٹ اور پریوینشن آف کرولٹی ٹو اینیملز ایکٹ کی دفعات کے تحت دیگر الزامات کے ساتھ مجرم قرار دیا گیا۔ عدالت نے ان میں سے ہر ایک کو عمر قید با مشقت کی سزا سنائی اور فی کس ۳؍ لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا۔ڈیکن ہیرالڈ کے مطابق، یہ تینوں افراد بوڑھے یا دودھ نہ دینے والے مویشیوں کو سستے داموں خریدتے تھے اور اپنے کاروبار کیلئے انہیں ذبح کرتے تھے۔عدالت نے بتایا کہ پولیس نے انہیں اس وقت رنگے ہاتھوں پکڑا جب وہ گوشت بیچنے کی تیاریاں کر رہے تھے اور ان کے پاس سے تقریباً ۲۷۷؍ کلو بیف (گائے کا گوشت) برآمد کیا گیا۔
دوسرے معاملے میں، دی ہندو نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ مدھیہ پردیش کے ضلع دموہ میں ہندوتوا تنظیموں کے مبینہ اراکین کے ایک گروہ  نے بھینسیں لے جانے والے دو مسلم تاجروں اور ایک وین ڈرائیور پر تشدد کیا۔ اس گروہ نے تاجروں کو یہ الزام لگا کر روکا تھا کہ انہیں بھینسیں چرائی ہیں۔ اس واقعے کی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہجوم نے دونوں تاجروں کو باندھ رکھا ہے، انہیں کھیت میں گھسیٹا جا رہا ہے اور ڈنڈوں سے ان کی پٹائی کی جا رہی ہے۔ اس تشدد کے سلسلے میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایولہ: لومیریج پر ہنگامہ، دُلہے کو زندہ جلانے کی کوشش، مارپیٹ میں متعدد زخمی

دموہ کے ایس پی آنند کالاداگی نے دی ہندو کو بتایا کہ تاجروں کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے کیونکہ جانوروں کو ایک چھوٹی وین میں انتہائی خراب حالات میں لے جایا جا رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے کی ویڈیوز کے ذریعے کچھ ملزمان کی شناخت کر لی گئی ہے اور انہیں گرفتار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK