• Fri, 06 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ میں عبد السید کی کامیابی کے حوالے سے اویسی کے بیان پر سیاسی بحث تیز

Updated: November 06, 2026, 12:24 PM IST | Hamidullah Siddiqui | Luckhnow

کانگریس نےکہاکہ اتر پردیش میں مسلمانوں کی سیاسی شناخت ہمیشہ مضبوط رہی ہے اور آئندہ بھی برقرار رہے گی، سماجوادی پارٹی نے امریکہ میں عبدالسید کی جیت کو سیکولر سیاست کی کامیابی بتایا۔

Owaisi had said that the `Abdul` of UP will no longer bow his head before anyone. Photo: INN
اویسی نے کہا تھا کہ یوپی کا عبدل اب کسی کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔ تصویر: آئی این این

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی کے اس بیان پر اتر پردیش کی سیاست میں بحث تیز ہوگئی ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اب یوپی کا ’عبدُل‘ کسی کے سامنے سر نہیں جھکائے گا بلکہ ایم ایل اے بنے گا۔ اویسی نے یہ بیان امریکہ کی ریاست مشی گن میں عبدالرحمٰن السید کی انتخابی کامیابی کا حوالہ دیتے ہوئے دیا تھا۔ ان کے اس بیان پر کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے لیڈروں نے بھی اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔

کانگریس کے ترجمان ہلال نقوی کا کہناہے کہ اتر پردیش میں مسلمانوں کی سیاسی شناخت ہمیشہ مضبوط رہی ہے اور آئندہ بھی برقرار رہے گی۔ اس شناخت کو کمزور کرنے کے لئے اے آئی ایم آئی ایم جیسی سیاسی جماعتیں مبینہ طور پر بی جے پی کے ساتھ مل کر حکمت ِ عملی تیار کرتی ہیں اور مسلم سیاسی طاقت کو کمزور کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔نقوی کے مطابق اے آئی ایم آئی ایم جیسی جماعتیں فرقہ وارانہ نوعیت کے بیانات دے کر مذہبی پولرائزیشن کو فروغ دیتی ہیں جس کا سیاسی فائدہ بالآخر بی جے پی کو پہنچتا ہے اور اسدالدین اویسی کا مقصد مسلم ووٹوں کی تقسیم اور مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی کو کمزور کرنا ہے۔کانگریس لیڈرسریندر راجپوت کا ماننا ہے کہ بیرون ملک ہندوستانیوں کی انتخابی کامیابی، خواہ ان کا نام یا مذہبی شناخت کچھ بھی ہو۔بیرون ملک شری رام نینےہوں یا عبدل ،ان کی کامیابی پورے ملک کے لئے فخر کی بات ہے۔

یہ بھی پڑھئے:اشتعال انگیزی پر پریانک کھرگے کی بی جےپی لیڈروں کو جیل بھیجنے کی دھمکی

مذکورہ معاملہ پر سماجوادی پارٹی کے ترجمان محمد اعظم خاں کا کہنا ہے کہ بعض سیاسی جماعتیں مسلمانوں کو ’’عبدل‘‘ کہہ کر ان کی توہین کرنے اور ان کی سیاسی حیثیت و نمائندگی کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جبکہ اتر پردیش کے مسلمان سیاسی طور پر باشعور ہیں اور اپنی توہین یا سیاسی حقوق سے محرومی کو قبول نہیں کریں گے۔ وہ اپنے ووٹ کا استعمال سوچ سمجھ کر کریں گے اور انتخابی حکمت عملی کے تحت اس امیدوار یا جماعت کی حمایت کریں گے جو بی جے پی کو شکست دینے کی پوزیشن میں ہو۔سماجوادی پارٹی کے ایک دیگر ترجمان آشوتوش ورما نے مشی گن میں عبدالرحمٰن السید کی کامیابی کا خیرمقدم کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ اویسی نے یہ ذکر نہیں کیا کہ السید مصری نژاد تارک وطن ہیںاور انہوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے کامیابی حاصل کی ہے۔ ورما کے مطابق، فرقہ وارانہ اور دائیں بازو کی سیاست سے دور ڈیموکریٹس کی کامیابی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی سیاست کس سمت آگے بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان سمیت دنیا بھر کے لوگ فرقہ وارانہ ماحول اور غیر یقینی صورت حال سے باہر نکلنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق، انڈیا اتحاد بھی اسی طرح کے جمہوری اور سیکولر اصولوں پر کام کرتا ہے اور انہیں امید ہے کہ اس رجحان کے اثرات ہندوستانی سیاست پر بھی مرتب ہوں گے۔واضح رہے کہ اتر پردیش میں آئندہ انتخابات کے پیش نظر حالیہ ہفتوں میں مختلف عوامی جلسوں سے خطاب کرنے والے اسدالدین اویسی نے گزشتہ روز امریکہ کے مشی گن میں عبد السید کی کامیابی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اب اتر پردیش کا ’عبدُل‘ کسی کے سامنے نہیں جھکے گا بلکہ اپنی سیاسی شناخت قائم کرتے ہوئے ایم ایل اے بنے گا۔

اویسی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا ’’مشی گن میں عبدل سینیٹر بننے میں کامیاب ہوئے۔ بی جے پی کہا کرتی تھی کہ عبدل پنکچر بناتا ہے مگرجمہوریت میں وہی عبدل سینیٹر بن گیا۔ اب اتر پردیش کا عبدل کسی کے سامنے سر نہیں جھکائے گا بلکہ ایم ایل اے بنے گا۔‘‘اویسی نے مسلمانوں سے اپیل کی تھی کہ وہ دوسروں کے لئے صرف دری بچھانے کی سیاست سے آگے بڑھیں اور اپنی سیاسی شناخت اور قیادت کو مضبوط کریں۔اویسی کے اس بیان کے بعد کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے ردعمل نے اتر پردیش میں مسلم سیاسی نمائندگی، جمہوریت اور سیکولر سیاست سے متعلق بحث کو ایک بار پھر موضوعِ گفتگو بنا دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK