Inquilab Logo Happiest Places to Work

ادیشہ: کسان نے نایاب ’’ میازاکی آم‘‘ اُگا لیا، قیمت ۳؍ لاکھ روپے فی کلو

Updated: May 23, 2026, 10:04 PM IST | Bhubaneswar

ادیشہ کے ایک کسان نے جاپان کے انتہائی نایاب اور مہنگے ’’میازاکی‘‘ آم کامیابی سے اگا کر سب کو حیران کر دیا ہے۔ تاہم، اب وہ اس قیمتی پیداوار کی حفاظت اور فروخت کے طریقے کے بارے میں شدید پریشانی کا شکار ہے۔

Odisha farmer Deeba Padhyami showing off rare Miyazaki mangoes. Photo: X
ادیشہ کے کسان دیبا پدھیامی نایاب میازاکی آم دکھاتے ہوئے۔ تصویر: ایکس

آم بہت مہنگے ہوتے ہیں، خاص طور پر کچھ اقسام جیسے ہاپوس، نور جہاں، کیسر وغیرہ۔ لیکن کیا آپ دنیا کے سب سے مہنگے آم کے بارے میں جانتے ہیں ؟ یہ جاپانی’’ میازاکی‘‘(Miyazaki) آم ہے، جسے’’سورج کا انڈہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے اور یہ جاپان کی خاص پیداوار ہے۔ تاہم، حال ہی میں ادیشہ کے ایک کسان نے اس نایاب قسم کو کامیابی سے اگایا، جو تقریباً ۳؍ لاکھ روپے فی کلو میں فروخت ہوتی ہے، لیکن اب وہ یہ نہیں جانتا کہ اس کا کیا کرے۔ 

یہ بھی پڑھئے: یوپی میں ’امید‘پورٹل پر درج کرائی گئیں وقف کی ۳۱؍ہزار املاک مسترد

ادیشہ کے کسان نے نایاب جاپانی میازاکی آم اگا لیا
ادیشہ کے ضلع ملکانگیری کے ایک کسان، دیبا پدھیامی، نے کامیابی سے نایاب میازاکی آم اگایا ہے، جسے دنیا کی سب سے مہنگی آم کی اقسام میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ آم’’سورج کا انڈہ‘‘ کے نام سے مشہور ہے، جس کا چھلکا سرخ اور جامنی رنگ کا ہوتا ہے، اس کا گودا بغیر ریشے کے، مکھن جیسا نرم اور انتہائی میٹھا ہوتا ہے۔ ان آموں کی قیمت تقریباً ڈھائی سے ۳؍ لاکھ روپے فی کلو تک پہنچ سکتی ہے۔ میازاکی آم اصل میں جاپان کے میازاکی صوبے سے تعلق رکھتا ہے اور وہاں اسے ایک شاہانہ پھل سمجھا جاتا ہے۔ 
دیبا پدھیامی نے اگرچہ یہ مہنگا آم کامیابی سے اگا لیا ہے، لیکن انہیں یہ معلوم نہیں کہ اسے فروخت کیسے کیا جائے۔ دی اکنامک ٹائمز کے مطابق، انہیں تقریباً چار سال پہلے ایک سماجی کارکن نے اس کا پودا دیا تھا۔ ادیشہ کے مشکل موسمی حالات میں برسوں محنت اور دیکھ بھال کے بعد، درخت نے آخرکار پھل دینا شروع کر دیا۔ ان کے چھوٹے سے باغ کو علاقے میں کافی توجہ مل رہی ہے اور لوگ ان منفرد آموں کو دیکھنےکیلئے ان کے باغ کا رخ کر رہے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: بجلی کی طلب ریکارڈ ۲۷۰؍ گیگاواٹ تک پہنچ گئی

کسان رات کو آموں کی حفاظت کرتا ہے
دی اکنامک ٹائمز کے مطابق، دیبا اب اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ کہیں کوئی ان نایاب آموں کو درخت سے چرا نہ لے اور ان کی ساری محنت ضائع نہ ہو جائے۔ اسی لئے انہوں نے رات کے وقت درخت کے قریب سونا شروع کر دیا ہے تاکہ آموں کی حفاظت کر سکیں۔ مزید یہ کہ، یہ پھل بہت زیادہ قیمت پر نیلام ہوتے ہیں، اسی وجہ سے کسان اس بات کو لے کر پریشان ہے کہ انہیں کیسے فروخت کیا جائے۔ انہیں قیمت، پیکنگ، ٹرانسپورٹ اور ایسے خریداروں کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں جو میازاکی آم کیلئے اتنی بڑی رقم ادا کرنے کو تیار ہوں۔ 
بتا دیں کہ جاپان میں یہ آم انتہائی زیادہ قیمتوں پر فروخت ہوتے ہیں، لیکن وہاں ان قیمتوں کا تعلق سخت کاشت کے معیار، برانڈنگ اور برآمدی معیار سے بھی ہے۔ ہندوستان میں ابھی تک ان آموں کیلئے مناسب مارکیٹنگ اور سپلائی چین موجود نہیں، اس لئے ممکن ہے کہ یہاں یہ لاکھوں میں فروخت نہ ہو سکیں۔ فی الحال، دیبا اپنے درخت پر لگے ان قیمتی آموں کی حفاظت کر رہے ہیں اور یہ سوچ رہے ہیں کہ آگے کیا کیا جائے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK