رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ساتھ سفیر اور سفارتی وفود کی بھی شرکت۔ اسرائیلی خلاف ورزیوں کی مذمت۔
EPAPER
Updated: February 28, 2026, 9:13 AM IST | Jeddah
رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ساتھ سفیر اور سفارتی وفود کی بھی شرکت۔ اسرائیلی خلاف ورزیوں کی مذمت۔
اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے اسرائیل کی حالیہ منظوری سے متعلق جمعرات کو وزرائے خارجہ کی سطح پر ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ اس منظوری میں مقبوضہ مغربی کنارے کے بڑے حصوں کو ریاستی جائیداد قرار دینے کا منصوبہ شامل ہے جسے ناقدین عملی طور پر الحاق قرار دیتے ہیں۔ اجلاس میں فلسطینی علاقوں میں اس کی جاری خلاف ورزیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایک بیان میں او آئی سی نے کہا کہ ایگزیکٹیو کمیٹی کا اجلاس تنظیم کے ہیڈکوارٹر جدہ، سعودی عرب میں منعقد ہوا اور یہ اجلاس اسرائیل کی الحاقی کوششوں کے جواب میں اعلیٰ سطح کی سفارتی سرگرمیوں کا حصہ تھا۔
اجلاس میں رکن ممالک کے متعدد وزرائے خارجہ کے ساتھ ساتھ سفیران اور سفارتی وفود بھی شریک ہوئے۔ شرکائے اجلاس نے اسرائیلی خلاف ورزیوں کے جواب میں یکساں موقف اور مربوط اقدامات اپنانے کے لئے ممکنہ اقدامات اور حکمتِ عملیوں پر تبادلہ خیال کیا۔
یہ بھی پڑھئے: افغانستا ن اور پاکستان کا ایک دوسرے پر حملہ
بیان میں زور دیا گیا کہ اس اجلاس کا مقصد بین الاقوامی برادری کو متحرک کرنا ہے تاکہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا دفاع کیا جا سکے۔ اجلاس کے دوران سعودی نائب وزیر خارجہ ولید الخریجی نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کے اقدامات کو اپنی حکومت کی طرف سے مسترد کرنے کا اعادہ کیا اور کہا کہ ایسے اقدامات خطے میں امن و استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ الخریجی نے کہا کہ فلسطینی علاقوں کے برخلاف اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ سعودی عرب مغربی کنارے میں تمام غیرقانونی بستیوں کے قیام کی مذمت کرتا ہے۔
اسرائیلی سیکوریٹی کابینہ نے۸؍ فروری کو متعدد فیصلے منظور کئے جن کا مقصد مغربی کنارے کی صورتحال کو غیرقانونی اسرائیلی آبادکاروں کے حق میں تبدیل کرنا اور فلسطینیوں کو نقصان پہنچانا تھا۔