Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہرمز کیلئے نئے قواعد ہوں گے، امریکہ ایران مذاکرات حتمی ہونے والے تھے: عمان

Updated: March 21, 2026, 3:11 PM IST | Tehran

ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے اثرات خلیجی خطے میں واضح ہو رہے ہیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز کیلئے جنگ کے بعد کے نئے قواعد تجویز کئے ہیں جبکہ عمان نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ ممکن تھا لیکن اسرائیل کو ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی دوران شمالی عراق میں ایک امریکی فوجی اڈے میں آگ لگنے کی اطلاع ملی ہے، جس کی وجہ اور نقصان کی تفصیلات فوری طور پر واضح نہیں ہو سکیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

(۱) ایران نے آبنائے ہرمز کیلئے جنگ کے بعد کے نئے قوانین تجویز کئے
ایران نے آبنائے ہرمز کیلئے جنگ کے بعد کے نئے قواعد و ضوابط تجویز کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ اقدامات خطے میں سیکوریٹی کو یقینی بنانے اور جہاز رانی کو منظم کرنے کیلئے کئے جا رہے ہیں۔ ایک بیان میں کہا گیا کہ ’’ہم ایک ایسا نظام متعارف کرانا چاہتے ہیں جو اس اہم سمندری راستے میں استحکام کو یقینی بنائے۔‘‘ ایرانی حکام نے کہا کہ ان قوانین کا مقصد مستقبل میں کسی بھی کشیدگی کو کم کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’آبنائے ہرمز عالمی توانائی کیلئے ایک اہم راستہ ہے اور اس کی حفاظت ضروری ہے۔‘‘ یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہرمز میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور عالمی سطح پر اس پر توجہ مرکوز ہے۔

(۲) عمان کے وزیر خارجہ، امریکہ ایران معاہدہ ممکن تھا
عمان کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کو روکنے کیلئے ایک معاہدہ ’’واقعی ممکن‘‘ تھا۔ انہوں نے اسرائیل کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اس نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت کیلئے کوششیں کی تھیں اور معاہدہ ممکن تھا۔‘‘ بیان میں کہا گیا کہ سفارتی راستہ اب بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’خطے میں امن کیلئے مذاکرات ضروری ہیں۔‘‘ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگ کے خاتمے کیلئے سفارتی کوششوں پر دوبارہ بات ہو رہی ہے۔

(۳) شمالی عراق میں امریکی فوجی اڈے میں آگ لگنے کی اطلاع
شمالی عراق کے اربیل صوبے کے سوران ضلع میں واقع امریکی فوجی اڈے الحریر میں آگ لگنے کی اطلاع ملی ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق آگ اڈے کے اندر لگی، تاہم اس کی وجہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی۔ رپورٹس میں کہا گیا کہ ’’آگ لگنے کے بعد ہنگامی ٹیموں کو طلب کیا گیا اور صورتحال کو قابو میں لانے کی کوشش کی گئی۔‘‘ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی نقصان کی خبر نہیں ملی۔ حکام نے کہا کہ ’’ہم واقعے کی وجوہات کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘‘ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کے باعث فوجی تنصیبات ہائی الرٹ پر ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK