Inquilab Logo Happiest Places to Work

سونے کے زیورات بنانے میں ہر۱۰؍ گرام میں ایک گرام ضائع ہوتا ہے

Updated: November 12, 2025, 12:11 PM IST | Mumbai

ہندوستان میں سونا صرف ایک زیور نہیں ہے بلکہ جذبات اور اعتماد کی علامت ہے۔ شادیوں، تہواروں یا کسی خاص موقع پر سونا خریدنا ایک روایت بن چکی ہے۔ ان دنوں ایک تولہ سونے کی قیمت ۲۰ء۱؍ لاکھ روپے زیادہ تک پہنچ گئی ہے۔

Gold Oranments.Photo:INN
سونے کے زیورات۔ تصور:آئی این این

ہندوستان میں سونا صرف ایک زیور نہیں ہے بلکہ جذبات اور اعتماد کی علامت ہے۔ شادیوں، تہواروں یا کسی خاص موقع پر سونا خریدنا ایک روایت بن چکی ہے۔ ان دنوں ایک تولہ سونے کی قیمت ۲۰ء۱؍ لاکھ روپے زیادہ تک پہنچ گئی ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ جب زیورات بنائے جاتے ہیں تو ہر۱۰؍ گرام کے لیے تقریباًایک گرام سونا ضائع ہوتا ہے؟ اس ضیاع کا اثر خریدار کی جیب پر بھی پڑتا ہے۔
سونے  کے خالص پن کو قیراط میں ناپا جاتا ہے۔ ۲۴؍  قیراط سونا مکمل طور پر خالص ہے، لیکن یہ بہت نرم ہے اور زیورات بنانے کے لیے موزوں نہیں ہے۔ لہٰذا، زیورات کو مضبوط بنانے کے لیے تانبے، زنک، چاندی یا کیڈمیم جیسی دھاتیں شامل کرتے ہیں۔ یہ دھاتیں سونے کے سونے خالص پن کو  کم کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں ۲۲؍یا ۱۸؍ قیراط سونا ہوتا ہے۔ورنگل، تلنگانہ کے ایک سنار سنتوش بتاتے ہیں کہ جب۲۲؍ قیراط سونے سے زیورات بناتے ہیں تو اس عمل میں تقریباً  ۱۰؍ گرام میں ایک  گرام سونا ضائع ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ چین کے لیے ۱۰؍ گرام ادا کرتے ہیں، تو آپ کو حقیقت میں ۹؍ گرام کے زیورات ملیں گے، حالانکہ آپ پورے۱۰؍  گرام کی ادائیگی کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:ہندوستان بھوٹان کو۴۰۰۰؍ کروڑ روپے کا قرض فراہم کرے گا

اگر آپ پرانے زیورات کا تبادلہ کرتے ہیں تو ہال مارک والے زیورات کا نقصان قدرے کم ہوتا ہے۔ صرف ایک گرام سونا ضائع ہو تاہے۔ خالص سونے کے بسکٹ بنانے کے لیے جب پرانے زیورات کو پگھلا کر اس میں موجود دھات بخارات بن جاتی ہے جس کے نتیجے میں وزن میں معمولی کمی واقع ہوتی ہے۔سرمایہ کاری کے نقطہ نظر سے، خالص سونے کے بسکٹ بنانے کے لیے پرانے زیورات کو پگھلانا بہتر ہے۔ اس سے میکنگ چارجز ختم ہو جاتے ہیں اور خالص سونا نکلتا ہے۔ لیکن سنار کہتے ہیں کہ بہت سے لوگ ان حسابات کو سمجھے بغیر پرانے زیورات تبدیل کرتے ہیں  جس سے نقصان ہوتا ہے۔ خاص طور پر جب سونے کی قیمت تقریباً۱۴؍ہزار روپے فی گرام  تھی۔ زیورات کی خریداری  کرتے وقت ہمیشہ صحیح نشان اور وزن کی معلومات کو یقینی بنائیں، تاکہ آپ کی محنت سونے کے ساتھ ساتھ ختم نہ ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK