Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ جنگ کے درپے، پزشکیان امن کے خواہاں

Updated: April 03, 2026, 10:54 AM IST | Mumbai

دو صدور، دو خطاب ، ایک تقریر ایک تحریر :امریکی صدر نے قوم کے نام اپنے خطاب میںایران کے ہاتھوں مسلسل ہزیمت اٹھانے کے باوجود حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ،ایرانی صدر نے امریکی عوام کےنام کھلا خط لکھا اورنہایت سنجیدہ لہجے میںکہا کہ’’ایران امریکی عوام کا دشمن نہیں اور نہ دنیا کیلئے کوئی خطرہ ہے ، ہم امن چاہتے ہیں‘‘

US President Trump has once again worried the whole world with his speech, while Iranian President Masoud Peshmerga has called for peace and understanding. Photo: INN
امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب سے ایک مرتبہ پھر پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کردیا جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امن اور معاملہ فہمی کی دعوت دی ہے۔ تصویر: آئی این این

ایران امریکہ جنگ نے دنیا کے دو لیڈروں کی سنجیدگی اور ان کی معاملہ فہمی کو بھی دنیا کے سامنے پیش کردیا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ہاتھوں مسلسل ہزیمت اٹھانے کے باوجود جنگ سے پیچھے ہٹنے یا حملے بند کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ظاہر کیا بلکہ انہوں نے اگلے ۲؍ سے ۳؍ ہفتوںمیں جنگ میں مزید شدت لانے کا اشارہ دے دیا ہے۔ دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکی عوام کو لکھے گئے کھلے خط میںبالکل واضح اور سنجیدہ انداز میں کہا کہ ایران امریکی عوام کا دشمن نہیں ہے بلکہ وہ امن کا خواہاں ہے۔ جو جنگ لڑی جارہی ہے وہ امریکہ اور اسرائیل نے اس پر تھوپی ہے وہ تو بس جواب دے رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران اسرائیل تنازع: مشرق وسطیٰ کا بلند ترین ’’بی ون‘‘ پل اسرائیلی حملے میں تباہ

ٹرمپ کا خطاب 

امریکی صدر ٹرمپ نے امریکی قوم سے اپنے ۲۰؍ منٹ طویل خطاب میں اپنے خطاب دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے درمیان امریکی فوج کے ’’بنیادی اسٹریٹجک مقاصد‘‘تقریبا حاصل ہو چکے ہیں۔امریکی صدر نے کہا کہ جیسا کہ میں نے ’’آپریشن ایپک فیوری‘‘ کے اپنے اعلان میں کہا تھا ، ہمارے مقاصد بہت سادہ اور واضح ہیں۔ہم امریکہ کو دھمکانے یا اپنی سرحدوں سے باہرکسی بھی ملک کو دھمکانے کی صلاحیت کو منظم طریقے سے ختم کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے ایران کی بحریہ کو ختم کرنا ، جو اب بالکل تباہ ہو چکی ہے ، ان کی فضائیہ اور ان کے میزائل پروگرام کو اس سطح تک نقصان پہنچانا جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا اور ان کے دفاعی صنعتی اڈے کو ختم کرنا۔ ہم نے یہ سب کر لیا ہے۔ مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ یہ بنیادی اسٹریٹجک مقاصد تکمیل کے قریب ہیں۔

جنگ جاری رہے گی 

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اگلے دو سے تین ہفتوں میں ایران پر حملے تیز کرے گا اور اس ملک کو ’’پتھر کے دور‘‘ میں پہنچادے گا۔میں آج رات یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہم بہت جلد، انتہائی جلد، امریکہ کے تمام فوجی مقاصد حاصل کرنے کی راہ پر ہیں۔ ہم انہیں بہت سخت نشانہ بنانے والے ہیں۔ اگلے دو سے تین ہفتوں میں ہم انہیں وہیں لے جائیں گے جہاں سے وہ تعلق رکھتے ہیں، یعنی پتھر کے دور میں۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ کی قیادت میں آبنائے ہرمز پر مذاکرات میں ہندوستان شامل ہوگا۔ وزارت خارجہ

ہرمز کی ضرورت نہیں

ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ کے تیل کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی ہم ہرمز کا استعمال کرتے لیکن ہم اپنے اتحادیوں کی مدد کیلئے اس خطے میں موجود ہے۔ امریکہ کو اس آبی گزرگاہ کی ضرورت نہیں ہے، اور دیگر ممالک کو چا ہئے کہ وہ خود اس کی حفاظت کریں۔انہیں اس کی قدر کرنی چا ہئے اور اس کی ذمہ داری لینی چا ہئے۔ ہم مدد کریں گے لیکن قیادت انہیں خود کرنی ہوگی۔

جنگ کی تاریخ یاد دلائی 

ٹرمپ نے مزید کہا کہ جنگ کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی دشمن کو چند ہفتوں میں اس قدر واضح اور تباہ کن نقصان اٹھانا پڑا ہو۔ ہمارے دشمن ہار رہا ہے اور امریکہ جیسا کہ میری صدارت کے گزشتہ ۵؍ سال میں رہا ہےجیت رہا ہے، اور اب پہلے سے بھی زیادہ بڑی کامیابیاں حاصل کر رہا ہے۔جب میں نے ۲۰۱۵ء میں صدارتی مہم کا اعلان کیا تھا، اسی دن سے میں نے عہد کیا تھا کہ میں ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دوں گا۔ یہ شدت پسند حکومت گزشتہ ۴۷؍ برس سے ’’امریکہ کی موت‘‘ اور ’’اسرائیل کی موت‘‘ کے نعرے لگا رہی ہے۔ میں نے وہ کیا جو کوئی اور صدر کرنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا۔ دوسروں نے غلطیاں کیں اور میں ان کو درست کر رہا ہوں۔ میری پہلی ترجیح ہمیشہ سفارت کاری رہی، لیکن ایرانی حکومت نے مسلسل جوہری ہتھیاروں کی کوشش جاری رکھی اور ہر معاہدے کو مسترد کیا۔

اپنی تقریر کے دوران جیسا کہ امید تھی کہ ٹرمپ حملے بند کرنے یا جنگ بند کرنے کا اعلان کریں گے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ جنگ کو مزید ۲؍سے ۴؍ ہفتوں تک طول دینے کا اعلان کردیا۔ اس کی وجہ سے پوری دنیا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: چین نے ٹرمپ کا موقف مسترد کر دیا، ایران جنگ پر عالمی بیانات میں شدت

دوسری جانب ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے امریکی صدر ٹرمپ کے خطاب سےقبل ہی امریکی عوام کے نام ایک کھلا خط لکھ کر یہ واضح کردیا کہ جنگ کون چاہتا اور امن کا خواہاں کون ہے۔ انہوں نے عالمی سفارت کاری ، سیاست اور سیاسی چالوں کے اس شہ اور مات کے کھیل میں بالکل درست وقت پر درست چال چلتے ہوئے ایران کا موقف بھی واضح کردیا اور ٹرمپ کو متشدد صدر بھی ثابت کردیا۔ یہ خط امریکی صدر کے خطاب سےکچھ گھنٹے قبل ہی جاری کیا گیا تھا۔

ایرانی صدر کا خط

مسعود پزشکیان نےاپنے خط میںلکھا کہ ایران امریکی شہریوں سے کوئی دشمنی نہیں رکھتا اور نہ ہی ایران نے کبھی کسی جنگ میں پہل کی ہے۔ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے اپنے خط میں کہا کہ ایران پر حملہ کیا گیا ہے اور ہم نے صرف حملہ آوروں کو مضبوطی اور حوصلے سے جواب دیا ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ ایران دنیا کے لیے کوئی خطرہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کو ایک خطرے کے طور پر پیش کرنا تاریخی حقائق کے منافی ہے۔ ایرانی عوام امریکہ، یورپ اور اپنے پڑوسیوں سمیت کسی بھی قوم کے خلاف دشمنی کے جذبات نہیں رکھتے۔ڈاکٹر مسعود پزشکیان نےامریکی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس وقت اسرائیل کے اثر و رسوخ کے تحت اور اسکے بہکاوے میں آکر اس جنگ میں شامل ہوا ہے اور درحقیقت اسرائیل کی ’’پراکسی‘‘ بن کر کام کر رہا ہے۔ ایرانی صدر نے نہایت نپے تلے الفاظ میں اسرائیل کو مورد الزام ٹھہرایا اور امریکی صدر کو بھی ملزم قرار دیا لیکن امریکی عوام کو سنجیدہ اور متین قرار دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران کو نشانہ بنا کر فلسطین کے دیرینہ مسئلے سے عالمی توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ صدر ایران نے امریکی عوام سے اپیل کی کہ وہ پروپیگنڈے کے بجائے حقیقت کا جائزہ لیں۔

یہ بھی پڑھئے: ہم اپنے آخری دم تک مزاحمت کریں گے: بحریہ کمانڈر تنگسیری کے جنازے میں ایرانیوں کا عہد

 ایرانی تاریخ کا حوالہ

خط میں ایران کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپنی ہزاروں سالہ تاریخ میں ایران نے کئی حملہ آوروں کا مقابلہ کیا اور ان پر غالب آیا۔ آج ان حملہ آوروں کا نام صرف تاریخ کی بدنامی میں باقی ہے جبکہ ایران آج بھی ایک مضبوط، باوقار اور ثابت قدم قوم کے طور پر قائم ہے۔ایرانی صدر نے عالمی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے جہاں تصادم کا راستہ پہلے سے کہیں زیادہ مہنگا اور بے فائدہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس صورتحال میں صرف مکالمہ ہی دیرپا حل فراہم کر سکتا ہے اور آج کے فیصلے ہی آنے والی نسلوں کے مستقبل کا تعین کریں گے۔

ایران کے تعلق سےمنفی تاثر کو چیلنج کیا

ایران کے صدر امریکہ اور مغربی دنیا میں ایران کے خلاف پھیلائی جانے والے مفی تاثر کو بھی چیلنج کیا گیا۔اپنے خط میںپزشکیان نے امریکی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیغام ان لوگوں کیلئے ہے جو گمراہ کن بیانیوں اور مصنوعی کہانیوں کے سیلاب کے باوجود سچائی کی تلاش میں ہیں اور ایک بہتر زندگی کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران ایک قدیم تہذیب اور تاریخی شناخت کا حامل ملک ہے، جسے محض ایک خطرے کے طور پر پیش کرنا نہ تو تاریخ کے مطابق ہے اور نہ ہی موجودہ حقائق کے۔انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو عالمی سطح پر ایک خطرناک ملک کے طور پر پیش کرنا دراصل بڑی طاقتوں کے سیاسی اور معاشی مفادات کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق طاقتور ممالک اکثر اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے ایک’’ فرضی دشمن‘‘ تخلیق کرتے ہیں تاکہ اپنے اقدامات کو جائز قرار دے سکیں۔ پزشکیان نے اس بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے اپنی جدید تاریخ میں کبھی جارحیت کا آغاز کیا۔

فوجیوں کی موجودگی پر سوال

خط میں ایرانی صدرنے امریکہ کی جانب سے ایران کے گرد فوجی موجودگی پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ایران کے اردگرد اپنے فوجی اڈوں، افواج اور عسکری وسائل کی سب سے بڑی تعداد تعینات کر رکھی ہےحالانکہ ایران نے امریکہ کے قیام کے بعد سے آج تک اس کے خلاف کسی بھی جنگ کا آغاز نہیں کیا۔ اس کے باوجود ایران کو ہی خطرہ قرار دیا جاتا ہے جو ذہنی فتور اورتضاد کو ظاہر کرتا ہے۔

امریکی عوام کے ضمیر کو جھنجھوڑا

پزشکیان نے امریکی عوام سے براہ راست اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود یہ سوال کریں کہ جنگی ماحول پیدا کرنے سے اصل فائدہ کس کو ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق جنگ نہ تو عام امریکی شہری کے مفاد میں ہے اور نہ ہی ایرانی عوام کے لئے فائدہ مند ہے بلکہ اس سے صرف اسلحہ ساز صنعتوں اور مخصوص سیاسی حلقوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران اور امریکہ کے عوام کے درمیان کوئی فطری دشمنی نہیں ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے لوگ امن، استحکام اور بہتر مستقبل کے خواہاں ہیںلیکن سیاسی فیصلے اور بین الاقوامی پالیسیاں اس خواہش کے راستے میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی مشیر نے صدر کا موازنہ مسیحا سے کیا، بیان پر شدید تنقید اور ردعمل

مکالمہ اور سفارت کاری

ایرانی صدر نے اپنے خط میں مکالمے اور سفارت کاری کو ہی مسائل کا حل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور بات چیت کو فروغ دیا جائے تو کشیدگی کم کی جا سکتی ہے اور ایک پرامن راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK