• Tue, 20 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

چین میں۲۰۲۵ء میں صرف ۷۹؍ لاکھ بچے پیدا ہوئے، حکومت پریشان

Updated: January 20, 2026, 12:19 PM IST | Agency | Beijing

بیجنگ کیلئے ملک کی آبادی کو برقرار رکھنا اورمسلسل گراوٹ کو روکنا مشکل ہورہاہے، ۳؍ بچوں کی پیدائش پر ۵۰۰؍ امریکی ڈالر کی نقد امداد کاوعدہ بھی بے اثر۔

The birth rate in China has reached 1.0. Picture: INN
چین میں شرح پیدائش ۱ء۰؍ ہوگئی ہے۔ تصویر: آئی این این
چین ون چائلڈ پالیسی کے خاتمے کے ایک دہائی بعد بھی آبادی میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔۲۰۲۵ء کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق  چین کی مجموعی آبادی۱ء۴۰۴؍ ارب ریکارڈ کی گئی  جو اس سے ایک سال قبل کے مقابلے میں۳۰؍لاکھ کم ہے۔  یہ مسلسل چوتھا سال ہے جب چین کی آبادی میں کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے جبکہ چین اپنے شہریوں کو ایک سے زائد بچوں کی پیدائش پر آمادہ کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہاہے۔۲۰۲۵ء میں ملک بھر میں صرف ۷۹؍ لاکھ بچے پیدا ہوئے جو۲۰۲۴ء کے مقابلے میں۱۷؍فیصد کم ہیں۔
ماہرین کے مطابق چین میں شرحِ پیدائش اب تک کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ ایک خاتون کے ہاں بچوں کی اوسط تعداد کم ہو کر   ۱ء۰؍ رہ گئی ہے، جبکہ آبادی کوجہاں ہے وہاں  برقرار رکھنے کیلئے یہ شرح۲ء۱؍ ہونی چاہیے۔ چینی خاندانوں کا کہنا ہے کہ معاشی سست روی، بچوں کی پرورش کے  اخراجات اور سخت سماجی مسابقت کی وجہ سے وہ مزید بچے پیدا کرنے سے کتراتے ہیں۔اس بحران سے نمٹنے کیلئے  حکومت نے کئی اقدامات کئے  ہیں۔ ۲۰۲۱ءمیں ۳؍بچوں کی اجازت دینے کے بعد، اب فی بچہ۳؍ ہزار ۶۰۰؍  یوآن (تقریباً۵۰۰؍ ڈالر) کی نقد امداد دی جا رہی ہے۔  اس کے ساتھ ہی حکومت نے ۲۰۲۵ء سے کنڈومز پر ٹیکس کی چھوٹ ختم کردی ۱۳؍فیصد ٹیکس عائد کر دیا تھا تاکہ مانع حمل اشیاء کے استعمال کو کم کیا جا سکے۔ واضح رہے کہ ۲۰۲۴ءمیں  ہندوستان چین کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن چکا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK