کارپوریٹ شعبہ میں خواتین کی نمائندگی سےمتعلق سوال پر لوک سبھا میں حکومت کا انکشاف ، خاتون منیجنگ ڈائریکٹرس بھی صرف ۲۵؍ ہیں۔
EPAPER
Updated: August 13, 2026, 12:34 PM IST | Agency | New Delhi
کارپوریٹ شعبہ میں خواتین کی نمائندگی سےمتعلق سوال پر لوک سبھا میں حکومت کا انکشاف ، خاتون منیجنگ ڈائریکٹرس بھی صرف ۲۵؍ ہیں۔
ملک کی ۵۰۰؍ ٹاپ لسٹیڈ کمپنیوں میں صرف ۹؍ خاتو ن چیف ایگزیکٹیو آفیسر اور ۲۵؍ منیجنگ ڈائریکٹرس ہیں۔اس کا انکشاف لوک سبھا میں وزارت برائے کارپوریٹ امور کے ذریعہ پیش کئے گئے اعدادوشمار سے ہوا ہے۔ وزارت نے لوک سبھا میں جو ڈیٹا پیش کیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اِن ۵۰۰؍ ٹاپ کمپنیوں میں ۶۷؍ خاتون ایگزیکٹیو ڈائریکٹرس (کل وقتی ڈائریکٹر) اور ۲۲؍ خاتون چیف فائنانشیل آفسیر(سی ایف او) ہیں۔ حکومت نے یہ تفصیلات ٹی ایم سی کی باغی رکن پارلیمان سیونی گھو ش کے ایک سوال کے جواب میں ایوان میں پیش کیں۔ انہوں نے پوچھا تھاکہ کیا حکومت نے کارپوریٹ شعبہ کی اعلیٰ قیادت میں خواتین کی نمائندگی اور ان کی ترقی کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹوں کا جائزہ لیا ہے؟وزارت نےجواب دیا ہے کہ خواتین ڈائریکٹرس کی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا کوئی جائزہ نہیں لیا گیا۔
خواتین کی ترقی کی راہ میں رکاوٹوں کا جائزہ نہیں لیاگیا
وزارت نے کہا کہ خواتین ڈائریکٹرس کی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا کوئی جائزہ نہیں لیا گیا ہے۔ کارپوریٹ امور کی وزارت نے بتایا کہ مذکورہ ٹاپ لسٹڈ کمپنیوں میں آزاد ڈائریکٹر اورڈائریکٹر یا بورڈ کے عہدہ پر بالترتیب ۶۳۸؍ اور ۸۶۰؍ خواتین ہیں۔ ان میں ۱۸؍ ایڈیشنل ڈائریکٹر،۷۳۸؍ ڈائریکٹر،۲۵؍مینیجنگ ڈائریکٹر، ۱۲؍ نامزد ڈائریکٹر اور۶۷؍کل وقتی ڈائریکٹرہیں۔
۴۰؍ لاکھ میں ۱۱؍ لاکھ خواتین ڈائریکٹرس
اگر تمام کمپنیوں میں خواتین کی شراکت داری پر نظر ڈالیں تو اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ فعال کمپنیوں میں مجموعی طور پر ۹۹ء۳۹؍ لاکھ ڈائریکٹرس میں سے۱۱ء۶۰؍ لاکھ ڈائریکٹرس خواتین ہیں۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں اس وقت مجموعی طور پر ۲۱ء۳۹؍ لاکھ کمپنیاں اور۵ء۰۶؍ لاکھ ایل ایل پی (لمیٹڈ لائبلیٹی پارٹنر شپ) فعال ہیں۔ گزشتہ۱۰؍ برسوں میں مجموعی طور پر ۱۵ء۴۸؍ لاکھ کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئی ہیں۔
ملک ممتاز خواتین ایم ڈی اور سی ای او
ایچ ڈی ایف سی لائف کی وبھا پڈالکر، آدتیہ برلا کیپٹل کی وشاکھا مولیے، ہندوستان یونی لیور کی پریا نائر، ملٹی کموڈیٹی ایکسچینج آف انڈیا کی پروینا رائے(جو نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی) کی سی ای او رہ چکی ہیں)، کولگیٹ پامولیو (انڈیا) کی پربھا نرسمہن اور ڈیجٹ انشورنس کی جسلین کوہلی ملک کی نمایاں خواتین ایم ڈی اور سی ای او ہیں۔
خواتین کے تعلق سے کمپنیز ایکٹ کیا کہتا ہے؟
کمپنیز ایکٹ۲۰۱۳ء اور کمپنیز (ڈائریکٹرس کی تقرری اور اہلیت) رولس۲۰۱۴ء کے مطابق ملک میں ہر لسٹڈ کمپنی اور ہر ایسی غیر لسٹڈ پبلک کمپنی جس کا ادا شدہ شیئر سرمایہ۱۰۰؍کروڑ روپے یا اس سے زیادہ ہو یا جس کا ٹرن اووَر۳۰۰؍کروڑ روپے یا اس سے زیادہ ہو، اس کیلئے اپنے بورڈ میں کم از کم ایک خاتون ڈائریکٹر مقرر کرنا لازمی ہے۔
خاتون کا عہدہ خالی ہونے پر ۳؍ ماہ میں تقرری
اس کے علاوہ خاتون ڈائریکٹر کا کوئی عارضی عہدہ خالی ہونے کی صورت میں بورڈ کے لیے لازم ہے کہ وہ بورڈ کی اگلی میٹنگ یا اس عہدہ کے خالی ہونے کی تاریخ سے ۳؍ ماہ کے اندر، جو بھی پہلے ہو، اس عہدے کو پُر کرے۔