کانگریس نے دعویٰ کیا کہ آر ٹی آئی کے جواب میں تفصیل اس لئے چھپائی گئی کہ اس سے ایس آئی آر میں ہونے والی گڑبڑیوں کا پردہ فاش ہوجائےگا۔
EPAPER
Updated: October 26, 2026, 10:52 AM IST | Agency | New Delhi
کانگریس نے دعویٰ کیا کہ آر ٹی آئی کے جواب میں تفصیل اس لئے چھپائی گئی کہ اس سے ایس آئی آر میں ہونے والی گڑبڑیوں کا پردہ فاش ہوجائےگا۔
کانگریس نے اتوار کو الیکشن کمیشن پر الزام لگایا کہ وہ انتخابی فہرستوں کی تیاری اور ایس آئی آر میں استعمال ہونےوالے متنازع سافٹ ویئر’’ ای سی آئی نیٹ ‘‘ سے متعلق معلومات چھپا رہا ہے کیوںکہ اگر یہ معلومات منظر عام پر آگئی تو ایس آئی آر کی گڑبڑیوں کا بھی پردہ فاش ہوجائےگا۔
اپوزیشن پارٹی نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹایا جائے اور ایس آئی آر کا عمل فوری طور پر معطل کیا جائے۔ کانگریس کے جنرل سیکریٹری اور شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے ایک میڈیا رپورٹ شیئر کی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے ایس آئی آر کے دوران ووٹر فہرستوں میں غلطیوں اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی کیلئے استعمال کیے گئے سافٹ ویئر کا نام اور اس کا ورژن بتانے سے انکار کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ملکارجن کھرگے کے خلاف بی جےپی کا ملک گیر احتجاج کا اعلان
کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ معلومات ’’تجارتی اعتماد، تجارتی راز اور انٹیلیکچوئل پراپرٹی‘ سے متعلق ہیں، اس لیے آر ٹی آئی کے تحت انہیں ظاہر کرنے سے استثنیٰ حاصل ہے۔ جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا ہےکہ الیکشن کمیشن آف انڈیا متنازع ای سی آئی نیٹ سافٹ ویئر سے متعلق معلومات اب بھی ’’چھپا‘‘ رہا ہے۔ ان کے مطابق یہی سافٹ ویئر تباہ کن ایس آئی آر کا مرکزی حصہ ہے اور اسے ووٹر فہرستوں میں ہیرا پھیری کو مرکزی سطح پر انجام دینے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
رمیش نے کہاکہ’’ کمیشن نے کمزور دلائل کا سہارا لیتے ہوئے نہ تو سافٹ ویئر کا نام بتایا ہے اور نہ ہی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال کیا جارہا ہے اور اگر ایسا ہے تو اس کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے کیا حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ ای سی آئی نیٹ سافٹ ویئر اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کے بارے میں شفافیت کی کمی نے پورے عمل کی ساکھ کو عوام کی نظر میں نقصان پہنچایا ہے۔