سنجے راؤت نے کہا کہ جس دن بی جے پی ممبئی میں اپنا میئر بنائے گی، اس دن شہر سوگ میں ڈوب جائے گا۔ کانگریس کے ترجمان سچن ساونت کے مطابق شندے نے اپنے کارپوریٹروں کو ہوٹل میں قید رکھا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ’آپریشن کمل‘ ریاست ، ممبئی اور ملک کیلئے کتنا خطرناک ہے۔ این سی پی (شردپوار) کے ترجمان مہیش تپاسے کے مطابق ایکناتھ شندے ادھوسینا کو ختم کرنے چلے تھے لیکن ممبئی والوں نے انہیں ان کی جگہ بتادی۔
الیکشن کے نتائج کے بعدمہایوتی میں شامل پارٹیاں میئر معاملے پراب تک کوئی فیصلہ نہیں کرسکی ہیں۔ تصویر: آئی این این
برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی )میں میئر کے آئندہ انتخاب کے تناظر میں شہر کی سیاست ایک بار پھر تیز ہو گئی ہے۔ شیو سینا( یو بی ٹی) کے لیڈرسنجے راؤت نے پیر کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی پر شدید تنقید کی اور میئر کے عہدے پر جاری سیاسی سرگرمیوں پر سوالات اٹھائے۔
سنجے راؤت نے کہا کہ جس دن بی جے پی ممبئی میں اپنا میئر بنائے گی، اس دن شہر سوگ میں ڈوب جائے گا۔ وزیر اعظم کی حالیہ تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے جس میں انہوں نے ممبئی میں بی جے پی کامیئر بنانے کی بات کہی ہے، پر سنجے راؤت نے دعویٰ کیا کہ تقریر لکھنے والوں کو تاریخ کا شعور نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ممبئی شیو سینا کی رہی ہے اور آئندہ بھی رہے گی جبکہ ووٹروں کے دیئے گئے اعداد و شمار بی جے پی کی جیت کی طرف اشارہ نہیں کرتے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیاسی اعداد و شمار میں فرق اب صرف۴؍ کا رہ گیا ہے اور حالات اس طرف بڑھ رہے ہیں کہ شاید بی جے پی کو بھی اپنے کارپوریٹروں کو ہوٹلوں میں منتقل کرنا پڑے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔‘‘ اور اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ سیاسی جماعتیں ممکنہ انحراف کو روکنے کیلئے اپنے منتخب نمائندوں کو ایک جگہ رکھنے کی حکمت عملی اپنا رہی ہیں۔
’’ٹائیگر ابھی زندہ ہے‘‘
سنجے راؤت کے مطابق ’’بی جے پی اپنے میئر کی حمایت کرنے کی بات کر رہی ہے جبکہ ایکناتھ شندے کے پاس پورے۳۰؍ کارپوریٹرنہیں ہیں۔ وہ اپنے میئر کے حق میں ہیں لیکن جو بھی بنانا ہے ، وہ کرلیںگے۔ شیوسینا اب بھی مضبوط ہے اور ان کے ساتھیوں کے پاس ایک ایسا آکڑہ ہے جو کسی بھی چیلنج کرسکتا ہے ۔حالانکہ ، کچھ پل مزہ بھی لینا چاہئے ۔ یہ سیاسی صورتحال قدرے پیچیدہ ہے لیکن ٹائیگر ابھی زندہ ہے جو مستقبل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔‘‘
نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے پر تنقید کرتے ہوئے سنجے راؤت نے انہیں طنزیہ طور پر ’طاقتور آدمی‘ کہا اور الزام لگایا کہ وہ بی جے پی کے کارپوریٹروںکو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے شندے کی سیاسی خود مختاری پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ اصل میں ان کے فیصلوں کی کنجی کس کے ہاتھ میں ہے، یہ سب جانتے ہیں ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سیاسی طور پر شندے کو اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کی پارٹی جلد ہی کلیان-ڈومبیولی میونسپل علاقے میں ۱۱؍کونسلروں کا ایک گروپ تشکیل دے گی۔
آخر میں سنجے راؤت نے مرکزی وزیر نارائن رانے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ عمر رسیدہ ہو چکے ہیں اور اب ان کی دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔ تاج ہوٹل میں ہونے والی ملاقاتوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کھانے کیلئے جانا الگ بات ہے مگر سیاسی حکمت عملی میڈیا کے سامنے طے نہیں کی جاتی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ کانگریس کے کارپوریٹر پارٹی نہیں چھوڑیں گے اور مہاراشٹر کی سیاست اب اس مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں ’اصل دلچسپی‘ شروع ہوگی۔
’’ایکناتھ شندے کو بھی ڈر ہے‘‘
اس معاملے میں ممبئی کانگریس کے ترجمان سچن ساونت نے کہا کہ’’ایکناتھ شندے نے ممبئی میں منتخب ہونے والے اپنے سبھی ۲۹؍ کارپوریٹرو ںکو ہوٹل میں قید رکھا ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ’ آپریشن کمل‘ ریاست ، ممبئی اور ملک کیلئے کتنا خطرناک ہے۔یہ ملک کے آئین اور جمہوریت کے لئےبھی نقصاندہ ہے۔‘‘ انہوںنے مزید کہا کہ’’پہلے شیو سینا اور اس کے بعد این سی پی کو تقسیم کیا گیا اور ایکناتھ شندے کو بھی ڈر ہے کہ کہیں ان کے اراکین اسمبلی کوبھی توڑ نہ دیں۔‘‘
’’ورکشاپ کیلئےرکھا گیا ہے تو پولیس کیوں تعینات ہے؟‘‘
این سی پی ( شردپوار)کے ترجمان مہیش تپاسے سے رابطہ قائم کرنے پرانہوں نے کہا کہ ’’ایکناتھ شندے، ادھو ٹھاکرے کی شیو سینا کو ختم کرنے چلے تھے لیکن ممبئی والوں نے انہیں ان کی جگہ بتا دی اسی لئے شندے کے صرف ۲۹؍ جبکہ ادھو شیو سینا کے ۶۵؍ امیدوار بی ایم سی الیکشن میں منتخب ہوئے ہیں۔اس ناکامی کے بعد ا نہوں نے اپنی اہمیت ظاہر کرنے کیلئے اپنے کارپوریٹرو ںکو ہوٹل میں قید کر رکھا ہے۔ ایکناتھ شندے کو ڈر ہے کہ جو منتخب ہوئے ہیں، وہ بھی کہیں بی جے پی میں شامل نہ ہو جائے اس لئے انہیں پانچ ستارہ ہوٹل میں قیدیوں کی طرح رکھا گیا ہے۔‘‘ جب انہیں یہ بتایا گیا کہ ایکناتھ شندے تو صفائی دے رہے ہیںکہ انہیں تربیت دینے کیلئے اوررہنمائی کرنے کیلئے وہاں ہوٹل تاج لینڈ میں بلایا گیا ہے تو مہیش تپاسے نے کہا کہ ’’اگر ان ۲۹؍ کارپوریٹروں کو ورکشاپ کیلئے رکھا گیا ہے تو پھر مہاراشٹر پولیس کو کیوں تعینات کیا گیا ہے بلکہ مَیں یہ کہوں گا کہ ملک کی سیکوریٹی فورس کو بھی وہاں تعینات کر دینا چاہئے اور ٹینک ( توپ) بٹھا دینا چاہئے۔‘‘