کانگریس،سماج وادی پارٹی اور ڈی ایم کے کے اراکین نے دستخط کردیئے ، کے سی وینوگوپال نے کہا کہ ’’لوک سبھا کا کام کاج پی ایم او سے چلا یا جارہاہے‘‘
اپوزیشن کے ایم پی پارلیمنٹ کی سیڑھیوں پر احتجاج کرتے ہوئے۔ تصویر:پی ٹی آئی
اپوزیشن اور اسپیکر اوم برلا کے درمیان گزشتہ ایک ہفتے سے جاری تکرار کے بعد اب اپوزیشن نے ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کافیصلہ کیا ہے۔اس تحریک کیلئے تیار کئے گئے کاغذات پر کانگریس، سماجوادی پارٹی اور ڈی ایم کے کے اراکین نے دستخط کردیئے ہیں جبکہ ’انڈیا‘اتحاد میں موجود تمام پارٹیاں اس کے حق میں ہیں۔
یہ واضح رہے کہ لوک سبھا میں حکومت کی اکثریت کی وجہ سے یہ تحریک پاس نہیں ہوسکے گی تاہم یہ ریکارڈ کا حصہ ضرور بنے گی کہ اوم برلا کے رویہ کی وجہ سے اپوزیشن نے ان پر عدم اعتماد کا اظہار کیاتھا۔کانگریس کے فلور لیڈران اپوزیشن کی تمام پارٹیوں سے بات چیت کر رہے ہیں تاکہ یہ تحریک اپوزیشن کی مشترکہ تحریک ہو۔
اس سے پہلے کانگریس لیڈر کے سی وینو گوپال نے اسپیکر اوم برلا کے خلاف کارروائی کا اشارہ دیا۔ انہوں نے لوک سبھا کے کام کاج پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ’’پارلیمنٹ ایسی جگہ بن گئی ہے جہاں اپوزیشن کی کوئی آواز نہیں ہے۔‘‘ پارلیمنٹ کے احاطے میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے وینو گوپال نے کہاکہ پارلیمانی قواعد کے مطابق اپوزیشن لیڈر شیڈو پرائم منسٹر ہوتا ہے لیکن یہاں اپوزیشن لیڈر کو ایوان میں بولنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ حکومت کچھ بھی کہہ سکتی ہے اور کسی پر بھی حملہ کر سکتی ہے۔کے سی وینو گوپال نے الزام لگایا کہ لوک سبھا کے کام کاج کو اسپیکر نہیں پی ایم او چلا رہاہے۔
ذرائع کے مطابق تحریک عدم اعتماد کا فیصلہ انڈیا بلاک کی اُس میٹنگ میں کیاگیا جو کانگریس کے صدر اور راجیہ سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھڑگے کی صدارت میں ہوئی تھی ۔