گیانیش کمار کےخلاف تحریک مواخذہ کا ایک اور نوٹس دیا جائیگا، پہلے سے زیادہ اراکین کی دستخط لئے جائیں گے۔
EPAPER
Updated: April 20, 2026, 9:44 AM IST | Mumbai
گیانیش کمار کےخلاف تحریک مواخذہ کا ایک اور نوٹس دیا جائیگا، پہلے سے زیادہ اراکین کی دستخط لئے جائیں گے۔
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی مبینہ جانبداریوں سے پریشان اپوزیشن ان کو عہدہ سے ہٹانےکی ایک اور کوشش کریگی۔ یاد رہے کہ ان کے خلاف تحریک مواخذہ کے نوٹس لوک سبھا اسپیکر اور راجیہ سبھا کے چیئرمین کو دیئے جاچکے ہیں جنہیں مارچ میں مسترد کردیا گیا۔ اپوزیشن ایک بار پھر نئے سرے سے نوٹس جمع کرانے کافیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کےمطابق اپوزیشن کا منصوبہ ہے کہ اس بارگیانیش کمارکے خلاف لوک نوٹس پر لوک سبھا سے کم ازکم ۲۰۰؍ اور راجیہ سبھاسے ۸۰؍ ممبران پارلیمنٹ کے دستخط حاصل کئے جائیں۔ چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے سےمتعلق نوٹس کیلئے لوک سبھا میں ۱۰۰؍ اور راجیہ سبھا میں ۵۰؍ممبران پارلیمنٹ کے دستخط کافی ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’قوم سے خطاب‘‘ یا انتخابی تشہیر؟ ملک بھر میں بحث
قابل ذکر ہے کہ ۱۲؍مارچ کو گیانیش کمارکے خلاف نوٹس جمع کرایاگیاتھا جس پر لوک سبھا میں اپوزیشن کے ۱۳۰؍ممبران اور راجیہ سبھا کے ۶۳؍ ممبران کے دستخط تھے۔اپوزیشن نے گیانیش کمارپر ایک مخصوص جماعت کیلئے کام کرنے اور دیگر۷؍ الزامات عائد کئے تھے۔
یہ نوٹس ترنمول کانگریس کی قیادت میں جمع کرایاگیاتھا۔ اپوزیشن جماعتیں لگاتار گیانیش کمار پر الزام لگاتی رہی ہیں کہ وہ حکمراں جماعت بی جےپی کو فائدہ پہنچانے کیلئے کام کررہے ہیں۔ گیانیش کمار کے خلاف نوٹس میں ۷؍ الزامات کی فہرست دی گئی تھی، جس میںان پر جانبداری اور امتیازی سلوک اختیار کرنے اور انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات میں جان بوجھ کر رکاوٹ ڈالنے اور ایسے اقدامات شامل ہیں جن کے نتیجے میں ووٹروں کو حق رائے دہی سے محروم کیا گیا۔ ملک کی تاریخ میں گیانیش کمار پہلے الیکشن کمشنر ہیں جن کے خلاف تحریک مواخذہ کا نوٹس دیاگیا۔