Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’قوم سے خطاب‘‘ یا انتخابی تشہیر؟ ملک بھر میں بحث

Updated: April 20, 2026, 9:30 AM IST | Mumbai

بی جے پی لیڈروں نے خواتین ریزرویشن پر وزیراعظم کے خطاب کا دفاع کیا مگر اپوزیشن نے انتخابی ضابطہ ٔ اخلاق کی خلاف ورزی قراردیا، الیکشن کمیشن میں شکایت۔

Prime Minister Modi. Photo: INN
وزیر اعظم مودی۔ تصویر: آئی این این

خواتین ریزرویشن  کےنام پر لوک سبھا کی سیٹیں  بڑھانے کیلئے پیش کئے گئے آئینی ترمیمی  بل کو پاس کرانے میں ناکامی کے بعد سنیچر کو کیاگیا  وزیراعظم نریندر مودی کا ’’قوم کے نام خطاب‘‘   ملک بھر میں   موضوع بحث بن گیا ہے۔   اپوزیشن اور ملک کے دانشور طبقہ نے ’’انتخابی تشہیر‘‘، سرکاری مشنری کا غلط استعمال  اور انتخابی ضابطہ اخلاق کی کھلی خلاف ورزی قراردیا ہےجبکہ بی جے پی  اوراس کے لیڈروں  نے مودی کو ’’خواتین کے حقوق کا چمپئن‘‘ بنا کر پیش کرتے ہوئے  دفاع کیا ہے۔   

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اتوار کے روز وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ سیاسی فائدے کے لیے سرکاری نظام کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں وزیر اعظم کا قوم سے خطاب دراصل انتخابی مہم کا حصہ تھا، جسے سرکاری پلیٹ فارم کے ذریعے پیش کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: اکولہ کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر ہفتہ وصولی کے الزام میں معطل

’’غیر قانونی انتخابی مہم، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی‘‘

بنگال میں ہگلی ضلع کے تارکیشور میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے خواتین ریزرویشن پر  وزیراعظم نریندر مودی کے قوم کے نام خطاب کو ’’غیر قانونی انتخابی مہم‘‘  اورانتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیا۔  انہوں نے کہا کہ ’’انہوں نے سیاسی مہم کیلئے حکومت کی مشنری کا غلط استعمال کیا۔ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور اس کے خلاف شکایت درج کرائیں گے۔‘‘

بی جے پی کو ممتا بنرجی کا منہ توڑ جواب

خواتین کو بااختیار بنانے  کے نام پر وزیراعظم کے دعوؤں کا سخت جواب دینے کے ساتھ ہی ممتا بنرجی نے انہیں   کھلا چیلنج بھی دیا ہے۔  بنگال کی وزیراعلیٰ نے وزیراعظم کے ’’قوم کے نام خطاب‘‘ کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’لوک سبھا میں ہمارے اراکین کی تعداد میں خواتین  ۳۷ء۹؍  فیصد ہیں۔ راجیہ سبھا میں یہ فیصد ۴۶؍ ہے۔ ‘‘ انہوں نے  وزیراعظم  مودی کے اس دعویٰ کو دروغ گوئی قرار دیا کہ اپوزیشن  نے ۳۳؍ فیصد خواتین ریزرویشن کا راستہ روک دیا ہے اور کہا کہ ٹی ایم سی من مانے طریقے سے پارلیمنٹ کی سیٹیں بڑھانے کے خلاف ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: پونے ایئر پورٹ پر حادثے کے سبب گھنٹوں تک پروازیں معطل رہیں

۲۹؍ منٹ میں ۵۸؍ بار کانگریس کا ذکر

   کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے   اپنےسخت رد عمل  میں کہا ہے کہ ’’ وزیر اعظم نے ایک سرکاری خطاب کو سیاسی تقریر میں تبدیل کر دیا، جس میں الزامات تراشی اور جھوٹے دعوے کیے گئے۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ انتخابی ضابطہ ٔ  اخلاق نافذ ہونے کے باوجود وزیر اعظم نے سرکاری مشینری کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن، خصوصاً کانگریس کو نشانہ بنایا، جو جمہوریت اور آئین کے خلاف ہے۔ کانگریس صدر نے نشاندہی کی کہ ۲۹؍ منٹ کے اپنے خطاب میں  وزیراعظم نے  ۵۹؍ بار کانگریس کا ذکر کیا جبکہ خواتین کا ذکر برائے نام تھا جو اُن کی ترجیحات کو بیان کرتا ہے۔ 

 منوج جھا نےبھی سوال اٹھایا

راجیہ سبھا کے  رکن اور آر جے ڈی کے قومی ترجمان منوج کمار جھا نے وزیر اعظم نریندر مودی کے’’قوم سے خطاب‘‘پر الیکشن کمیشن کو مخاطب کیا۔ سوشل میڈیا پوسٹ میں  انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ٹیگ کرکے لکھا ہے کہ ’’گیانیش جی، ہو سکتا ہے آپ اتفاق نہ کریں، لیکن روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے، میں ایک درخواست کرنا چاہوں گا۔ ہمارے معزز وزیر اعظم کا  ’قوم سے خطاب‘ انتخابی تقریر نظر آیا، اس لیے میری عاجزانہ درخواست ہے کہ اسے ان کے انتخابی اخراجات میں شامل کیا جائے۔‘‘

 ہندوستانی سیاست میں نئی پستی: کپل سبل

کپل سبل نے سنیچر کو وزیراعظم خطاب مکمل ہوتے ہی  جاری کئے گئے ایک بیان میں اسے ہندوستانی سیاست کی نئی پستی سے تعبیرکیا۔ اس افسوس کے ساتھ کہ’’میں جانتا ہوں کہ الیکشن کمیشن یا کوئی ادارہ کچھ نہیں کرےگا۔‘‘ وزیراعظم  کے ذریعہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی بار بار  خلاف ورزی   کئے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے سبل نے دردمندی کے ساتھ کہا کہ ’’میں اپنے وزیراعظم سے بس اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ آپ نے دفتر وزیراعظم کو اتنی پستی میں کیوں پہنچا دیا۔ ماضی میں کبھی کسی وزیراعظم نے ایسا نہیں کیا۔ آپ الیکشن جیت سکتے ہیں مگر ادارے کو تباہ نہ کریں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: پیارے خان کے بیان پر نونیت رانا بھڑک اٹھیں، اشتعال انگیز الزامات

اُدھر تمل ناڈو جہاں ۲۳؍ اپریل کو ووٹ ڈالے جائیں گے، کے وزیراعظم ایم کے اسٹال جو ڈی ایم کے سربراہ بھی ہیں، نے  بی جےپی اور مودی کو آڑے ہاتھوں لیتے  ہوئے کہا ہے کہ خواتین ریزرویشن کے نام پر پارلیمانی سیٹوں کی تعداد میں اضافہ کی حکومت کی کوشش اس پر الٹا پڑ گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی متعدد اہم شخصیات اور صارفین نےا سے مودی سرکار کا ’’سیلف گول‘‘ قرار دیاہے۔ 

سی پی آئی نے انتخابی کمیشن سے شکایت کی

سی پی آئی  کے راجیہ سبھا کے رکن سندوش کمار نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو  خط لکھ کر   وزیر اعظم نریندر مودی کے قوم کے نام   خطاب کو ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ (ایم سی سی) کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے اس معاملے میں فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔۱۹؍ اپریل کو لکھے گئے خط میں رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ وزیر اعظم کا یہ خطاب اس وقت  آیا جب۵؍ ریاستوں میں انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہے۔ یہ خطاب سیاسی نوعیت کا تھا، جس میں جانبدارانہ باتیں اور ’منتخب حقائق‘ پیش کئے گئے۔ ان کا مقصد ایک ایسے مسئلے پر عوامی رائے کو متاثر کرنا تھا جس پر اس وقت زوردار سیاسی بحث جاری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آر ایس ایس دفتر کی سیکوریٹی کیخلاف عرضداشت

 بی جےپی لیڈروں نے دفاع کیا

دوسری طرف بی جےپی  نے وزیراعظم کے قوم کے نام خطاب کا دفاع کیا ہے اورانہیں خواتین کے حقوق کا چمپئن قرار دیا ہے۔ پارٹی  نے اپوزیشن کے خلاف اپنے احتجاج کا سلسلہ اتوار کو بھی جاری رکھا اور الزام لگایا کہ اس نے خواتین کو بااختیار بنانے کی مودی حکومت کی ایک اہم کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK