حکومت کی ہدایت کے بعد بھی مقررہ تاریخ تک اپنی تفصیلات ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے میں ناکام رہے۔
EPAPER
Updated: September 18, 2025, 3:48 PM IST | Agency | Solapur
حکومت کی ہدایت کے بعد بھی مقررہ تاریخ تک اپنی تفصیلات ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے میں ناکام رہے۔
جعلی اساتذہ بھرتی معاملہ سامنے آنے کے بعد ریاستی حکومت نے اساتذہ کی جانچ کیلئے مہم چلا رکھی ہے جس کی رو سے ریاست بھر کے اسکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ کو ان کے دستاویز آن لائن طریقے سے حکومت کے پاس جمع کروانے کیلئے کہا گیا ہے۔ جن اساتذہ نے اب تک ایسا نہیں کیا ہے ، اب کی ان کی تنخواہیں روک لینے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔ اس حکم کی وجہ سے شولاپور کے ۳؍ ہزار سے زائد اساتذہ مشکل میں آ گئے ہیں جن کی تنخواہیں روک لینے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ ناگپور میں تقریباً ۵۲۰؍ جعلی اساتذہ بھرتی کا معاملہ سامنے آیا تھا جس کے بعد حکومت نے ریاست بھر کے اساتذہ کی جانچ کا فیصلہ کیا اور حکم جاری کیا کہ ایسے اساتذہ جن کی تقرری ۲۰۱۲ء اور ۲۰۲۵ء کے درمیان ہوئی ہے ، وہ اپنے اپنے دستاویز جیسے تقررنامہ ذاتی اندراج (رجسٹریشن) اور ملازمت سے وابستگی کی تفصیل وغیرہ ویب سائٹ پر اپ لوڈ کریں۔اس کیلئے ۳۱؍ اگست آخری تاریخ دی گئی تھی لیکن بڑے پیمانے پر اساتذہ اس تاریخ تک اپنے دستاویز جمع نہیں کروا پائے، لہٰذا تاریخ میں ۱۵؍ ستمبر تک کی توسیع کی گئی۔ اب یہ تاریخ بھی گزر گئی ہے لیکن بڑی تعداد میں اب بھی اساتذہ نے اپنے دستاویز جمع نہیں کرائے ہیں ، ایسے اساتذہ کی تنخواہیں روک لینے کا حکم دیا گیا ہے۔
اطلاع کے طابق شولا پور میں ۹۸۹؍ نجی پرائمری اور سیکنڈری اسکول ہیں جن میں ۱۵؍ ہزار ۲۹۶؍ اساتذہ پڑھا رہے ہیں۔ ان میں سے ۲۲۱؍ اسکول ایسے ہیں جہا ں اساتذہ نے اب تک اپنے دستاویز اپ لوڈ نہیں کئے ہیں۔ دستاویز جمع نہ کروانے والے اساتذہ کی تعداد ۳؍ ہزار ۸۹؍ ہے۔ محکمہ تعلیم کے سپرنٹنڈنٹ نے پرنسپل سمیت ان اساتذہ کی تنخواہیں روک لینےکا حکم جاری کیا ہے۔ جب تک دستاویز جمع نہیں کر دیئے جاتے تب تک انہیں تنخواہ نہیں ملے گی۔ یاد رہے کہ حکومت کے فرمان کی وجہ سے ریاست بھر میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ اساتذہ کی ملازمت خطرے میں پڑنے کا خدشہ ہے۔ دیگر اضلاع میں بھی کئی اساتذہ نے معلومات اپ لوڈ نہیں کی ہے۔