Inquilab Logo Happiest Places to Work

آسکر نامزد ’’دی وائس آف ہند رجب‘‘ پر ہندوستان میں پابندی، تنازع

Updated: March 21, 2026, 9:07 PM IST | New Delhi

آسکر کے لیے نامزد فلم کی ہندوستان میں ریلیز روکے جانے پر ہدایت کار اور سیاست دانوں نے آزادی اظہار پر سوال اٹھا ئے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

آسکر کے لیے نامزد فلم The Voice of Hind Rajab کی ہندوستان میں ریلیز کو روکے جانے کے فیصلے نے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے، جہاں ہدایت کار کوثر بن ہانیہ نے اس اقدام پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر طنزیہ انداز میں پوچھا کہ کیا ’’دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت‘‘ اور ’’مشرق وسطیٰ کی واحد جمہوریت‘‘ کے درمیان تعلقات اتنے کمزور ہیں کہ ایک فلم انہیں متاثر کر سکتی ہے۔ یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب ممبئی کے ڈسٹری بیوٹر منوج نندوانے نے دعویٰ کیا کہ سی بی ایف سی نے فلم کو کلیئرنس دینے سے انکار کر دیا۔ ان کے مطابق بورڈ نے فلم کو ’’بہت حساس‘‘ قرار دیا اور خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ نندوانا نے یہ بھی کہا کہ انہیں زبانی طور پر بتایا گیا کہ فلم کو منظوری نہیں دی جائے گی۔
فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘ ایک جذباتی اور حقیقی واقعے پر مبنی ہے، جو غزہ میں ایک فلسطینی بچی ہند رجب کی آخری فون کالز پر مرکوز ہے، جو اسرائیلی فائرنگ میں ہلاک ہو گئی تھی۔ فلم میں Palestine Red Crescent Society کے اہلکاروں کی ناکام ریسکیو کوششوں کو دکھایا گیا ہے اور اس میں اصل آڈیو ریکارڈنگز استعمال کی گئی ہیں، جس نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی۔ ادھر، اس فیصلے پر ہندوستان کے سیاسی حلقوں میں بھی ردعمل دیکھنے کو ملا۔ اپوزیشن لیڈر ششی تھرور نے اس پابندی کو ’’شرمناک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک جمہوریت میں فلموں کی نمائش آزادی اظہار کی علامت ہوتی ہے اور اسے سفارتی تعلقات سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ فلموں یا کتابوں پر بیرونی ردعمل کے خوف سے پابندی لگانا ایک بالغ جمہوریت کے شایان شان نہیں۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات حالیہ برسوں میں مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے فروری میں اسرائیل کا دورہ کرتے ہوئے کھلے الفاظ میں کہا تھا کہ ہندوستان ہر حال میں اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔ ایسے میں فلم کی سنسرشپ کو بعض مبصرین سفارتی حساسیت سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ تازہ پیش رفت میں، فلمی حلقوں اور آزادی اظہار کے حامی گروپس کی جانب سے بھی اس فیصلے پر بحث تیز ہو گئی ہے، جہاں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا تخلیقی اظہار کو جغرافیائی سیاست کے تحت محدود کیا جانا چاہیے۔ تاہم، حکام کی جانب سے اب تک اس معاملے پر کوئی باضابطہ تفصیلی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے، جس سے یہ تنازع مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK