Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہمارا کاسٹ سرٹیفکیٹ فرضی نہیں ، نہ ہی ہم کسی ملک سے یہاں آئے ہیں: سحر شیخ

Updated: April 21, 2026, 3:59 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

ایم آئی ایم کارپوریٹر کی والدیونس شیخ کے ساتھ پریس کانفرنس ،فرضی سرٹیفکیٹ سے متعلق الزام کو بے بنیاد بتایا ، بدنام کرنے والوں کو کورٹ میں گھسیٹنے کی دھمکی ۔

Sahar Sheikh And Her Father Sahar Younis Sheikh During The Press Conference. Photo: INN
سحر شیخ او ر ان کے والد سحر یونس شیخ پریس کانفرنس کےد وران۔ تصویر:آئی این این
’’کیسے ہرایا..‘ طنزیہ جملے سے مشہور ہونے وا لی ممبرا کی کل ہند مجلس اتحاد المسلمین ( اے آئی ایم آئی ایم ) کی کارپوریٹر سحر شیخ اور ان کے والد سحر یونس شیخ نے پیر کو تھانے کے مانپاڑہ علاقے میں واقع اننت  بوٹک ہال میں ایک پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نےیہ دعویٰ کیا کہ ان کا ذات کا سرٹیفکیٹ فرضی نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی اور ملک سے یہاں آئے ہیں۔ اس وضاحت کے ساتھ ہی انہوں نےیہ اعلان کیاکہ تھانے کے تحصیلدار اومیش پاٹل نے جنہوں نے یہ آڈر دیا ہے کہ سحر شیخ کے والد یونیس شیخ کا او بی سی سرٹیفکیٹ (مسلم تیلی) فرضی پایا گیا ہے ، اس تحصیلدار کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے ان کو نوٹس بھیجا گیا ہے اور ان سبھی کو کورٹ میں کھینچیں گے ۔ جنہوں نے ان کی بدنامی کرنے کی اور ہمارے تئیں عوام کے دلوںمیں شبہات پیدا کئے ہیں ۔
واضح رہے کہ تھانے تحصیلدار نے صدیقی فرح کی شکایت پر یونس شیخ کے او بی سی سرٹیفکیٹ کی جانچ کی تھی اور اپنے ۹؍ صفحات پر رپورٹ میں ان کے سرٹیفکیٹ کو فرضی قرار دیا تھا اور ان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرنےکی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت متعلقہ افسر کو دی تھی۔اسی سلسلے میں جاوید صدیقی نے پریس کانفرنس میں یونس شیخ کے سرٹیفکیٹ کو فرضی قرار دیا تھا اور اس کی بنیاد پر سحر کے کارپوریٹر کے عہدے کا کالعدم ہونے کا اندیشہ بھی ظاہر کیا تھا۔
 
 
اسی ضمن میں کارپوریٹر سحر اور یونس شیخ نے کہا کہ ان کا کوئی دستاویز فرضی نہیں ہے۔ ہمارے ۲۰۱۱ءمیں بنائے گئے کاسٹ سرٹیفکیٹ کو ۲۰۲۶ء میں فرضی بتایا جا رہا ہے۔سحر شیخ نے بتایاکہ ’’ میرے دادا غازی آباد میں ضرور پیدا ہوئے ہیں لیکن ۱۹۵۵ء سے مہاراشٹر میں رہ رہے ہیں۔انہوں نے اسکول اور کالج کی تعلیم مہاراشٹر میں ہی مکمل کی ہے اور میرے والد بھی مہاراشٹر میں ہی رہے ہیں اس کے باوجود تحصیلدار کی رپورٹ میں کہا جارہا ہے کہ وہ غازی آباد میں رہتے ہیں ممبرامیںنہیں۔ انہوںنے کہا کہ ’’ فرضی سرٹیفکیٹ پیش کرنے کا جو الزام عائد کیاجارہا ہے وہ بے بنیاد ہے۔‘‘
 
 
کارپوریٹر سحر شیخ نے کہا کہ ’’ ہر ذات کے سرٹیفکیٹ پر ایک ٹوکن نمبر ہوتا ہے ۔ ہمارے کاسٹ سرٹیفکیٹ پر بھی ہے ۔ حق معلومات کے تحت مَیں نے یہ معلومات طلب کی تھی کہ میرے کاسٹ سرٹیفکیٹ کے ٹوکن نمبر فلاں پر کس شخص کو ذات کا سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا ہے ؟ اس کے جواب میں ہمیں بتایا گیا کہ تحصیلدار دفتر میں ایسا ٹوکن نہیں ملا ہے جو کہ ایک جھوٹ ہے کیونکہ ہمیں اس ٹوکن نمبر پر سرٹیفکیٹ جاری کیاگیا ہے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کےپاس پورا ریکارڈ نہیں ہے ۔ اگر اس طرح یہ ریکارڈ نہ ملنے کی اس طرح غلط تحریری معلومات دیں گے تو کئی سرٹیفکیٹ فرضی ہو جائیں گے اور یہ سنگین مسئلہ ہے۔ ایسا لگتا ہے ان کے پاس ۲۰۰۸ء سے ۲۰۱۲ء تک کے ریکارڈ ان کے پاس نہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK