چلتی بس میں آبروریزی: بس میں سی سی ٹی وی نہیں تھا، دیگر کئی بے ضابطگیوں کے باوجود اسے چلانے کی اجازت کیوں تھی؟
EPAPER
Updated: September 02, 2026, 10:57 AM IST | Agency | New Delhi
چلتی بس میں آبروریزی: بس میں سی سی ٹی وی نہیں تھا، دیگر کئی بے ضابطگیوں کے باوجود اسے چلانے کی اجازت کیوں تھی؟
نوئیڈا سے دہلی کے درمیان چلتی بس میں ۱۶؍ سالہ بچی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا معاملہ سامنے آنے کے بعد گاڑی کی ضابطوں اور قوانین کی خلاف ورزیوں کے کئی معاملات نے سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ بس کے ڈرائیور اور کنڈکٹر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ بس پر ۱۱؍ ٹریفک چالان بقایا ہیں جن کی مجموعی رقم ۶۳؍ ہزار روپے ہے۔ ان میں ریٹرو ریفلیکٹو ٹیپ اور اسپیڈ لمٹ ڈیوائس سے متعلق خلاف ورزیاں، بغیر اجازت نامہ کے گاڑی چلانا یا پرمٹ کی شرائط کی خلاف ورزی اور مقررہ رفتار سے تیزگاڑی چلانے کے معاملات شامل ہیں۔ ان میں سے ۷؍ چالان جولائی میں جاری کیے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: اساتذہ بھرتی بدعنوانی کے سبب ملازمت کھونے والی ممتا بنرجی کی بھتیجی کی خودکشی
حیرت انگیز طور پر ایسی بس کو نوئیڈا سے دہلی کے کشمیری گیٹ تک تقریباً ۴۷؍ کلومیٹر کے سفر کے دوران کہیں نہیں روکا گیا اور اس بیچ بس میں بچی کے ساتھ زیادتی ہوتی رہی۔ بس چلہ بارڈر، میور وہار اور گیتا کالونی جیسے اہم مقامات سے گزری مگر کسی مقام پر کوئی الرٹ سامنے نہیں آیا۔
تحقیقات میں یہ بھی معلوم ہوا کہ بس کی کھڑکیوں پر موٹے پردے تھے، جس سے باہر سے اندر کا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ حکام کے مطابق یہ مسافروں کی حفاظت سے متعلق مقررہ ضوابط کے منافی ہے، کیونکہ۲۰۱۲ء کے دہلی اجتماعی زیادتی کیس کے بعد تجارتی مسافر گاڑیوں میں اسے ممنوع کر دیا گیا تھا۔ بس میں نصب سی سی ٹی وی کیمرا بھی خراب حالت میں ملا۔ سوال یہ ہے کہ بس کے خلاف جب متعدد خلاف ورزیاں پہلے سے درج تھیں تو سڑک پر اس کے چلنے پر روک کیوں نہیں لگائی گئی۔