دھاراوی کے مکینوں کی جانب سے ۶؍ مطالبات کے ساتھ سنویدھان چوک پرفارم پُر کروانے کی مہم شروع کرنے پرپولیس نے نوٹس دیا ہے جس پردھاراوی بچاؤ آندولن نےسوال اٹھایا ہے، یہ بھی پوچھا کہ کیا ایسی مہم کے لئے بھی پولیس کی اجازت ضروری ہوگی؟
EPAPER
Updated: September 02, 2026, 11:27 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Dharavi
دھاراوی کے مکینوں کی جانب سے ۶؍ مطالبات کے ساتھ سنویدھان چوک پرفارم پُر کروانے کی مہم شروع کرنے پرپولیس نے نوٹس دیا ہے جس پردھاراوی بچاؤ آندولن نےسوال اٹھایا ہے، یہ بھی پوچھا کہ کیا ایسی مہم کے لئے بھی پولیس کی اجازت ضروری ہوگی؟
’’کیا عوام کےآئینی اورجمہوری حقوق اڈانی کے ہاتھوں گروی رکھ دیئے گئے ہیں؟‘‘ دھاراوی کے مکینوں کے ۶؍ مطالبات کے ساتھ سنویدھان چوک پرفارم پُر کروانے کی مہم شروع کرنے پرپولیس کا نوٹس جاری کرنے پردھاراوی بچاؤ نے آندولن کا یہ سوال کیا ۔یہ بھی پوچھا کہ کیا اس طرح کی مہم کے لئے بھی اب پولیس کی اجازت ضروری ہوگی ؟یہ مہم آئندہ ۲؍ماہ تک دھاراوی کے الگ الگ حصوں میں جاری رہے گی۔ فارم بھروانے کا مقصد اورمطالبہ بینر پرنمایاں کیا گیا تھا ۔ دراصل دھاراوی میں مکینوں اور تاجروں کو۶؍ مطالبات کے ساتھ فارم بھروانے کے لئے ۳۱؍اگست سے سنویدھان چوک سے شروع کی جانے والی مہم کو پولیس نے اجازت نہ لینے کا حوالہ دیتے ہوئے نوٹس دے کر روک دیا تھا۔بالآخر ایک دن بعدیکم ستمبر۴؍ بجے سے یہ مہم شروع کی گئی۔
پولیس نے نوٹس میں کیا لکھا ؟
دھاراوی بچاؤ آندولن کےفعال رکن اُلیش گاجا کوش اوردیگر کوجاری کردہ نوٹس میں دھاراوی پولیس کے سینئرانسپکٹر اُدے سایسکرکے ذریعے اولاً احتجاج اور دھرنے کےلئے آزاد میدان میںہائی کورٹ کے ذریعے جگہ مختص کرنے کا حوالہ دیا گیا۔ اس کےبعد ممبئی پولیس کمشنریٹ کے حوالے سے لکھا گیا کہ۲۴؍اگست سے ۷؍ستمبر شب میں۱۲؍بجے تک حکم امتناعی نافذ کیا گیا ہے اور۵؍افراد سے زائد کےجمع ہونے پرپابندی عائد کی گئی ہے،اس لئے اجازت نہیںدی جارہی ہے۔ اس کےباوجود اگرآپ کی مہم کےذریعے نظم ونسق کامسئلہ پیدا ہوا تو دھاراوی بچاؤ آندولن کےذمہ داران کے خلاف ایکشن لیاجائے گا۔اس کے علاوہ اس نوٹس کو حسبِ ضرورت آپ کے خلاف عدالت میں ثبوت کے طور پربھی پیش کیا جاسکتا ہے ۔
عام آدمی کے حقوق مذاق بن کررہ گئے ہیں
سابق رکن اسمبلی بابو راؤ مانے اورکامریڈ نصیرالحق نےنمائندۂ انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ عام آدمی کے حقوق مذاق بن کررہ گئے ہیں۔ دھرنا احتجاج اورمورچہ توالگ فارم بھروانے اور دستخط لینے کے لئےبھی پولیس نوٹس جاری کررہی ہے۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عام آدمی کے آئینی اور جمہوری حقوق اڈانی کے ہاتھوں گروی رکھ دیئے گئے ہیں۔‘‘ان کا یہ بھی کہناتھا کہ ’’ہم سب بھی تیارہیں، اسی لئے نوٹس کے باوجود مہم شروع کی گئی اورآئندہ ۲؍ماہ تک جاری رہے گی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: صارفین بجلی کی آنکھ مچولی اور بیسٹ بجلی چوری سے پریشان
۳؍گھنٹے میں ۱۶۷۳؍فارم بھرے گئے
دھاراوی بچاؤ آندولن کی جانب سےبتایا گیا کہ یکم ستمبر کو پہلےدن ۳؍ گھنٹے میں ۱۶۷۳؍ مکینوں نے فارم بھرکر اس مہم اور ۶؍ مطالبات کی حمایت کی ۔
فار م میںدرج ۶؍ نکا ت کیا ہیں؟
(۱)کٹ آف ڈیٹ کی شرط ختم کی جائے (۲) سبھی مکینوں کو قانونی قرار دے کر انہیں مکان کے بدلے مکان اوردکان کے بدلے دکان دینے کیلئے حکومت کےاعلان کےمطابق جی آر جاری کیاجائے (۳) سبھی دھاراوی واسیوں کی بازآبادکاری دھاراوی میں ہی ہوگی اور سب کو ۵۰۰؍اسکوائر فٹ کا مکان دیا جائے گا ، اس کا بھی جی آر نکالا جائے (۴) ماسٹر پلان کا نمونہ جاری کیا جائے (۵) بی ایم سی کی عمارتوںاور چالیوں میں رہنے والوں کو ۷۵۰؍ اسکوائر فٹ کا مکان دیا جائے (۶) صنعتکاروں اور تاجروں کو ان کی دکانوں اورگالوں کے بقدر جگہ دی جائے ۔